اتوار‬‮ ، 23 اگست‬‮ 2026 

پاکستان کی بڑی یونیورسٹی میں طلبہ اور طالبات کے ساتھ بیٹھنے اور گھومنے پر پابندی عائد کردی گئی

datetime 24  دسمبر‬‮  2017 |

چارسدہ (مانیٹرنگ ڈیسک) دستخط شدہ مختصر اعلامیہ میں کہا گیا ہے کہ یونیورسٹی کی حدود میں طلبا و طالبات کا ایک دوسرے کے ساتھ بیٹھنے یا طالبات کا یونیورسٹی کے مرد ملازمین کے ساتھ گھومنے پھرنے پر پابندی لگا دی گئی ہے۔پاکستان کے صوبے خیبر پختونخوا کے ضلع چارسدہ میں واقع باچا خان یونیورسٹی کی انتظامیہ نے کیمپس کی حدود میں طلبا اور طالبات کے اکھٹا بیٹھنے اور گھومنے پھرنے پر پابندی عائد کردی ہے۔ یہ فیصلہ

چند دن پہلے یونیورسٹی انتظامیہ کی طرف سے جاری کردہ ایک اعلامیہ میں کیا گیا ہے۔ باچا خان یونیورسٹی کے چیف پراکٹر ڈاکٹر محمد شکیل کے دستخط شدہ مختصر اعلامیہ میں کہا گیا ہے کہ یونیورسٹی کی حدود میں طلبا و طالبات کا ایک دوسرے کے ساتھ بیٹھنے یا طالبات کا یونیورسٹی کے مرد ملازمین کے ساتھ گھومنے پھرنے پر پابندی لگا دی گئی ہے۔اعلامیہ میں مزید کہا گیا ہے کہ انتظامیہ کی جانب سے کیمپس کی حدود میں سگریٹ نوشی کرنے، چھتوں پر چڑھنے، اور داخلہ لینے والے نئے طلبہ کے ساتھ ہنسی مذاق کرنے پر بھی پابندی عائد کر دی گئی ہے۔ اس کے علاوہ اعلامیے کے مطابق یونیورسٹی انتظامیہ نے کمیپس کی حدود میں مردوں کے چادر پہننے پر بھی پابندی لگا دی ہے۔بی بی سی کے نمائندے رفعت اللہ اورکزئی سے بات کرتے ہوئے پراکٹر ڈاکٹر محمد شکیل نے کہا کہ ‘ہم یونی ورسٹی کو کسی مدرسے کی طرح نہیں بنا رہے لیکن ہم یہ بھی نہیں چاہتے کہ طلبہ اور طالبات یونیورسٹی میں بلاوجہ فارغ بیٹھ کر وقت ضائع کریں۔’دوسری جانب باچا خان یونیورسٹی کے ترجمان سعید خان نے بی بی سی کو تصدیق ضرور کی کہ یونیورسٹی انتظامیہ نے کمیپس کی حدود میں لڑکے لڑکیوں کا ایک دوسرے کے ساتھ بیٹھنے پر پابندی لگا دی ہے لیکن انھوں نے ساتھ یہ بھی کہا کہ انہیں اس اعلامیہ کے بارے میں آج ہی معلوم ہوا ہے۔ترجمان کے مطابق باچا خان یونیورسٹی بھی ملک کے دیگر تعلیمی اداروں کی طرح ایک یونیورسٹی

ہے جہاں مخلوط نظام تعلیم رائج ہے اور جہاں لڑکے لڑکیوں کا آپس میں بیٹھنا اور گھومنا پھرنا عام سی بات ہے۔ تاہم انہوں نے کہا کہ انہیں خود بھی اس بات کی سمجھ نہیں آرہی کہ یہ پابندی کیوں لگائی گئی ہے۔ادھر سماجی رابطوں کے ویب سائٹوں پر باچا خان یونیورسٹی کی طرف سے جاری کردہ اعلامیہ کو بڑے پیمانے پر شئیر کیا گیا ہے جس پر صارفین کی جانب سے طرح طرح کے تبصرے کیے جا رہے ہیں۔پشاور کے نوجوان صحافی عبدالرف یوسفزئی نے اعلامیہ پر تبصرہ کرتے ہوئے لکھا ہے کہ ‘ یہ فیصلہ ہمیں ملک میں اعلی تعلیم کی پستی کی حالت بتاتا ہے۔’

ایک اور صارف ساجد علی لکھتا ہے کہ اس فیصلے میں کوئی قباحت نظر نہیں آتی، کئی مغربی ممالک میں ایسے تعلیمی ادارے موجود ہیں جہاں سگریٹ نوشی پر کوئی پابندی نہیں۔خیال رہے کہ باچا خان یونیورسٹی پانچ سال قبل سابق عوامی نیشنل پارٹی اور پیپلز پارٹی کی مخلوط حکومت میں قائم ہوئی تھی۔تاہم یہ یونیورسٹی جنوری 2016 میں اس وقت دنیا کی توجہ کا مرکز بنی جب اس ادارے میں صبح کے وقت چار شدت پسند یونیورسٹی میں داخل ہوئے اور ان کے حملے میں 14 طلبہ سمیت 18 افراد ہلاک ہو گئے تھے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)


ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…