اتوار‬‮ ، 23 اگست‬‮ 2026 

وزیراعظم عمران خان کاامریکی صدر کو بھرپور اور جرات مندانہ جواب ،کیا امریکا اور پاکستان کے تعلقات پوائنٹ آف نو ریٹرن پر پہنچ چکے ؟اب کیا ہوگا؟جاوید چودھری کا تجزیہ‎

datetime 19  ‬‮نومبر‬‮  2018 |

حکومت تقریباً سو دن (مکمل) کر چکی ہے‘ ان سو دنوں میں کچھ اور سٹیبلش ہوا ہو یا نہ ہوا ہو لیکن یہ طے ہو چکا ہے یوٹرن کے بغیر کوئی لیڈر بڑا لیڈر نہیں بن سکتا‘ ہمارے وزیراعظم کیونکہ دنیا کے بڑے لیڈر اور پولیٹیکل فلاسفر ثابت ہو چکے ہیں چنانچہ میری پوری دنیا کے مورخین سے درخواست ہے آپ اب ورلڈ ہسٹری کو نئے سرے سے لکھیں اور دنیا کے (ان) تمام ہیروز کو ہیروز کی فہرست سے نکال کر زیروز کی لسٹ میں شامل کر لیں

جنہوں نے یوٹرن لینے سے انکار کر دیا تھا‘ ہم حضرت عثمان‘ حضرت علی اور حضرت امام حسین کا ذکرتو نہیں کر سکتے لیکن حضرت عمر بن عبدالعزیز ہوں‘ محمد بن قاسم ہوں‘ موسیٰ بن نصیر ہویا پھر طارق بن زیاد‘ خوارزم شاہ‘ صلاح الدین ایوبی‘ سراج الدولہ اور ٹیپو سلطان ہوں یا پھر ذوالفقار علی (بھٹو) ہوں یہ تمام لیڈر یوٹرن نہ لینے کی وجہ سے مارکھا گئے ورنہ آج یہ بھی دنیا کے بہت بڑے لیڈر ہوتے‘ مجھے یقین ہے ہم جس طرح یوٹرن لے رہے ہیں‘ وہ دن دور نہیں جب دنیا میں صرف ایک لیڈر ہو گا اور اس لیڈر کا نام عمران خان ہو گا‘ ہم آج کے موضوع کی طرف آتے ہیں، امریکن صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک بار پھر پاکستان پر الزام لگادیا‘ پاکستان اسامہ بن لادن کی ایبٹ آباد میں موجودگی سے واقف تھا‘ پاکستان نے ہمارے لئے کچھ نہیں کیا اور امریکا پاکستان کو کسی قسم کی امداد نہیں دے گا وغیرہ وغیرہ‘ وزیراعظم عمران خان نے امریکی صدر کو بھرپور اور جرات مندانہ جواب دیا‘ وزیراعظم نے ٹویٹ کیا، نائین الیون میں کوئی پاکستانی ملوث نہیں تھا لیکن ہم نے سب سے زیادہ امریکا کا ساتھ دیا‘ 75 ہزار جانیں گئیں‘ معیشت کو 123 بلین ڈالر کا نقصان ہوا‘ ہمارے قبائلی علاقے تباہ ہو گئے اور لاکھوں لوگ ڈس پلیس ہوئے‘ امریکی صدر بتائیں کیا۔ ان کے کسی اتحادی نے اتنی قربانیاں دیں‘ وزیراعظم نے مزید کہا، امریکا اپنی ناکامیوں کا جائزہ لے‘ ایک لاکھ چالیس ہزار نیٹو فورسز‘ اڑھائی لاکھ افغان فوج اور ایک ٹریلین ڈالر کے باوجود آج طالبان پہلے سے زیادہ مضبوط ہیں‘ کیوں؟۔ کیا امریکا اور پاکستان کے تعلقات پوائنٹ آف نو ریٹرن پر پہنچ چکے ہیں‘ جبکہ پاکستان کو سعودی عرب سے ایک بلین ڈالر مل گئے‘ دو بلین ڈالر چند دن میں مل جائیں گے‘ کیا اب ہماری معیشت سنبھل جائے گی‘ ہم یہ بھی ڈسکس کریں گے‘ ہمارے ساتھ رہیے گا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)


ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…