جمعہ‬‮ ، 04 اپریل‬‮ 2025 

متحدہ عرب امارات، امریکا، ترکی، سعودی عرب، ایران کے سفارتخانوں نے اسلام آباد میں کیا غیر قانونی کام شروع کردیا؟نوٹسز جاری ، دفتر خارجہ کو بھی حقائق سے آگاہ کردیاگیا

datetime 29  دسمبر‬‮  2018
ہمارا واٹس ایپ چینل جوائن کریں

اسلام آباد(اے این این)کیپیٹل ڈویلپمنٹ اتھارٹی(سی ڈی اے)نے دفتر خارجہ سے درخواست کی ہے کہ اپنے اثرو رسوخ کو استعمال کرتے ہوئے سفارتخانوں کی عمارتوں کی خلاف ورزیوں کو ٹھیک کروائیں۔اتھارٹی کے بلڈنگ کنٹرول سیکشن نے دفتر خارجہ کو خط لکھ کر بتایا کہ مختلف ممالک کے سفارتخانے اپنی عمارتوں کی ضروری تکمیلی سرٹیفکیٹ کے بغیر قائم ہیں۔

سی ڈی اے کی جانب سے بلڈنگ کنٹرول کا خط اگلے چند دنوں میں دفتر خارجہ ارسال کیا جائے گا۔میڈیا رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ سی ڈی اے نے خط میں لکھا ہے کہ متحدہ عرب امارات، امریکا، ترکی، کینیڈا، دی ویٹیکن، سعودی عرب، ایران کے سفارتخانوں کی جانب سے عمارتوں کا استعمال بغیر تکمیلی سرٹیفکیٹ کے کیا جارہا ہے۔ایک خط میں لکھا گیا کہ اسلام آباد کے ڈپلومیٹک انکلیو میں قائم متحدہ عرب امارات کے سفارتخانے کی عمارت کا تکمیلی سرٹیفکیٹ کے بغیر استعمال پر کیپیٹل ڈویلپمنٹ اتھارٹی کی جانب سے توجہ دلائی جارہی ہے۔اس میں مزید لکھا تھا کہ اسلام آباد کے بلڈنگ کنٹرول ریگولیشن 2005 کے مطابق کسی بھی عمارت کو اتھارٹی کی جانب سے تکمیلی سرٹیفکیٹ، رہنے کی اجازت کے بغیر استعمال نہیں کیا جاسکتا ہے۔اس ہی طرح کے خط دیگر سفارتخانوں کے نام پر بھی لکھے گئے۔سی ڈی اے ذرائع کا کہنا تھا کہ یہ سرٹیفکیٹ عمارت کی مکمل جانچ پڑتال، ہنگامی صورتحال کے لیے انتظامات اور عمارت کے بنیادی ڈھانچہ مستحکم ہونے کی یقین دہانی کے بعد جاری کیا جاتا ہے۔بلڈنگ کنٹرول کے ڈائریکٹر فیصل نعیم نے تصدیق کی کہ سی ڈی اے کی جانب سے دفتر خارجہ کے ذریعے مختلف سفارتخانوں کو تکمیلی سرٹیفکیٹ کے لیے لکھا ہے۔ان کا کہنا تھا کہ انہوں نے تکمیلی سرٹیفکیٹ کے بغیر استعمال کرنے والی عمارتوں کے خلاف مہم کا آغاز کردیا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ ہم نے گزشتہ چند روز میں بڑی تعداد میں نوٹسز جاری کردیے ہیں اور سی ڈی اے تکمیلی سرٹیفکیٹ کے بغیر کمرشل عمارت استعمال کرنے والوں کے یوٹیلیٹی سہولیات ختم کردے گی۔سی ڈی اے حکام کا کہنا تھا کہ عمومی طور پر تکمیلی سرٹیفکیٹ اس لیے نہیں لیا جاتا کیونکہ عمارت کو نقشے کے خلاف تعمیر کیا جاتا ہے۔

موضوعات:



کالم



چانس


آپ مورگن فری مین کی کہانی بھی سنیے‘ یہ ہالی ووڈ…

جنرل عاصم منیر کی ہارڈ سٹیٹ

میں جوں ہی سڑک کی دوسری سائیڈ پر پہنچا‘ مجھے…

فنگر پرنٹس کی کہانی۔۔ محسن نقوی کے لیے

میرے والد انتقال سے قبل اپنے گائوں میں 17 کنال…

نارمل معاشرے کا متلاشی پاکستان

’’اوئے پنڈی وال‘ کدھر جل سیں‘‘ میں نے گھبرا…

آپ کی امداد کے مستحق دو مزید ادارے

یہ2006ء کی انگلینڈ کی ایک سرد شام تھی‘پارک میںایک…

بلوچستان میں کیا ہو رہا ہے (دوسرا حصہ)

بلوچستان کے موجودہ حالات سمجھنے کے لیے ہمیں 1971ء…

بلوچستان میں کیا ہو رہا ہے؟ (پہلا حصہ)

قیام پاکستان کے وقت بلوچستان پانچ آزاد ریاستوں…

اچھی زندگی

’’چلیں آپ بیڈ پر لیٹ جائیں‘ انجیکشن کا وقت ہو…

سنبھلنے کے علاوہ

’’میں خانہ کعبہ کے سامنے کھڑا تھا اور وہ مجھے…

ہم سیاحت کیسے بڑھا سکتے ہیں؟

میرے پاس چند دن قبل ازبکستان کے سفیر اپنے سٹاف…

تیسری عالمی جنگ تیار(دوسرا حصہ)

ولادی میر زیلنسکی کی بدتمیزی کی دوسری وجہ اس…