منگل‬‮ ، 25 اگست‬‮ 2026 

وزیراعظم کے شکایت سیل میں بیٹی نے باپ کیخلاف شکایت درج کروا دی،جانتے ہیں گل نیرہ نے کیا الزام عائد کیا ؟

datetime 11  مارچ‬‮  2019 |

پشاور( آن لائن )وزیراعظم عمران خان نے عوام کے مسائل کے حل کے لیے شکایت پورٹل کا افتتاح کیا تھا جس میں عام شہری اپنی شکایات درج کرواتے ہیں جن پر متعلقہ محکموں کی جانب سے ایکشن لیا جاتا ہے۔ تاہم اب عوام کی سہولت کے لیے بنائے گئے وزیراعظم شکایت سیل میں خیبرپختونخواہ سے تعلق رکھنے والی لڑکی نے اپنے والد کے خلاف ہی شکایت درج کروا دی ۔

تفصیلات کے مطابق خیبرپختونخواہ سے تعلق رکھنے والی لڑکی نے اپنے باپ پر کاغذات چھیننے کا الزام عائد کر دیا ہے۔ فلپائنی نژاد پاکستانی خاتون گل نیرہ نے اپنے والد پر پاسپورٹ اور شناختی کارڈ چھین کر فلپائن میں چھوڑنے کا الزام عائد کیا ۔ خاتون نے دستاویزات حاصل کرنے کے لیے وزیراعظم شکایت سیل سے رابطہ کیا ۔لڑکی کا کہنا ہے کہ میرے والد محمد گلہاب گل 20 سال قبل میری والدہ سے شادی کرکے مجھے پاکستان لائے تھے۔انہوں نے مجھے پڑھایا، لکھایا لیکن اب ان کی مرضی کے خلاف جانے پر والد نے مجھے فلپائن میں چھوڑ کر میرا پاسپورٹ اور قومی شناختی کارڈ چھین لیا ہے۔ اس حوالے سے ابتدائی تحقیقات میں یہ بات سامنے آئی کہ سرکاری دستاویزات پر واضح طور پر ولدیت میں محمد گلہاب گل کا نام درج ہے لیکن محمد گلہاب گل نے شکایت کنندہ کو اپنی بیٹی ماننے سے ہی انکار کردیا ہے۔خاتون کو فلپائن میں کیوں چھوڑ کر آئے والد جواب دینے سے قاصر نظر آئے تاہم متاثرہ خاتون کا کہنا ہے کہ انہیں والدین سے اور کچھ نہیں چاہئیے انہیں بس پاکستان واپس آنا ہے۔ یاد رہے کہ گذشتہ برس اکتوبر میں وزیراعظم عمران خان نے پاکستان سٹیزن پورٹل کا افتتاح کیا تھا جس کی بدولت پاکستانی عوام براہ راست اپنی شکایات و تجاویز وزیر اعظم آفس کو بھجواتے ہیں۔

متعلقہ محکموں سے عوامی شکایات کا ازالہ کروانے اور قابل عمل تجاویز پر غور کے عمل کی نگرانی وزیر اعظم آفس سے ہی کی جاتی ہے جبکہ پاکستان سیٹیزن پورٹل کی بدولت لوگ اپنے موبائل فونز میں مخصوص ایپلی کیشن کے ذریعے حکومتی اداروں تک اپنی آواز پہنچاتے ہیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں
آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)


ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…