منگل‬‮ ، 13 جنوری‬‮ 2026 

نیب کو بڑا دھچکا،اہم مقدمہ ہار گیا،دوسروں سے رقوم نکلوانے والے ادارے کو اب خود کتنے ارب ادا کرنے پڑینگے؟

datetime 27  دسمبر‬‮  2018 |

لندن( آن لائن) قومی احتساب بیورو (نیب) لندن کی بین الاقوامی مصالحتی عدالت میں املاک ریکور کرنے والی فرم ‘براڈ شیٹ’ کے خلاف مقدمہ ہار گیا، جس کے نتیجے میں اب نیب کو 60 ملین ڈالر (سوا 8 ارب روپے سے زائد) رقم ادا کرنا ہوگی۔میڈیا رپورٹ کے مطابق سابق صدر جنرل (ر) پرویز مشرف کے دور میں برطانیہ اور امریکا میں کم وبیش 200 پاکستانیوں کے اثاثوں کا پتہ لگانے کے لیے آئزل آف مین رجسٹرڈ براڈشیٹ ایل ایل سی نامی فرم کی خدمات حاصل کی گئی تھیں ۔

اس سلسلے میں آصف علی زرداری، بینظیر بھٹو، نواز شریف اور لیفٹیننٹ جنرل اکبر کو بطور خاص ہدف بنایا گیا تھا۔اس معاہدے کے تحت مقررہ اہداف سے وصول شدہ رقم میں سے 20 فیصد کمپنی کو ادا کی جانی تھی، تاہم کسی بھی الزام کا ثبوت نہیں ملا اور ایک عشرے کے دوران برطانیہ سے ایک روپیہ بھی واپس نہیں لایا جاسکا۔رپورٹ کے مطابق ان اخراجات سے ہٹ کر براڈ شیٹ کمپنی فیصلہ اپنے حق میں آنے کے بعد نیب سے قانونی چارہ جوئی اور کیس کے اخراجات کی مد میں مزید ایک کروڑ امریکی ڈالر کا دعویٰ بھی کرے گی جبکہ سود کی مد میں 7 فیصد بھی وصول کرے گی۔دوسری جانب اگرچہ براڈ شیٹ سابق وزیراعظم نواز شریف کے صاحبزادوں حسن اور حسین نواز کے خلاف کسی قسم کا کوئی ثبوت پیش کرنے میں ناکام رہی، لیکن براڈ شیٹ کمپنی العزیزیہ ریفرنس میں نواز شریف کی سزا اور جرمانہ عائد کیے جانے کے بعد مزید 60 لاکھ امریکی ڈالر کا دعویٰ بھی کرے گی کیونکہ فرم نے سب سے پہلے کیس پر کام شروع کرکے نیب کو شریف خاندان کے خلاف دستاویزات فراہم کی تھیں۔رپورٹ کے مطابق مجموعی طو رپر نیب کو مختلف اخراجات کی مد میں 60 ملین ڈالر ادا کرنا پڑسکتے ہیں جبکہ نیب کو اضافی جرمانے، اخراجات اور سود کی شکل میں زیادہ نقصان اٹھانا پڑسکتا ہے۔براڈ شیٹ نے نیب کے خلاف الزام عائد کیا تھا کہ نیب نے 2003 میں معاہدہ منسوخ کر دیا تھا۔

اس کمپنی کی جانب سے نیب کے خلاف تقریباً 600 ملین ڈالر کا دعویٰ کیا گیا تھا جبکہ نیب کا کہنا تھا کہ یہ رقم 340 ملین ڈالر ہے۔ واضح رہے کہ کولوراڈو کے ایک بزنس مین جیری جیمز نے آف شور کمپنی کے طور پر براڈ شیٹ ایل ایل سی قائم کی تھی، بعدازاں انہوں نے 2005 میں آئزل آف مین میں لکویڈیشن پروسیڈنگز کے لیے کیس فائل کیا، پہلے اسے تحلیل کیا اور پھر اسے ریوائز کیا، بعد ازاں انہوں نے اسی نام کے ساتھ کولوراڈو کمپنی قائم کی اور 2008 میں نیب سے معاہدے پر مذاکرات کیے تاکہ 2.25 ملین ڈالر کا تنازع طے کیا جاسکے، جس کے بعد نیب نے یہ رقم ادا کی۔

موضوعات:

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



سہیل آفریدی کا آخری جلسہ


وہ جنرل کے سامنے بیٹھا‘ تھوڑی دیر دائیں بائیں…

ذورین نظامانی غلط نہیں کہہ رہا

والد صاحب نے مجھے پکڑ لیا‘ ان کے ہاتھ میں جوتا…

پرسی پولس

شیراز ریجن کا اصل کمال پرسی پولس (Persepolis) ہے‘ یہ…

سائرس یا ذوالقرنین

میرے سامنے پتھروں کی مستطیل عمارت تھی‘ فرش کے…

ایک دن ذوالقرنین کے مقبرے پر

میدان کی پچھلی جانب پہاڑ تھے‘ ان پر تازہ برف…

کام یابی کے دو فارمولے

کمرہ صحافیوں سے بھرا ہوا تھا‘ دنیا جہاں کا میڈیا…

وزیراعظم بھینسیں بھی رکھ لیں

جمشید رتن ٹاٹا بھارت کے سب سے بڑے کاروباری گروپ…

جہانگیری کی جعلی ڈگری

میرے پاس چند دن قبل ایک نوجوان آیا‘ وہ الیکٹریکل…

تاحیات

قیدی کی حالت خراب تھی‘ کپڑے گندے‘ بدبودار اور…

جو نہیں آتا اس کی قدر

’’آپ فائز کو نہیں لے کر آئے‘ میں نے کہا تھا آپ…

ویل ڈن شہباز شریف

بارہ دسمبر جمعہ کے دن ترکمانستان کے دارالحکومت…