جمعہ‬‮ ، 21 اگست‬‮ 2026 

سندھ میں لکیر کے فقیر کی طرح کام چل رہا ہے، کھربوں لگا کر بھی کو صاف پانی کے بجائے زہریلا پانی پلایاجارہا ہے،سپریم کورٹ

datetime 26  جون‬‮  2018 |

کراچی (مانیٹرنگ ڈیسک)سپریم کورٹ نے کہا ہے کہ سندھ میں لکیر کے فقیر کی طرح کام چل رہا ہے،20 سال سے منصوبے چل رہے ہیں کھربوں لگا کر بھی لوگوں کو صاف پانی کے بجائے زہریلا پانی پلایاجارہا ہے۔سندھ حکومت کے ادارے چاہتے ہیں لوگ اسی طرح مرتے رہیں ،سپریم کورٹ کراچی رجسٹری میں منچھر جھیل آلودگی سے متعلق ازخود نوٹس کی سماعت کے دوران عدالت نے سیکریٹری آبپاشی پر سخت برہمی کااظہار کیا۔

عدالت نے ریمارکس دئے کہ 8 سال سے کیس چل رہا ہے آلودگی سے مچھلیاں مر رہی ہیں، کچھ عرصے بعد پولٹری کی صنعت بھی ختم ہو جائے گی۔ مگر کوئی پیش رفت نہیں ہوئی۔ جسٹس گلزار احمد نے ریمارکس دئے کہ سندھ حکومت کے ادارے چاہتے ہیں کہ لوگ اسی طرح مرتے رہیں، ترکی والوں نے پورا سمندر صاف کردیا،آپ سے کچھ نہیں ہوتا، اس طرح دنیا بھی آپ پر رحم نہیں کھائے گی۔نتائج نہ ملے تو ذمہ داران کو جیل بھیجیں گے۔ عدالت نے دوران سماعت استفسار کیا کہ بتایا جائے کیا گٹر، سڑکیں اور نالے صاف کرانا کیا عدالتوں کا کام ہے۔عدالت نے ریمارکس دئے کہ 20 سال سے منصوبے چل رہے ہیں مگر صاف پانی کا قطرہ نہیں مل سکا، کیا سندھ حکومت نے کوئی ایک درخت بھی لگایا؟ عدالت نے استفسار کیا کہ منچھر جھیل کا پانی کب تک قابل استعمال ہوسکے گا؟سیکریٹری آبپاشی نے عدالت کو بتایا کہ منچھر جھیل صاف کررہے ہیں، جلد پیشرفت سامنے آجائے گی۔جس پر عدالت نے ریمارکس دئے کہ کھربوں روپے خرچ کرکے بھی سندھ کے لوگوں کو زہرپلا رہے ہیں، بتایا جائے منچھر جھیل پر کتنے فنڈر جاری اور خرچ ہوئے،اگر حساب مانگ لیں تو ایک پیسہ بھی خرچ نہیں ہوا ہوگا، 20 سال کا حساب دینا ہوگا۔

کہاں کتنا پیسہ خرچ کیا،عدالت نے سیکریٹری آبپاشی کو مخاطب کرتے ہوئے ریمارکس دئے کہ کام نہیں کیا تو آپ کو بھی جیل بھجوادیں گے،عدالت نے اپنے ریمارکس میں مزید کہا کہ سندھ میں انسان ریوڑ کی طرح گھوم رہے ہیں ان کی پرواہ کون کرے گا، 2010 کے سیلاب کا پانی محفوظ ہوتا تو10 سال استعمال کرتے، اگر بارشیں ہوجائیں تو پانی کہاں محفوظ کریں گے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)


مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…