جمعہ‬‮ ، 04 اپریل‬‮ 2025 

امریکہ اور بھارت ، دھونس دھاندلی نہیں چلے گی ، پاکستان کا ایسا کرارار جواب کہ دونوں کو مرچیں لگ گئیں

datetime 9  جنوری‬‮  2018
ہمارا واٹس ایپ چینل جوائن کریں

اسلام آباد(آئی این پی ) وزیر دفاع خرم دستگیر نے کہا ہے کہ امریکا کھربوں ڈالرز خرچ کرنے اور اپنے سیکڑوں فوجی مروانے کے بعد بھی دہشت گردی کے خلاف جنگ نہیں جیت سکا،ب پاکستان کو قربانی کا بکرا بنانے کی کوشش کی جا رہی ہے، پاکستان اپنے تعاون کی قیمت نہیں بلکہ قربانیوں کا اعتراف چاہتا ہے، افغان جنگ پاکستان کی سرزمین پر نہیں لڑنے دیں گے،سعودی عرب، ترکی

اور چین کے ساتھ ہمارے تعلقات مثالی ہیں،پاکستان کے روس کے ساتھ تعلقات بہتر ہو رہے ہیں، آرمی چیف کے دورہ ایران کے بعد صورتحال انتہائی سازگار ہوئی ہے، بھارت کا کردار منفی اور پاکستان کے خلاف ہے،دہشت گردوں کے ٹھکانے ختم کیے،2 سال سے اعلی سطح پر اسٹریٹیجک مذاکرات میں تعطل ہے، افغانستان کا 43 فیصد رقبہ شورش زدہ اور دہشت گردوں کے محفوظ ٹھکانوں کا مرکز ہے۔ منگل کو اسلام آباد میں تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیر دفاع خرم دستگیر نے کہا کہ پاکستان کے روس کے ساتھ تعلقات بہتر ہو رہے ہیں، دونوں ملکوں کے درمیان اسلحے کی خرید و فروخت اور فوجی مشقیں ہوئی ہیں، آرمی چیف کے دورہ ایران کے بعد صورتحال انتہائی سازگار ہوئی ہے، حال ہی میں پاک، ایران دوطرفہ قومی سلامتی مشیران کی ملاقات بھی ہوئی۔ انہوں نے کہا کہ سعودی عرب، ترکی اور چین کے ساتھ ہمارے تعلقات مثالی ہیں۔وزیر دفاع نے کہا کہ امریکا کا کہتاہے کہ بھارت کسی کے لیے خطرہ نہیں تاہم پاکستان ایسا نہیں سمجھتا، بھارت کا کردار منفی اور پاکستان کے خلاف ہے۔ وہ مسلسل پاکستان دشمنی پر مبنی اقدامات پر عمل پیرا ہے، بھارت پاکستان کے خلاف کولڈ اسٹارٹ اور چین کے خلاف مانٹین ڈویژنز ڈاکٹرائن تشکیل دے رہا ہے، کنٹرول لائن اور ورکنگ بانڈری پر بھارتی اشتعال انگیزی بھی تشویش کا باعث ہے جب کہ مقبوضہ کشمیر میں جاری بھارتی مظالم دنیا کے

سامنے عیاں ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ مغرب اور دیگر سرحدوں سے پاکستان کو غیر مستحکم کرنے کی بھارتی حکمت عملی ہے۔ انہوں نے کہا امریکا نے کھربوں ڈالرز خرچ کرنے اور اپنے سیکڑوں فوجی مروانے کے بعد بھی دہشت گردی کے خلاف جنگ نہیں جیتی، وہ افغانستان میں ہار رہا ہے لہذا پاکستان کو قربانی کا بکرا بنانے کی کوشش کی جا رہی ہے، امریکی وزیردفاع نے خود تسلیم کیا

کہ امریکا افغانستان میں کامیاب نہیں ہوپارہا۔ انہوں نے کہا کہ ہم نے ہزاروں انسانی جانوں کی قربانیاں دیں اور دے رہے ہیں، پاکستان اپنے تعاون کی قیمت نہیں بلکہ قربانیوں کا اعتراف چاہتا ہے، افغان جنگ پاکستان کی سرزمین پر نہیں لڑنے دیں گے، کھربوں ڈالرز اور لاکھوں فوجیوں کے باوجود بھی امریکا صرف 40 فیصد افغانستان پر کنٹرول پاسکا ہے۔ انہوں نے کہا کہ امریکا افغان سرحد پر باڑ

لگانے میں مدد کے بجائے اب الزام تراشیاں کررہا ہے، کیا ہم نے فضائی اور زمینی راہداری کی فراہمی پر قیمت لگائی، کیا ہم نے انٹیلی جنس تعاون پر قیمت لگائی، کیا قیمتی انسانی جانوں کا کوئی نعم البدل ہے۔ انہوں نے کہا پاکستان کی مسلح افواج نے آپریشن ضرب عضب، ردالفساد اور بحری آپریشن میں بہت کچھ کیا، پاکستان نے اپنی سرزمین سے دہشت گردوں کے ٹھکانے ختم کیے۔خرم دستگیر

نے کہا کہ 2 سال سے اعلی سطح پر اسٹریٹیجک مذاکرات میں تعطل ہے، افغانستان کا 43 فیصد رقبہ شورش زدہ اور دہشت گردوں کے محفوظ ٹھکانوں کا مرکز ہے لہذا امریکا، نیٹو اور افغان فورسز اپنی حدود میں وہی کریں جس کا وہ پاکستان سے تقاضا کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ امریکا کو زمینی و فضائی راہداری، فوجی اڈے دینا پرویز مشرف دور کا سیاہ باب ہے، 2011 میں اسامہ بن لادن کی

پاکستان میں ہلاکت کا صرف پردہ اٹھایا گیا تاہم آج امریکا نے تمام پردے چاک کر دیے، اب مذاکرات ہوئے تو سب کچھ میز پر سامنے رکھا جائے گا، افغانستان کو پرامن، خوشحال اور مستحکم دیکھنا چاہتے ہیں۔ انہوں نے کہا پاکستان، امریکا دوطرفہ مسائل سے افغان مسئلہ پس پردہ چلا جائے گا جب کہ ایران اور روس کے ساتھ امریکا کے تنازعات سب کے سامنے ہیں لہذا اب پاکستان ہی امریکا کے لیے

واحد راہداری باقی بچتی ہے۔وزیر دفاع نے کہا کہ پاکستان کا دفاع انتہائی مستحکم اور مضبوط ہے، پاکستان دہشت گردی، توانائی اور معاشی بحران کے اندھیرے سے نکل چکا ہے، اب لیفٹیننٹ معید شہید جیسے مزید جوان شہید ہونے کے لیے نہیں دیں گے، ملکی دفاعی ضروریات کے پیش نظر دیکھنا ہو گا کہ مسلح افواج کو کب کہاں کردار ادا کرنا ہے، دفاع کو مزید مستحکم اور متحرک بنا رہے ہیں جس پر عمل جاری ہے۔

موضوعات:



کالم



چانس


آپ مورگن فری مین کی کہانی بھی سنیے‘ یہ ہالی ووڈ…

جنرل عاصم منیر کی ہارڈ سٹیٹ

میں جوں ہی سڑک کی دوسری سائیڈ پر پہنچا‘ مجھے…

فنگر پرنٹس کی کہانی۔۔ محسن نقوی کے لیے

میرے والد انتقال سے قبل اپنے گائوں میں 17 کنال…

نارمل معاشرے کا متلاشی پاکستان

’’اوئے پنڈی وال‘ کدھر جل سیں‘‘ میں نے گھبرا…

آپ کی امداد کے مستحق دو مزید ادارے

یہ2006ء کی انگلینڈ کی ایک سرد شام تھی‘پارک میںایک…

بلوچستان میں کیا ہو رہا ہے (دوسرا حصہ)

بلوچستان کے موجودہ حالات سمجھنے کے لیے ہمیں 1971ء…

بلوچستان میں کیا ہو رہا ہے؟ (پہلا حصہ)

قیام پاکستان کے وقت بلوچستان پانچ آزاد ریاستوں…

اچھی زندگی

’’چلیں آپ بیڈ پر لیٹ جائیں‘ انجیکشن کا وقت ہو…

سنبھلنے کے علاوہ

’’میں خانہ کعبہ کے سامنے کھڑا تھا اور وہ مجھے…

ہم سیاحت کیسے بڑھا سکتے ہیں؟

میرے پاس چند دن قبل ازبکستان کے سفیر اپنے سٹاف…

تیسری عالمی جنگ تیار(دوسرا حصہ)

ولادی میر زیلنسکی کی بدتمیزی کی دوسری وجہ اس…