کیا یہ وہ تبدیلی ہے جس کا خواب قوم نے دیکھا تھا اور کیا نیا پاکستان پچھلے پاکستان سے زیادہ سخت اور ظالم ہو گا،عمران اب کیا کرنیوالے ہیں؟ جاویدچودھری کاتجزیہ‎

  جمعرات‬‮ 13 ستمبر‬‮ 2018  |  21:53

انگریز کے دور میں ایک تھانیدار تھا‘ وہ نالائق تھا‘ وہ عموماً مجرم گرفتار نہیں کر پاتا تھا لیکن اس کے علاقے میں جب بھی چوری ہوتی تھی تو وہ سڑک پر چلتے کسی بھی شریف آدمی کو پکڑ کر اسے جوتے مارنا شروع کر دیتا تھا‘ وہ شریف آدمی اس سے اپنا جرم پوچھتا تھا تو تھانیدار کہتا تھا کسی بدبخت چور نے شہر میں ایک بار پھر چوری کر لی ہے‘ جوتے کھانے والا شریف آدمی کہتا تھا جناب چوری چور نے کی ہے لیکن آپ چور پکڑنے کی بجائے مجھے جوتے مار رہے ہیں‘ یہ کہاں کا انصاف

ہے‘ تھانیدار جواب دیتا تھا میں اگر چور نہیں پکڑسکتا تو کیا اس کا مطلب ہے میں کسی کو جوتے بھی نہ ماروں۔ خواتین و حضرات ہماری حکومتیں بھی تھانیدار ہیں‘ 20 کروڑ لوگوں کے اس ملک میں صرف 15 لاکھ لوگ ٹیکس دیتے ہیں‘ گویا ایک ہزار لوگوں میں سے صرف پانچ لوگ ٹیکس پیئر ہیں‘ باقی ٹیکس چور ہیں لیکن حکومتیں ان ٹیکس چوروں کو پکڑنے کی بجائے ہمیشہ ٹیکس دینے والے‘ 15لاکھ ٹیکس پیئرز کو جوتے مارتی ہیں‘ آپ کو یاد ہو گا عمران خان نے ٹیکس کے بارے میں کہا تھا، عوام کا خیال تھا نئے پاکستان کی نئی حکومت پچھلی حکومتوں کی جوتا مار پالیسی جاری نہیں رکھے گی‘ یہ ٹیکس پیئرز کو رعایت دے گی اور ٹیکس چوروں کو پکڑے گی لیکن کل سے جو خبریں آ رہی ہیں ان سے یوں محسوس ہوتا ہے یہ حکومت ٹیکس پیئرز کو رعایت دینا تو دور یہ پچھلی حکومت کی ٹیکس رعایتیں بھی واپس لے رہی ہے اور یہ فکس ٹیکس کی شکل میں جوتوں میں بھی اضافہ کر رہی ہے‘ کیا یہ وہ تبدیلی ہے جس کا خواب قوم نے دیکھا تھا اور کیا نیا پاکستان پچھلے پاکستان سے زیادہ سخت اور ظالم ہو گا‘ ہم یہ سوال فنانس بل آنے تک موخر کرتے ہیں اور آج کے موضوع کی طرف آتے ہیں، ن لیگ کے تمام منصوبوں کا فرانسک آڈٹ شروع ہو رہا ہے‘ کیا ن لیگ اس آڈٹ کے بعد سیاست کر سکے گی‘ بلاول بھٹو نے کلثوم نواز صاحبہ کے جنازے میں شرکت کیلئے وفد بنا دیا‘ یہ نوجوان قائد کی ایک اور سیاسی میچورٹی ہے اور نواز شریف کی سزا معطلی کے کیس میں نیب کی مشکلات میں اضافہ ہو رہا ہے‘ ہم یہ بھی ڈسکس کریں گے‘ ہمارے ساتھ رہیے گا۔

موضوعات:

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں