اتوار‬‮ ، 23 اگست‬‮ 2026 

ایف آئی اے حکام اربوں کی کرپشن میں تاحال بڑی ریکوری کرنے میں ناکام ، سیاسی پشت پناہی کی وجہ سے بڑے مگر مچھوں کی کرپشن پر آنکھیں موندھ لیں ، اینٹی کرپشن ونگ کی وزارت داخلہ میں جمع کروائی گئی رپورٹ نے فرض شناسی کا پول کھول دیا

datetime 18  ‬‮نومبر‬‮  2018 |

اسلام آباد (آن لائن) وفاقی تحقیقاتی ادارے ایف آئی اے حکام اربوں روپے کی کرپشن میں تاحال بڑی ریکوری کرنے میں ناکام ہو گئے، ایف آئی اے اینٹی کرپشن ونگ کی وزارت داخلہ میں جمع کروائی گئی رپورٹ نے فرض شناسی کا پول کھول دیا، سیاسی پشت پناہی کی وجہ سے ایف آئی اے حکام نے بڑے مگر مچھوں کی اربوں روپے کی کرپشن پر آنکھیں موندھ لیں۔

ذرائع نے آن لائن کو بتایا وفاقی تحقیقاتی ادارے ایف آئی اے حکام میں لابنگ اور سیاسی مداخلت کی وجہ سے ادارہ تباہی کے دہانے پر پہنچ چکا ہے، نیشنل ہائی وے اتھارٹی، او جی ڈی سی ایل، سی ڈی اے سمیت کئی سرکاری اور نیم سرکاری اداروں میں اربوں روپے کی کرپشن کیسز تاحال التوا کا شکار ہیں، ایف آئی اے اور وزارت داخلہ حکام کی اس حوالے سے معنی خیز خاموشی حکمران جماعت کی کارکردگی پر سوالیہ نشان ہے، ذرائع کا مزید کہنا تھا کہ ایف آئی اے حکام نے وزارت داخلہ کے حکم پر فرضی رپورٹ تیار کرکے روایتی انداز میں جان جھڑانے کی کوششیں کیں، دستاویزات کے مطابق ایف آئی اے اینٹی کرپشن ونگ نے حالیہ سال کی دوسری سہ ماہی میں ملک بھر میں کاروائیاں کیں، کاروائیوں کے دوران74کروڑ روپے کی ریکوری کی گئی، ایف آئی اے پنجاب زون نے 71کروڑ اسلام آباد زون نے دو کروڑ جبکہ بلوچستان زون نے 58لاکھ روپے ریکوری کرکے قومی خزانہ میں جمع کروائے، اسی طرح عدالتی جرمانے کی مد میں ایف آئی اے اینٹی کرپشن ونگ کے کیسز میں انیس لاکھ اکتالیس ہزار روپے قومی خزانے میں جمع کروائے گے، دستاویزات کے مطابق اپریل 2018ء سے جون2018ء کے دوران صرف ایک عدالتی مفرور کو پکڑا گیا، سال کی دوسری سہہ ماہی میں ایف آئی اے اینٹی کرپشن ونگ نے اٹھ اشتہاری ملزموں کو حراست میں لیا، اس دوران ایف آئی اے اینٹی کرپشن ونگ نے ملک بھر میں ایک سو چوبیس نئے کیس رجسٹرڈ کیے۔

عدالت نے چالان داخل کروانے پر 54ملزمان کو سزائیں سنائی، جبکہ21ملزمان کو عدم ثبوت کی بنیاد پر عدالتی احکامات پر بری کر دیا گیا، رپورٹ کے مطابق تین سو 29انکوائریاں کیں گئیں، ذرائع کا مزید کہنا ہے کہ ایف آئی اے میں افسران اور ماتحتوں کی لابنگ کی وجہ سے ادارے کی کارکردگی پر منفی اثرات مرتب ہوئے، لابنگ اور سیاسی مداخلت کی وجہ سے محکمہ تباہی کے دہانے پر پہنچ گیا جو کہ حکومت کی کارکردگی پر سوالیہ نشان ہے، اور وزارت داخلہ کی اس حوالے سے معنی خیز خاموشی نے حکومتی پالیسوں پر سوالات کو جنم دیا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)


ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…