اتوار‬‮ ، 23 اگست‬‮ 2026 

عمران خان اور اسد عمر نے صرف 55 دنوں میں ملک کی پوری معیشت کا بھٹہ بٹھا دیا،یہ صورتحال جاری رہی تو ایک ماہ بعد ملک میں کیا ہوگا؟معیشت کے بارے میں پہلے پلاننگ کیوں نہیں کی گئی؟ڈیڑھ ماہ میں ملک کا جلوس نکال دیا،جاوید چودھری کا تجزیہ

datetime 9  اکتوبر‬‮  2018 |

خواتین وحضرات ۔۔2018ء کے الیکشنوں سے پہلے ملک کا بچہ بچہ جانتا تھا اگلا وزیراعظم عمران خان اور وزیر خزانہ اسد عمر ہوں گے‘یہ دونوں بھی جانتے تھے لہٰذا دونوں کے پاس معیشت کو سمجھنے‘ پلاننگ کرنے اورپوری معیشت کو ٹرن اراؤنڈ کرنے کیلئے بہت وقت تھا لیکن نتیجہ کیا نکلا‘ آپ نے صرف 55 دنوں میں ملک کی پوری معیشت کا بھٹہ بٹھا دیا‘ ڈالر 138 روپے تک پہنچ گیا‘ سٹاک ایکسچینج 38 ہزار504پر آگئی اور مہنگائی نے عوام کی کمر توڑ دی‘ یہ صورتحال جاری رہی تو

ایک ماہ بعد ملک میں ہر چیز کی قلت پیدا ہو جائے گی‘ آپ کو یاد ہے آپ کہتے کیا تھے (میں خود کشی کر لوں گا لیکن آئی ایم ایف کے پاس نہیں جاؤں گا) آپ یہ کہا کرتے تھے اور آپ اب کیا کہہ رہے ہیں ’’وفاقی وزیر اطلاعات چوہدری فواد حسین نے کہ اہے کہ معیشت کے حوالے سے سخت فیصلے لیے ہیں اور آئی ایم ایف کے پاس جانا نہیں چاہتے تھے لیکن 28 ارب ڈالر اس سال ملک کو چلانے کیلئے چاہئیں، لوگ سمجھ رہے ہیں آئی ایم ایف کے پاس جانے سے ڈالرمزید مہنگا ہوگا، ایسا نہیں ہے ٗانہوں نے کہا کہ آئی ایم ایف کے پاس جانا نہیں چاہتے تھے، یہ ہماری پالیسی نہیں تھی لیکن ایک ماہ 16 دن کے ذخائر رہ گئے ہیں، قرضہ 28 ہزار ارب پر چلا گیا ہے، ملک کو اپنے قدموں پر کھڑا کرنا ہے، 8 ارب ڈالر قرضوں کی مد میں ادا کرنے ہیں اور 28 ارب ڈالر اس سال ملک کو چلانے کیلئے چاہئیں۔بعد ازاں تقریب سے خطاب کے بعدصحافیوں نے چوہدری فواد سے سوالات کیے، ایک صحافی نے سوال کیا کہ علی زیدی نے کہا ہے کہ ڈالر 140 تک جائیگا اس پر وفاقی وزیر نے کہاکہ میرا خیال علی زیدی کے برعکس ہے، میرے خیال میں روپے کے مقابلے میں ڈالر کی قیمت کم ہوگی ٗڈالر کے حوالے سے لوگ ابھی تو جوا ہی کھیل رہے ہیں، روپے کی مزید قدر کم کرانے کیلئے آئی ایم ایف سے متعلق قیاس آرائی ہو رہی ہیں، لوگ سمجھ رہے ہیں

آئی ایم ایف کے پاس جانے سے ڈالرمزید مہنگا ہوگا، ایسا نہیں ہے۔‘‘ حالت یہ ہے لوگ حکومت کے 55 دن بعد یہ کہنے پر مجبور ہو گئے ہیں ایک اسحاق ڈار نے ساڑھے چار سال ڈالر کو103 پر روکے رکھا اور گیس اور بجلی کی قیمتیں نہیں بڑھنے دیں‘ دنیا کے بڑے معاشی اداروں کو پاکستان کا فیوچر برائٹ نظر آتا تھا لیکن آپ نے اکانومی کے 18 ماہرین ہوتے ہوئے ڈیڑھ ماہ

میں ملک کا جلوس نکال دیا‘ آپ کہاں کے ارسطو‘ کہاں کے بقراط ہیں‘ ۔۔اس صورتحال کا ذمہ دار کون ہے‘ ملک اس معاشی دلدل سے کیسے نکلے گا‘ کیا عمران خان اب بھی ایک کروڑ نوکریو اور 50 لاکھ گھروں کا وعدہ پورا کر لیں گے اور کیا یہ غریب عوام مہنگائی کے آنے والے ۔۔اس سونامی کو ڈیزرو کرتے ہیں‘ یہ ہمارا آج کا ایشو ہوگا‘ ہمارے ساتھ رہیے گا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)


ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…