پیر‬‮ ، 24 اگست‬‮ 2026 

صرف سیاسی پوائنٹ سکورنگ کیلئے بلاول اور مراد علی شاہ کے نام ای سی ایل میں شامل کئے گئے، چیف جسٹس نے پی ٹی آئی حکومت کو بڑا جھٹکا دیدیا، واضح اور دو ٹوک حکم دیتے ہوئے کیا ریمارکس دیدئیے

datetime 7  جنوری‬‮  2019 |

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک) میگا منی لانڈرنگ و جعلی بینک اکائونس کیس کی سپریم کورٹ میں سماعت کے دوران چیف جسٹس آف پاکستان نے جعلی بینک اکائونٹس کا معاملہ تحقیقات کیلئے قومی احتساب بیورو کو بھیج دیا ہے۔ چیف جسٹس نے نیب کو حکم دیا ہے کہ وہ معاملے کی ازسر نو تحقیقات کرے اور اپنی تحقیقات 2ماہ میں مکمل کرے۔ چیف جسٹس نے پیپلز پارٹی کے نوجوان

چیئرمین بلاول بھٹو زرداری اور وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ کا نام ایگزٹ کنٹرول لسٹ (ای سی ایل) سے نکالنے کا بھی حکم دیا ہے۔ چیف جسٹس کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے تین رکنی بنچ جس میں جسٹس اعجاز الاحسن اور جسٹس فیصل عرب بھی شامل ہیں نے آج کیس کی سماعت کی۔ نجی ٹی وی جیو نیوز کی رپورت کے مطابق اٹارنی جنرل نے عدالت عظمیٰ کو آگاہ کیا کہ ‘وفاقی کابینہ نے ای سی ایل میں ڈالے گئے ناموں کا معاملہ جائزہ کمیٹی کو بھجوا دیا ہے اور 10 جنوری کو اس معاملے میں مزید پیشرفت متوقع ہے۔اومنی گروپ کے وکیل نے دوران سماعت کہا کہ معاملہ کابینہ کمیٹی کو بھجوا کر الجھا دیا گیا ، معلوم نہیں کتنا وقت لگے گا جس پر چیف جسٹس نے اظہار برہمی کرتے ہوئے ریمارکس دئیے کہ آپ کو مسئلہ ہے تو کابینہ کو چھوڑیں میں ای سی ایل میں نام ڈال دیتا ہوں۔ ‘آپ اصل کیس کی طرف نہیں آ رہے۔چیف جسٹس کا مزید کہنا تھا کہ ‘اومنی گروپ کے خلاف اتنا مواد آ چکا ہے کہ کوئی آنکھیں بند نہیں کر سکتا، اوپر سے چینی کی بوریاں بھی اٹھالی گئیں، یہ بتائیں کہ معاملہ اب کس کورٹ کو بھیجیں؟دوران سماعت چیف جسٹس نے جے آئی ٹی کے وکیل سے استفسار کیا کہ پہلے یہ بتائیں کہ بلاول زرداری کو کیوں ملوث کیا گیا، وہ معصوم بچہ ہے، جو صرف اپنی والدہ کی لیگیسی کو آگے بڑھا رہا ہے، آپ نے اس کا نام بھی ای سی ایل میں ڈال دیا۔ساتھ ہی

چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ کیا جے آئی ٹی نے بلاول زرداری کو بدنام کرنے کے لیے انہیں معاملے میں شامل کیا ہے یا کسی کے کہنے پر بلاول زرداری کو شامل کیا؟چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ بلاول بھٹو زرداری کا کیریئر ابھی تک بے داغ ہے، ان کے والد اور پھوپھی کا تو اس معاملے میں کوئی کردار ہوگا لیکن بلاول کا کیا کردار ہے؟ جے آئی ٹی بلاول بھٹو زرداری سے

متعلق مطمئن کرے۔جس پر جے آئے ٹی وکیل فیصل صدیقی نے عدالت عظمیٰ کو بتایا کہ جے آئی ٹی رپورٹ کے صفحہ 57 پر پارک لین کی ایک پراپرٹی کا ذکر ہے، جسے جعلی اکاؤنٹس سے خریدا گیا اور اس جائیداد میں بلاول بھٹو کے 25 فیصد شیئر ہیں۔جس پر چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ اگر شیئر ہیں تو کیسے ثابت ہوا کہ بلاول نے کوئی جرم کیا ہے؟ جائیداد کو منجمد کر دیتے ہیں

لیکن اس بنیاد پر بلاول کا نام ای سی ایل میں نہیں ڈالا جا سکتا۔دوران سماعت ایڈووکیٹ جنرل سندھ نے عدالت کے روبرو کہا کہ وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ کو شامل تفتیش کیے بغیر ان کا نام ای سی ایل میں ڈال دیا گیا۔جس پر چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ مراد علی شاہ کی عزت نفس مجروح کی جا رہی ہے، دیکھ تو لیتے کہ وہ ایک صوبے کے وزیراعلیٰ ہیں، کس ملک میں ایسا ہوتا ہے کہ دوسرے بڑے صوبے کے وزیراعلیٰ کا نام ای سی ایل میں ڈالا جائے۔اس کے ساتھ ہی چیف جسٹس نے بلاول بھٹو زرداری اور مراد علی شاہ کا نام ای سی ایل سے نکالنے کا حکم دیتے ہوئے ریمارکس دیئے کہ صرف سیاسی پوائنٹ اسکورنگ کے لیے بلاول بھٹو زرداری اور مرادعلی شاہ کے نام شامل کیے گئے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)


ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…