ہفتہ‬‮ ، 10 جنوری‬‮ 2026 

کیا حکومت چاہتی ہے کہ عدلیہ مفلوج ہوجائے؟چیف جسٹس ثاقب نثار نے سوال اُٹھادیا،بڑا حکم جاری

datetime 29  دسمبر‬‮  2018 |

لاہور(آئی این پی) چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس میاں ثاقب نثار نے اسلام آباد ہائیکورٹ میں ججز کی خالی آسامیاں پر نہ کرنے پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ حکومت اسلام آباد ہائی کورٹ کے معاملے کو دیکھے ورنہ عدالت سوموٹو لے گی۔چیف جسٹس میاں ثاقب نثار کی سربراہی میں بنچ نے سپریم کورٹ لاہور رجسٹری میں کیس کی سماعت کی ۔

چیف جسٹس نے ایڈیشنل اٹارنی جنرل چوہدری اشتیاق اے خان سے کہا کہ حکومت کو اسلام آباد ہائی کورٹ کے ججز کی تعداد میں اضافے سے متعلق سفارشات بھیجی تھیں، نگران حکومت کے دور بھجوائی گئی سفارشات پر تاحال کچھ بھی نہیں کیا گیا،کیا حکومت چاہتی ہے کہ عدلیہ مفلوج ہوجائے؟۔چیف جسٹس پاکستان نے ایڈیشنل اٹارنی جنرل کو مخاطب کرتے ہوئے کہاکہ اسلام آباد ہائی کورٹ میں اس وقت 4 ججز کام کررہے ہیں، کام کا سارا بوجھ ان چار ججز پر ہے، آپ ججز کی تعداد کیوں نہیں بڑھا رہے۔ایڈیشنل اٹارنی جنرل اشتیاق اے خان نے بتایا کہ ججز کی تعداد بڑھانے کیلئے کمیٹی تشکیل دی گئی تھی، جب بل کا ڈرافٹ پیش کرنا تھا تو اپوزیشن نے مخالفت کر دی، ججز کی تعداد بڑھانے کیلئے آرڈیننس کی تجویز بھی زیر غور تھی لیکن اسمبلی کا سیشن چل رہا ہے۔چیف جسٹس میاں ثاقب نثار نے کہا کہ اسلام آباد ہائیکورٹ میں ججز کی تعداد کم ہونے سے ڈویژن بنچ بھی نہیں بن سکتا، ملک کی تمام ہائی کورٹس اہم ہیں مگر اسلام آباد ہائی کورٹ میں بہت اہم کیسز ہیں،حکومت اسلام آباد ہائی کورٹ کے معاملے کو دیکھے ورنہ عدقلت سوموٹو لے گی۔ جس پر ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے یقین دہانی کروائی کہ اسلام آباد ہائیکورٹ میں ججز کی خالی اسامیاں فوری طور پر پوری کرتے ہیں۔ میاں ثاقب نثار نے اسلام آباد ہائیکورٹ میں ججز کی خالی آسامیاں پر نہ کرنے پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ حکومت اسلام آباد ہائی کورٹ کے معاملے کو دیکھے ورنہ عدالت سوموٹو لے گی۔

موضوعات:

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



ذورین نظامانی غلط نہیں کہہ رہا


والد صاحب نے مجھے پکڑ لیا‘ ان کے ہاتھ میں جوتا…

پرسی پولس

شیراز ریجن کا اصل کمال پرسی پولس (Persepolis) ہے‘ یہ…

سائرس یا ذوالقرنین

میرے سامنے پتھروں کی مستطیل عمارت تھی‘ فرش کے…

ایک دن ذوالقرنین کے مقبرے پر

میدان کی پچھلی جانب پہاڑ تھے‘ ان پر تازہ برف…

کام یابی کے دو فارمولے

کمرہ صحافیوں سے بھرا ہوا تھا‘ دنیا جہاں کا میڈیا…

وزیراعظم بھینسیں بھی رکھ لیں

جمشید رتن ٹاٹا بھارت کے سب سے بڑے کاروباری گروپ…

جہانگیری کی جعلی ڈگری

میرے پاس چند دن قبل ایک نوجوان آیا‘ وہ الیکٹریکل…

تاحیات

قیدی کی حالت خراب تھی‘ کپڑے گندے‘ بدبودار اور…

جو نہیں آتا اس کی قدر

’’آپ فائز کو نہیں لے کر آئے‘ میں نے کہا تھا آپ…

ویل ڈن شہباز شریف

بارہ دسمبر جمعہ کے دن ترکمانستان کے دارالحکومت…

اسے بھی اٹھا لیں

یہ 18 اکتوبر2020ء کی بات ہے‘ مریم نواز اور کیپٹن…