اتوار‬‮ ، 23 اگست‬‮ 2026 

سانحہ ماڈل ٹاؤن ،نوازشریف ،شہبازشریف اور سابق وزراء کو طلب کیا جائیگا یا نہیں؟لاہور ہائیکورٹ نے فیصلہ سنا دیا

datetime 26  ستمبر‬‮  2018 |

لاہور( آن لائن )سانحہ ماڈل ٹاؤن کیس میں عدالت نے نواز شریف ، شہباز شریف اور دیگر وزرا کو طلب کرنے کی درخواستیں مسترد کر دیں۔تفصیلات کے مطابق لاہور ہائیکورٹ میں جسٹس قاسم خان کی سربراہی میں تین رکنی بنچ نے ماڈل ٹاؤن کیس میں نواز شریف ، شہباز شریف اور دیگر وزرا کو استغاثہ میں طلب کرنے کے لیے عدالت میں دائر کی گئی درخواست پر محفوظ فیصلہ سناتے ہوئے

نواز شریف ، شہباز شریف اور دیگر وزرا کو طلب کرنے کی درخواستیں مسترد کر دی ہیں۔ سابق آئی جی پنجاب مشتاق سکھیرا نے بھی انسداد دہشتگردی کی عدالت میں اپنی طلبی کو چیلنج کر رکھا تھا ، آج کی سماعت میں عدالت نے سابق آئی جی مشتاق سکھیرا کی درخواست بھی خارج کرتے ہوئے ان کی اے ٹی سی میں پیشی کا حکم برقرار رکھا اور سابق آئی جی کو اے ٹی سی کے سامنے پیش ہونے کا حکم دے دیا۔یاد رہے کہ ٹرائل کورٹ نے نواز شریف اور شہباز شریف سمیت کئی سابق وزرا کو بے گناہ قرار دیا تھا جس کے خلاف پاکستان عوامی تحریک نے لاہور ہائیکورٹ میں درخواست دائر کی تھی۔ لاہور ہائی کورٹ نے 27 جون 2018 کو سانحہ ماڈل ٹاؤن استغاثہ کیس میں میاں محمد نواز شریف ، شہباز شریف سمیت13 سیاستدانوں کو طلب نہ کرنے کے خلاف درخواست پر فیصلہ محفوظ کیا۔جسٹس قاسم خان کی سربراہی میں تین رکنی بنچ نے منہاج القرآن کی جانب سے دائر درخواست کی سماعت کی۔ درخواست گزار کے وکلا نے دلائل دیے کہ سانحہ ماڈل ٹاون ایک سوچی سمجھی سازش تھی جس میں میاں نوازشریف اور شہباز شریف سمیت ن لیگ کی اعلی سیاسی شخصیات شامل تھیں۔ درخواست گزار نے عدالت کو بتایا کہ سانحہ ماڈل ٹاؤن کے حوالے سے انسداد دہشت گردی عدالت میں استغاثہ دائر کیا گیا جس میں ان تمام سیاسی شخصیات کو فریق بنایا گیا مگر عدالت نے ان کو طلب نہیں کیا اور محض پولیس افسران کو ہی نوٹس جاری کیے۔

منہاج القرآن کی جانب سے پیش ہونے والے وکیل نے بینچ کو بتایا کہ میرے موکل کی جانب سے انسداد دہشت گردی کی عدالت میں تمام تر ثبوت پیش کیے گئے۔ انہوں نے عدالت کو آگاہ کیا کہ ثبوتوں سے ثابت ہوتا ہے کہ میاں نواز شریف ، شہباز شریف ، رانا ثنااللہ ، خواجہ آصف، چوہدری نثار ، خواجہ سعد رفیق سمیت ن لیگی رہنما ہی اس قتل عام کے ماسٹر مائنڈ ہیں لہذا عدالت حکم دے کہ ان تمام شخصیات کو طلب کیا جائے۔

سابق آئی جی پنجاب مشتاق سکھیرا نے بھی انسداد دہشت گردی عدالت کی جانب سے طلب کیے جانے کے خلاف درخواست دائر کر رکھی تھی جس میں موقف اختیار کیا گیا کہ ان کا سانحہ سے کوئی تعلق نہیں کیونکہ واقعے کے وقت وہ آئی جی پنجاب کے عہدے پر تعینات نہیں تھے۔عدالت میں منہاج القرآن کی جانب سے متعدد دستاویزی اور ویڈیو ثبوت بھی پیش کیے گئے، بنچ نے وکلا کے دلائل مکمل ہونے کے بعد فیصلہ محفوظ کر لیا تھا جو آج سنا دیا گیا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)


ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…