اتوار‬‮ ، 23 اگست‬‮ 2026 

’’جو حکومت تعلیم اور صحت فراہم نہیں کر سکتی وہ صرف نام کی ہے‘‘ کے پی میں ہسپتالوں کی حالت زار کیا ہے؟چیف جسٹس نے ایسے ریمارکس دے دئیے کہ خیبرپختونخواہ حکومت کی قلعی کھل گئی

datetime 24  اکتوبر‬‮  2018 |

اسلام آباد(نیوز ڈیسک)چیف جسٹس پاکستان میاں ثاقب نثار نے کہا ہے کہ خیبرپختون خوا میں دعوؤں کے برعکس ہسپتالوں کی حالت خراب ہے اور جو حکومت تعلیم اور صحت فراہم نہیں کر سکتی وہ صرف نام کی ہے۔ بدھ کو سپریم کورٹ میں خیبرپختون خوا کے ہسپتالوں کے فضلے سے متعلق کیس کی سماعت ہوئی۔ چیف جسٹس پاکستان میاں ثاقب نثار نے کہا کہ ہسپتالوں کا فضلہ کئی بیماریوں

کی وجہ ہے، 17 ہزار ٹن فضلہ روزانہ عوامی مقامات پر پھینکا جاتا ہے، کیا فضلہ ٹھکانے لگانے کیلئے مشینری ہے؟۔صوبائی سیکرٹری صحت عدالت کے روبرو پیش ہوئے اور بتایا کہ روزانہ 21 ہزار کلو سے زائد فضلہ پیدا ہوتا ہے، کے پی کے میں فضلہ ٹھکانے لگانے کا موثر نظام موجود ہے، عدالت دو ماہ کا وقت دے فضلہ ٹھکانے لگانے کی مشینری بھی نصب کر دیں گے۔چیف جسٹس نے کہا کہ موثر نظام ہونے کا بیان حلفی دیں، اس کے بعد عدالت تحقیقات کروائے گی، فضلہ ٹھکانے لگانے کی مشین تندور نہیں جو ایک دن میں لگ جائے۔سپریم کورٹ نے صوبائی وزیر صحت کو منگل کو طلب کرتے ہوئے ہسپتالوں کا فضلہ ٹھکانے سے متعلق وضاحت طلب کرلی۔چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ خیبرپختون خوا میں صحت کی سہولیات کے دعوے کیے جاتے ہیں، مگر چیف سیکرٹری نے خود تسلیم کیا کہ ہسپتالوں کی حالت خراب ہے، ایمرجنسی میں بنیادی سہولیات کا فقدان ہے، صرف ہسپتالوں کے بورڈ بنا دینا کافی نہیں، صوبے کے ہسپتالوں میں ڈاکٹرز اور عملہ بھی پورا نہیں، جو حکومت تعلیم اور صحت فراہم نہیں کر سکتی وہ صرف نام کی ہے، صحت اور تعلیم کے شعبے کو دیکھنا عدالت کا کام نہیں، حکومت کی نااہلی کے باعث عدالت کو ہسپتالوں میں مداخلت کرنا پڑی، ایوب میڈیکل کمپلیکس میں سہولیات کا فقدان ہے،سپریم کورٹ نے خیبرپختون خوا کے تمام سرکاری اسپتالوں کی بہتری کے لیے اٹھائے گئے اقدامات کی تفصیلات طلب کرتے ہوئے دستیاب سہولیات کی تفصیلات بھی پیش کرنے کا حکم دیا۔ کیس کی سماعت آئندہ منگل تک ملتوی کردی گئی۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)


ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…