اتوار‬‮ ، 23 اگست‬‮ 2026 

بھارتی حکومت اور میڈیا دو عام پاکستانیوں کی فیس بک پر موجود تصویر سے ڈر گیا، خوفزدہ ہو کر ایسا کام کردیا کہ خود پوری دنیا میں شرمندہ ہوکررہ گیا

datetime 26  ‬‮نومبر‬‮  2018 |

نئی دہلی(اے این این) بھارتی حکومت اور میڈیا دو عام پاکستانیوں کی فیس بک پر موجود تصویر سے خوفزدہ ہوگئے، دو نوجوانوں کی تصاویر شہروں میں چسپاں کردی گئیں۔تفصیلات کے مطابق مودی سرکار ہو یا بھارتی میڈیا سب پاکستان فوبیا کا شکار ہیں، مودی سرکاراور بھارتی میڈیا دو پاکستانیوں کی فیس بک پر موجود تصویر سے خوفزدہ ہوگئے۔فیس بک کی تصویر پر بھارتی میڈیا نے اپنی مضحکہ خیز رپورٹ میں دونوں پاکستانی نوجوانوں کو نئی دہلی کیلئے خطرہ قرار دے دیا۔

دونوں طالب علم کچھ روز پہلے رائیونڈ کے اجتماع میں شرکت کیلئے لاہور آئے تھے، سیرو تفریح کے دوران دونوں طالب علموں نے واہگہ بارڈر پر تصویر بنوائی تھی۔یہ تصویر اس سنگ میل پر بنائی گئی جس پر درج تھا کہ دہلی 360کلومیٹر اور فیروز پور نو کلو میٹر ہے، ایک نوجوان نے فیس بک پر دلی کی فتح کے نام سے یہ تصویر اپلوڈ کردی، بس پھر کیا تھا، تصویر دیکھتے ہی بھارت کی خفیہ ایجنسیوں اور پولیس کی دوڑیں لگ گئیں۔پاکستان میں لی گئی تصویر پر دونوں نوجوانوں کو بھارتی پولیس نے دہشت گرد قرار دے دیا، بوکھلاہٹ کی شکار بھارتی پولیس نے پاکستانی نوجوانوں کی تصویریں پہاڑ گنج کے علاقے کی مختلف دیواروں پر چسپا ں کردیں، بھارتی میڈیا نے دعویٰ کیا ہے کہ دونوں نوجوانوں کی تصویر بھارتی خفیہ ایجنسی نے پولیس کو دی تھیں۔واضح رہے کہ یہ ایک ایسی جگہ جہاں روزانہ سینکڑوں لوگ تصویریں بناتے اور فیس بک پہ ڈالتے ہیں لیکن جونہی داڑھی ٹوپی والے مدرسہ کے طلبہ نے ایک تصویر کھینچی سرحد پار ایک بھونچال کھڑا ہوگیا۔حقیقتاً ایک بے ضرر سی تصویر کو لے کے ایسا پتنگڑ بنا دیا گیا کہ دہلی پولیس نے شہر بھر میں ان کی تصاویر کے پوسٹر آویزاں کر کے شہریوں کو محتاط رہنے کی تلقین کر دی۔یہ طلبہ فیصل آباد کے ایک بڑے دینی ادارے جامعہ اسلامیہ امدادیہ میں زیر تعلیم ہیں، سالانہ رائیونڈ اجتماع کے دوران بارڈر پر گئے اور ایک عام سی تصویریں کھینچی گئی جو کہ بعد ازاں فیس بک پہ ڈال دی گئی لیکن داڑھی اور ٹوپی والے مسلمانوں سے خوفزدہ بھارتی سرکار کے دماغوں پہ ایسے سوار ہیں کہ انہیں اب خواب بھی ان ہی کے آتے ہیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)


ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…