جمعرات‬‮ ، 08 جنوری‬‮ 2026 

نواز شریف کی رہائی کی مدت میں کتنے روز توسیع کا امکان ہے؟ شہبازشریف سرگرم ہوگئے،قانونی ماہرین نے بھی بڑا نقطہ اٹھا دیا

datetime 16  ستمبر‬‮  2018 |

اسلام آباد(اے این این ) سابق وزیر اعظم نواز شریف کی رہائی کی مدت40روز تک بڑھانے کیلئے شہباز شریف نے اعلیٰ حکام سے رابطے کر لئے ،جاتی امراء کو سب جیل قرار دئیے جانے کا امکان ۔ تفصیلات کے مطابق سابق وزیر اعظم نواز شریف کو ان کی اہلیہ بیگم کلثوم نواز کی نماز جنازہ میں شرکت ، تجہیز و تکفین اور تعزیتی رسومات میں شرکت کیلئے حکومت پنجاب نے 5روز کیلئے پیرول پر رہا کیا تھا ۔

ان کے ساتھ ان کی بیٹی مریم نواز اور داماد کیپٹن(ر) محمد صفدر کو پیرول پر رہا کیا گیا تھا۔پیرول کی یہ پانچ روزہ مدت آج اتوار کو رات 12بجے ختم ہو رہی ہے جس کے بعد تینوں افراد کو اڈیالہ جیل بھیج دینا تھا تاہم اب ایک بار پھر سابق وزیر اعلیٰ پنجاب میاں شہباز شریف نے اعلیٰ حکام سے رابطے کئے اور وہ نواز شریف کی رہائی میں 40روز کی توسیع چاہتے ہیں ۔ان کی خواہش ہے کہ نواز شریف کو رسم چہلم تک جاتی امراء میں قیام کرنے کی اجازت دی جائے۔بیگم کلثوم نواز کے انتقال پر بھی نواز شریف کے انکار پر شہباز شریف نے ہی درخواست دی تھی۔ ممتاز آئینی اور قانونی ماہرین کی رہائی ہے کہ نواز شریف کو 40روز تک پیرول پر آزاد نہیں رکھا جا سکتا۔سابق وزیر اعظم کو جیل قانون کے آرٹیکل 545-Bکے تحت 12گھنٹوں کیلئے پیرول پر رہا کیا گیا تھا لیکن اس کیس میں غیر معمولی طور پر اضافہ کرتے ہوئے رہائی کی مدت کوپانچ روز کیلئے بڑھایا گیا۔ایڈووکیٹ طیب بلال کا کہنا ہے کہ کسی بھی قیدی کی 40دن کی رہائی آئین اور قانون سے متصادم ہے ۔قانون میں ایسی کوئی گنجائش نہیں ہے ۔نواز شریف کی طویل رخصت کے لئے جاتی امراء کو سب جیل قرار دیا جا سکتا ہے ۔قانونی ماہرین کا کہنا ہے کہ جیل سے رہائی کی خواہش ہر قیدی کا حق ہے تاہم ایسے اقدامات پر بہت سے سوال اٹھائے جا سکتے ہیں خاص کر ان حالات میں جب ملک اور صوبے میں ن لیگ کی بد ترین حریف جماعت تحریک انصاف کی حکومت ہے اور نواز شریف کو بڑے قیدی کا درجہ بھی حاصل ہے اور عمران خان گاہے بگائے سب کیلئے ایک قانون کی بات بھی کرتے رہے ہیں ۔ اپنے بدترین مخالف کو غیر معمولی سہولیات دینا عمران خان کیلئے بھی مسائل پیدا کر سکتا ہے ۔

موضوعات:

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پرسی پولس


شیراز ریجن کا اصل کمال پرسی پولس (Persepolis) ہے‘ یہ…

سائرس یا ذوالقرنین

میرے سامنے پتھروں کی مستطیل عمارت تھی‘ فرش کے…

ایک دن ذوالقرنین کے مقبرے پر

میدان کی پچھلی جانب پہاڑ تھے‘ ان پر تازہ برف…

کام یابی کے دو فارمولے

کمرہ صحافیوں سے بھرا ہوا تھا‘ دنیا جہاں کا میڈیا…

وزیراعظم بھینسیں بھی رکھ لیں

جمشید رتن ٹاٹا بھارت کے سب سے بڑے کاروباری گروپ…

جہانگیری کی جعلی ڈگری

میرے پاس چند دن قبل ایک نوجوان آیا‘ وہ الیکٹریکل…

تاحیات

قیدی کی حالت خراب تھی‘ کپڑے گندے‘ بدبودار اور…

جو نہیں آتا اس کی قدر

’’آپ فائز کو نہیں لے کر آئے‘ میں نے کہا تھا آپ…

ویل ڈن شہباز شریف

بارہ دسمبر جمعہ کے دن ترکمانستان کے دارالحکومت…

اسے بھی اٹھا لیں

یہ 18 اکتوبر2020ء کی بات ہے‘ مریم نواز اور کیپٹن…

جج کا بیٹا

اسلام آباد میں یکم دسمبر کی رات ایک انتہائی دل…