پیر‬‮ ، 24 اگست‬‮ 2026 

بلاول کی گرفتاری خطرناک کھیل ، اس کیلئے دل گردہ چاہیے، پیپلز پارٹی نے پی ٹی آئی حکومت کو چیلنج کردیا

datetime 30  دسمبر‬‮  2018 |

لاہور (آئی این پی ) پاکستان پیپلز پارٹی کے رہنما خورشید شاہ نے کہا ہے کہ بلاول بھٹو زرداری کی گرفتاری کے لیے دل گردہ چاہیے، ان کی گرفتاری خطرناک کھیل ہوگا،اس سے ملک افراتفری کا شکار ہو گا، بلاول بھٹو کی گرفتاری کے لیے دل اور گردہ چاہیے، سندھ میں گورنر راج لگانا ممکن نہیں، آئین اور قانون میں کوئی گنجائش نہیں، آئین کو چھیڑا گیا تو پاکستان کی سالمیت کو خطرہ لاحق ہوگا۔

وفاق کو چھیڑنا خطرناک کھیل ہوگا ، سیاسی جماعتوں کو ایسے ختم کرنے میں کامیاب نہیں ہوں گے، اس کھیل کے اثرات کے ذمہ دار یہ لوگ ہوں گے، ایسے غیر قانونی اقدام سے یہ آئین اور قانون کے کٹہرے میں کھڑے ہوں گے، عمران خان اپنی ناکامی چھپانے کے لیے اوچھے ہتھکنڈوں سے بیلنس کرنے کی کوشش کر رہے ہیں ، عمران خان نے سیاستدانوں کی گرفتاری کے علاوہ کچھ نہیں کیا۔ لاہور میں سینئر رہنما پیپلزپارٹی خورشید شاہ نے میڈیا سے غیر رسمی گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ عمران خان چاہتے ہیں ان سے وعدوں کے بارے میں کوئی سوال نہ کرے۔انہوں نے کہا کہ عمران خان عوامی مینڈیٹ سے اقتدار میں نہیں آئے، انہیں جیسے لایا گیا وہ سب جانتے ہیں اور اب ان سے وہ کام کرائے جا رہے ہیں جو کوئی سیاستدان نہ کرتا۔خورشید شاہ نے کہا کہ عمران خان نے سیاستدانوں کی گرفتاری کے علاوہ کچھ نہیں کیا، اس موقع پر ایک صحافی نے ان سے سوال کیا کہ کیا حکومت بلاول بھٹو زرداری کو گرفتار کرسکتی ہے؟اس کے جواب میں خورشید شاہ کا کہنا تھا کہ بلاول کو گرفتار کرنا ممکن نہیں لیکن ان سے کچھ بعید بھی نہیں ہے، ان کا مزید کہنا تھا کہ بلاول کی گرفتاری سے ملک افراتفری کا شکار ہوگا۔خورشید شاہ نے کہا کہ عمران خان ملک میں بحران اور غیر یقینی صورتحال پیدا کر رہے ہیں،وہ اپنی ناکامی چھپانے کے لیے اوچھے ہتھکنڈوں سیاسے بیلنس کر رہے ہیں ۔

پی پی رہنما نے بتایا کہ ملک میں ون پارٹی سسٹم بنانے کی کوشش کی جا رہی ہے اور ایسا لگتا ہے کہ سویلین مارشل لا لگانے کی کوشش کی جا رہی ہے، ان کا مزید کہنا تھا کہ اس طرح کے غیرقانونی اقدام سے یہ آئین اور قانون کے کٹہرے میں کھڑے ہوں گے۔خورشید شاہ نے کہاکہ آئین وفاق کی مضبوطی کی ضمانت ہے، آئین کو چھیڑا گیا تو پاکستان کی سالمیت کو خطرہ لاحق ہوگا اور اس کھیل کیاثرات کے ذمے داریہ لوگ ہوں گے۔انہوں نے کہا کہ یہ سیاسی جماعتوں کو ایسے ختم کرنے میں کامیاب نہیں ہوں گے۔

اس طریقہ سیاست سے ایک پارٹی کومضبوط اور دیگر کو کمزور کیا جا رہا ہے، گورنرراج کانفاذ ملک کے لیے بہتر نہیں ہوگا۔ایک سوال کے جواب میں ان کا کہنا تھا کہ سندھ میں ان ہاوس تبدیلی کی ضرورت نہیں، مفروضوں پر کیسز بنائے گئے، انہوں نے انکشاف کیا کہ مارشل لا کے ذریعے آئین ختم کرکے گورنر راج لگایا جاسکتا ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)


ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…