اتوار‬‮ ، 23 اگست‬‮ 2026 

ہائپرٹینشن ،گھٹنے، ریڑھ کی ہڈی کے مہروں میں تکلیف ،شریان بند ہونے کے بعد پرویز مشرف ایک اور خطرناک بیماری میں مبتلا،قریبی دوست کے ہوشربا انکشافات

datetime 11  اکتوبر‬‮  2018 |

لاہور(سی پی پی ) سابق صدر جنرل (ر)پرویز مشرف رعشہ کی بیماری میں مبتلا ہو گئے ہیں اس کے نتیجے میں ان کی صحت دن بدن گر رہی ہے۔یہ انکشاف دبئی میں موجود سابق صدر کے قریبی دوست نے کیا ہے۔ذرائع کے مطابق سابق صدر پرویز مشرف کو ریڑھ کی ہڈی میں فریکچر سمیت دیگر امراض پہلے ہی لاحق تھے تاہم اس نئی بیماری نے نہ صرف ان کی سرگرمیاں اور مشکل میں محدود کر دیا بلکہ اپنے کام سے جسم کے ساتھ وہ درست طریقے سے مختلف اشیاء اٹھانے میں بھی خاصی دقت محسوس کرتے ہیں۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ تقریباً چار سال قبل پرویز مشرف کو ریڑھ کی ہڈی کے مہروں میں تکلیف کے علاوہ ایک شریان بند ہونے،ایک کندھے کا درست طریقے سے کام نہ کرنے،گھٹنے میں تکلیف اور ہائپرٹینشن سمیت دیگر امراض کی تشخیص ہوئی تھی۔ان بیماریوں کی تصدیق آرمڈ فورسز انسٹیٹیوٹ آف کارڈیالوجی راولپنڈی نے اپنی میڈیکل رپورٹ میں کی تھی۔جو 2014 میں ایک لفافے میں بند کرکے خصوصی عدالت کے جج کو پیش کی گئی تھی۔تقریباً ڈیڑھ ہفتہ قبل سابق صدر کے قریبی ساتھی ڈاکٹر امجد نے میڈیا کو بتایا تھا کہ پرویز مشرف کو نئی بیماری لاحق ہوگئی ہے اور اس کے علاج کے لیے انہیں ہر تین ماہ بعد لندن جانا پڑتا ہے۔ڈاکٹرا مجد نے اس بیماری کا نام بتانے سے انکار کر دیا تھا تاہم ان کا کہنا تھا کہ ابتدائی طور پر پرویز مشرف کی بیماری تشخیص کے سبب ان کے ہاتھ پر بری طرح لرزتے ہیں۔یہاں تک کہ انہیں اپنا موبائل فون اٹھانے میں بھی مشکل پیش آرہی ہے۔ریشے کی بیماری آہستہ آہستہ انسان کے مرکزی نروس سسٹم کو تباہ کر دیتی ہے اور اس کے نتیجے میں پورے جسم پر نشہ طاری ہو جاتا ہے۔مشرف کی صحت کے حوالے سے ان کے ایک دیرینہ دوست جو کہ پرویز مشرف کی طرح ریٹائرڈ زندگی گزار رہے ہیں ان کا کہنا ہے کہ کچھ عرصہ قبل دبئی میں میری پرویز مشرف سے ملاقات ہوئی وہ اہلیہ کے ساتھ بیٹھے تھے۔دعا سلام کے بعد انہوں نے کھانے کے لئے اصرار کیا،میں ان کے ساتھ والی کرسی پر بیٹھ گیا۔کھانے کے دوران جب انہوں نے مجھے پانی کا گلاس دینے کی کوشش کی تو میں نے دیکھا کہ ان کا ہاتھ اس قدر لرز رہا تھا کہ گلاس اٹھایا نہیں جا رہا تھا۔یہ دیکھ کر میں نے فوری طور پر اپنا ہاتھ آگے بڑھا کر گلاس تھام لیا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)


ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…