جمعہ‬‮ ، 21 اگست‬‮ 2026 

رمضان پروگرامز سے متعلق عدالتی حکم کی خلاف ورزی پر 8ٹی وی چینلز کو نوٹسز جاری

datetime 22  مئی‬‮  2018 |

اسلام آباد(انٹرنیشنل پریس ایجنسی) اسلام آباد ہائی کورٹ نے رمضان پروگرامز سے متعلق عدالتی حکم کی خلاف ورزی پر 8 ٹی وی چینلز کو نوٹسز جاری کردیے ہیں۔اسلام آباد ہائی کورٹ میں درخواست گزار کی جانب سے توہین عدالت کی درخواست دائر کی گئی، جس میں موقف اختیار کیا گیا کہ مختلف ٹی وی چینلز اس طرح کے پروگرام نشر کر رہے ہیں جو عدالتی حکم کی خلاف ورزی ہے۔
اس پر ہائیکورٹ کے جسٹس شوکت عزیز صدیقی نے

متعلقہ ٹی وی چینلز اور اینکر پرسن کو نوٹس جاری کرتے ہوئے سماعت بدھ 23 مئی تک ملتوی کردی۔واضح رہے کہ 9 مئی کو اسلام آباد ہائی کورٹ کے جسٹس شوکت عزیز صدیقی کی جانب سے ایک فیصلے میں ٹی وی چینلز کو یہ حکم دیا گیا تھا کہ رمضان المبارک میں لاٹری، جوا اور سرکس جیسے پروگرامز پر پابندی ہوگی۔۔عدالت نے اپنے مختصر فیصلے میں کہا تھا کہ رمضان کے مبارک مہینے میں پیمرا کی گائڈلائن کے برخلاف کوئی پروگرام نشر نہیں ہوگا اور تمام پروگراموں کی سخت نگرانی کی جائے گی جبکہ خلاف ورزی کرنے والے کے خلاف کارروائی ہوگی۔عدالتی حکم میں کہا گیا کہ کوئی لاٹری اور جوا پر مشتمل پروگرام، یہاں تک کے حج اور عمرے کے ٹکٹس کے حوالے سے بھی کسی چیز کو براہ راست یا ریکارڈیڈ نشر نہیں کیا جائے گا، اس کے علاوہ نیلام گھر اور سرکس جیسے پروگرامات لازمی رکنے چاہئیں۔اس کے علاوہ عدالتی حکم میں کہا گیا تھا کہ غیر ملکی مواد، خاص طور پر بھارتی ڈارمے، اشتہارات اور فلموں پر پابندی ہوگی جبکہ صرف 10 فیصد غیر ملکی مواد ضابطہ اخلاق کے تحت نشر کرنے کی اجازت ہوگی اور اس میں ریاست اور اسلام مخالف چیزوں کی مانیٹرنگ ہونی چاہیے۔۔عدالت میزبان ڈاکٹر عامر لیاقت،، ساحر لودھی، فہد مصطفیٰ اور وسیم بادامی کو خبر دار کرتے ہوئے کہا تھا کہ اگر وہ باز نہ آئے تو تاحیات پابندی لگا دیں گے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)


مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…