اتوار‬‮ ، 23 اگست‬‮ 2026 

ہم نے اگر ماضی اور حال کے درمیان جنگ چھیڑ دی تو ہم اپنا مستقبل بھی تباہ کر بیٹھیں گے، ہم احتساب بھی نہیں کر سکیں گے اور ملک بھی نہیں چلا پائیں گے،شہباز شریف کی گرفتاری پر پارلیمنٹ ہاؤس کے سامنے احتجاج ڈھیلا ڈھالا اور کمزور تھا، اس پر لوگ کیا کہہ رہے ہیں؟ جاوید چودھری کا تجزیہ

datetime 11  اکتوبر‬‮  2018 |

برطانیہ دوسری جنگ عظیم کے آخر میں جنگ ہار رہا تھا‘ لیبر اور کنزرویٹو پارلیمنٹ کی دونوں پارٹیاں ایک دوسرے سے دست و گریبان رہتی تھیں‘ بادشاہ نے سیاسی استحکام کیلئے دونوں پارٹیوں کی کولیشن بنا دی اور کولیشن نے ونسٹن چرچل کو وزیراعظم منتخب کر لیا‘ چرچل کا تعلق کنزرویٹوپارٹی سے تھا‘ لیبر پارٹی نے وزیراعظم پر دباؤ ڈالنا شروع کر دیا کہ آپ پہلے کنزرویٹو پارٹی کے کرپٹ لوگوں کا احتساب کریں‘ یہ پریشر اتنا بڑھ گیا کہ کولیشن ٹوٹنے اور

حکومت کے خاتمے کا خدشہ پیدا ہو گیا‘ چرچل نے اس ایشو پر 18 جون 1940ء کو پارلیمنٹ میں شاندار تقریر کی‘ اس تقریر کے ایک فقرے میں ہمارے لئے بہت کچھ چھپا ہوا ہے، اس کا کہنا تھا ہم نے اگر ماضی اور حال کے درمیان جنگ چھیڑ دی تو ہم اپنا مستقبل بھی تباہ کر بیٹھیں گے‘ اس کے کہنے کا مطلب تھا ہم جرمنی کے ساتھ جنگ لڑ رہے ہیں‘ ہم اگر وہ جنگ جیتنا چاہتے ہیں تو پھر ہمیں اپنی اندرونی لڑائیاں بند کرنا ہوں گی۔ میری حکومت سے درخواست ہے، اس ملک میں احتساب ضرور ہونا چاہیے‘ کرپٹ لوگوں کو کیفرکردار تک ضرور پہنچنا چاہیے لیکن آپ ماضی اور حال کی اس جنگ کو چند ماہ کیلئے موخر کرکے مستقبل کی جنگ پر توجہ دیں‘ آپ ملک کو معاشی بحرانوں سے نکالیں‘ امن قائم کریں‘ مہنگائی کنٹرول کریں اور ریاست پر لوگوں کا اعتماد بحال کریں‘ ہم نے اگر فیوچر پر توجہ نہ دی تو ہم ماضی اور حال کے ساتھ ساتھ حال اور مستقبل کی جنگ بھی ہار جائیں گے اور یوں ہم احتساب بھی نہیں کر سکیں گے اور ملک بھی نہیں چلا پائیں گے۔ ہم آج کے موضوعات کی طرف آتے ہیں، آج ن لیگ نے میاں شہباز شریف کی گرفتاری پر پارلیمنٹ ہاؤس کے سامنے احتجاج کیا‘ یہ احتجاج ڈھیلا ڈھالا اور کمزور تھا ‘اس کے بعد لوگ کہہ رہے ہیں صرف حکومت کی کارکردگی کمزور نہیں بلکہ اپوزیشن بھی بہت کمزور اور منقسم ہے‘ کیا یہ تاثر غلط ہے‘ یہ ہمارا آج کا ایشو ہوگا‘ ہمارے ساتھ رہیے گا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)


ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…