اتوار‬‮ ، 23 اگست‬‮ 2026 

روزگار کیلئے سعودیہ گئے 4پاکستانیوں پر کفیل نے قیامت ڈھادی،بڑی مشکل میں گرفتار،حکومت سے مدد کی اپیل

datetime 22  ‬‮نومبر‬‮  2018 |

اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک) روزگار کیلئے سعودی عرب جانے والے  چار پاکستانی  رل گئے۔میڈیا رپورٹس کے مطابق چکوال اور اٹک کے رہائشی عمراقبال، ارشد محمود،طارق رحمان اورعبداللہ کو ملازمت چھوڑنے پر کفیل نے جیل بجھوا دیا۔ چاروں پاکستانی حکومت کی مدد کے منتظر ہیں۔ اٹک اور چکوال کے رہنے والے چار افراد چند سال قبل روزگار کے حصول کے لئے سعودی عرب گئے اور وہاں کفیل کے پاس ڈرائیور کی نوکری کرنے لگے۔

چند ماہ گزرنے کے بعد وطن کی یاد ستائی تو تمام افراد نے واپس آنے کا فیصلہ کیا اور ملازمت چھوڑ دی۔ دخیل اللہ نامی کفیل نے مقررہ مدت سے پہلے نوکری چھوڑنے پر چاروں پاکستانیوں کو مقدمے میں پھنسا کر جیل بھجوا دیا۔ اٹک اور چکوال کے رہائشی اس وقت سعودی شہر الباحہ کی جیل میں قید ہے۔ سعودی جیل میں قید عمراقبال کے بہنوئی کا کہنا ہے عمر گھر کا واحد کفیل ہے۔ سعودیہ میں قید عمر اقبال کا کہنا ہے ہمیں سعودی عدالت میں پیش نہیں کیا جاتا۔یہاں برا حال ہے، کھانا بھی وقت پر نہیں دیاجاتا۔پاکستانی حکومت رہائی کیلئے اقدامات اٹھائے۔ اس سے پہلے یہ خبر آئی تھی کہ سعودی عرب کے دارالحکومت ریاض میں دو ہزار سے زائد پاکستانی محنت کش گزشتہ 18ماہ سے بغیر تنخواہ کے کیمپوں میں زندگی بسر کرنے پر مجبورہیں ، کیمپوں میں رہائش پذیرپاکستانی سہولیات سے محروم، اقامے ختم ہو چکے ،ملک جانیکی اجازت نہیں،پاکستانی سفارتخانہ خاموش، ہولڈنگ کمپنی سے منسلک پاکستانیوں کا کہنا ہے کیمپوں میں رہتے ہوئے انکے اقامےبھی ختم ہو چکے ہیں،ریاض کے علاقے الیہ کے ایک کیمپ میں موجود پاکستانیوں کو سعودی کمپنی معاہدہ کے تحت دیار غیر میں تو لے آئی مگر محنت کشوں کو گزشتہ اٹھارہ ماہ سے تنخواہیں نہیں دی گئیں، رزق حلال کی تلاش میں پردیس کی مشکلیں کاٹنے والے دو ہزار سے زائد پاکستانیوں کو ریاض کے مختلف کیمپوں میں رکھا گیا ہے ،18 ماہ سے جیل جیسے حالات میں شب و روز گزارنے والوں کے اقامے بھی ختم ہو چکے، کمپنی واجبات ادا کر رہی ہے نہ ہی انہیں وطن واپس بھجوانے کا کوئی بندوبست ہے۔انہوں نے حکومت پاکستان سے مدد کی اپیل کی ہے

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)


ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…