جمعہ‬‮ ، 04 اپریل‬‮ 2025 

7000ہزار ماہانہ تنخواہ پر میٹر ریڈر کی نوکری کرنے والے خورشید شاہ آج کئی ایکڑ زمین ،محل نما گھروں ،ڈیری فارمز کے مالک کیسے بنے؟ تحقیقاتی رپورٹ میں سنسنی خیز انکشافات

datetime 30  ستمبر‬‮  2018
ہمارا واٹس ایپ چینل جوائن کریں

اسلام آباد( آن لائن ) نیب حکام نے پیپلزپارٹی کے سینئررہنما سید خورشید شاہ کے اربوں روپے اثاثوں کا مکمل ریکارڈ حاصل کر لیا ہے جو ان کی ظاہراً آمدن سے کئی گنا زیادہ ہیں، نیب سکھر سید خورشید شاہ کے خلاف آمدن سے زیادہ اثاثے بنانے پر تحقیقات کرنے میں مصروف ہے، ڈائریکٹر جنرل نیب سکھر نے ابتدائی رپورٹ کیلئے چیئرمین جسٹس جاوید اقبال کو ارسال کر دی ہے۔

جس میں کہا گیا ہے کہ سید خورشید شاہ نے اپنی عملی زندگی شعبہ بجلی میں میٹر ریڈر کلرک سے شروع کی تھی اور ان کی ماہانہ تنخواہ سات ہزار روپے تھی جبکہ ان کے اس سہن اور طرز زندگی شایانہ تھی، سید خورشید شاہ کلرک کی نوکری ختم کر کے بعد میں سیاست کے میدان میں آگئے، سیاست میں قدم رکھتے ہی ان کے اثاثوں کی مالیت میں کئی گنا اضافہ ہوا، ابتدائی دنوں میں خورشید شاہ سکھر کے بلدیاتی سطح کے سیاستدان تھے، بعد میں قومی اسمبلی کے ممبر بھی بنتے رہے ہیں اور وفاقی وزیر محنت و افرادی قوت اور وفاقی وزیر مذہبی امور وغیرہ کی وزارتوں کے سربراہ رہے ہیں۔سید خورشید شاہ نے بطور وفاقی وزیر اورسیز پاکستانیوں کیلئے اسلام آباد میں ہاؤسنگ سوسائٹی بنائی اور اربوں روپے کی زمین کی خریداری کی وزیر بنتے ہی سید خورشید شاہ کے اثاثوں میں کئی گنا اضافہ ہوا ہے، نواز شریف آخری دور میں وہ پی اے سی کے چیئرمین بھی رہے ہیں اور اربوں روپے کے آڈٹ اعتراضات ختم کئے گئے جس سے قومی خزانہ کو اربوں روپے کے نقصانات پہنچانے والے کرپٹ افراد کو فائدہ دیا گیا، نیب ذرائع نے بتایا ہے کہ تحقیقاتی افسران نے کلرک سے وزیر تک کے عرصہ کے دوران سید خورشید شاہ کی آمدن اور اثاثوں کا مکمل ریکارڈ حاصل کر لیا ہے اثاثوں میں سید خورشید شاہ کے کئی ایکٹر زمین، محل نما گھروں کی لاتعداد، شہری جائیداد ڈیری فارمز اور بینک اکاؤنٹس کا ریکارڈ حاصل کیا گیا ہے۔

موضوعات:



کالم



چانس


آپ مورگن فری مین کی کہانی بھی سنیے‘ یہ ہالی ووڈ…

جنرل عاصم منیر کی ہارڈ سٹیٹ

میں جوں ہی سڑک کی دوسری سائیڈ پر پہنچا‘ مجھے…

فنگر پرنٹس کی کہانی۔۔ محسن نقوی کے لیے

میرے والد انتقال سے قبل اپنے گائوں میں 17 کنال…

نارمل معاشرے کا متلاشی پاکستان

’’اوئے پنڈی وال‘ کدھر جل سیں‘‘ میں نے گھبرا…

آپ کی امداد کے مستحق دو مزید ادارے

یہ2006ء کی انگلینڈ کی ایک سرد شام تھی‘پارک میںایک…

بلوچستان میں کیا ہو رہا ہے (دوسرا حصہ)

بلوچستان کے موجودہ حالات سمجھنے کے لیے ہمیں 1971ء…

بلوچستان میں کیا ہو رہا ہے؟ (پہلا حصہ)

قیام پاکستان کے وقت بلوچستان پانچ آزاد ریاستوں…

اچھی زندگی

’’چلیں آپ بیڈ پر لیٹ جائیں‘ انجیکشن کا وقت ہو…

سنبھلنے کے علاوہ

’’میں خانہ کعبہ کے سامنے کھڑا تھا اور وہ مجھے…

ہم سیاحت کیسے بڑھا سکتے ہیں؟

میرے پاس چند دن قبل ازبکستان کے سفیر اپنے سٹاف…

تیسری عالمی جنگ تیار(دوسرا حصہ)

ولادی میر زیلنسکی کی بدتمیزی کی دوسری وجہ اس…