جمعرات‬‮ ، 12 مارچ‬‮ 2026 

عمران خان کیس کا موازنہ محمد نواز شریف کے کیس سے کیوں نہیں کیا جاسکتا،سپریم کورٹ کے فیصلے میں جسٹس فیصل عرب کے اضافی نوٹ میں کیا لکھا ہے؟ مکمل متن

datetime 15  دسمبر‬‮  2017 |

اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک) سپریم کورٹ کے جج جسٹس فیصل عرب نے پاکستان مسلم لیگ (ن) کے رہنماء حنیف عباسی کی تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان اور سیکرٹری جنرل جہانگیر ترین کی نا اہلی کیلئے دائر درخواستوں پر فیصلے کیساتھ ایک اضافی نوٹ میں سابق وزیراعظم میاں محمد نواز شریف کیخلاف انتہائی سخت ریمارکس دیئے ہیں۔اضافی نوٹ میں کہا گیا ہے کہ عمران خان کیس کے حقائق نواز شریف کیس سے بہت مختلف ہیں،

عمران خان کے کیس کا موزانہ نواز شریف کے کیس سے نہیں کیا جاسکتا۔ جمعہ کو سپریم کورٹ آف پاکستان کے چیف جسٹس میاں ثاقب نثار کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے عمران خان اور جہانگیر ترین کی نا اہلی کیلئے حنیف عباسی کی دائر درخواستوں پر فیصلہ سنایا۔ تین رکنی بینچ میں چیف جسٹس میاں ثاقب نثار کے علاوہ جسٹس عمر عطاء بندیال اور جسٹس فیصل عرب شامل تھے ۔ سپریم کورٹ کے چیف جسٹس میاں ثاقب نثار نے فیصلہ سناتے ہوئے تحریک انصاف کے سیکرٹری جنرل جہانگیر ترین کو نا اہل قرار دیا جبکہ عمران خان کی نا اہلی کیلئے حنیف عباسی کی درخواست خارج کردی۔ فیصلے کیساتھ سپریم کور کے جج جسٹس فیصل عرب نے ایک اضافی نوٹ بھی لکھا جس میں کہا گیا ہے کہ عمران خان کیس کے حقائق نواز شریف کیس سے بہت مختلف ہیں، اضافی نوٹ میں کہا گیا ہے کہ نواز شریف کیس میں منی لانڈرنگ، کرپشن ، ذرائع سے زائد آمدن کے سنگین الزامات ہیں، عمران خان کے کیس کا موازنہ نواز شریف کے کیس کیساتھ نہیں کیا جاسکتا۔ جسٹس فیصل عرب نے کہا کہ حقیقت یہ ہے کہ نواز شریف تیس سال میں کئی بار عوامی عہدیدار رہ چکے ہیں انہوں نے کہا کہ نواز شریف پہلے وزیر خزانہ رہے ، وزیراعلی رہ چکے ہیں اور وزیراعظم بھی رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ نواز شریف کیس میں طے ہوا تھا کہ ایسے شخص کا ایماندار، شفاف، اچھی ساکھ کا ہونا ضروری ہے۔

جسٹس فیصل عرب نے کہا کہ شریف خاندان اثاثوں کے ذرائع سے متعلق تسلی بخش جواب نہیں دے سکا، ان اثاثوں میں 840 ملین روپے کے ملنے والے تحائف بھی شامل ہیں۔ ان اثاثوں میں لندن کے چار فلیٹس ، العزیزیہ سٹیل فیکٹری اور گلف سٹیل مل شامل ہیں ۔ جسٹس فیصل عرب نے کہا کہ یہ تحائف نواز شریف کو ان کے بیٹوں کی طرف سے ملے تھے ۔ جسٹس فیصل عرب نے کہا کہ نواز شریف کے یہ اثاثے عوامی عہدے پر براجمان ہونے سے پہلے نہیں تھے۔ اضافی نوٹ میں کہا گیا ہے کہ جے آئی ٹی تحقیقات سے معلوم ہوا کہ نواز شریف کیپٹل ایف زیڈ ای کے چیئرمین تھے ۔ نواز شریف کیپٹل ایف زیڈ ای سے دس ہزار درہم تنخواہ وصول کرتے رہے ۔ تحقیقات میں پتہ چلا کہ ایف زیڈ ای 2003ء سے 2014ء تک کام کرتی رہی ۔ تحقیقات میں پتہ چلا کہ نواز شریف نے یہ اثاثے ظاہر نہیں کئے۔

اضافی نوٹ میں کہا گیا ہے کہ سپریم کورٹ نے یہ کہا کہ یو اے ای قوانین کے تحت تمام ملازمین کو آن لائن تنخواہ جاتی ہے ۔ سپریم کورٹ نے قرار دیا کہ نواز شریف نے عوامی عہدے پر رہتے ہوئے تنخواہ چھپائی۔ اضافی نوٹ میں کہا گیا کہ پانامہ کیس میں عدالت نے قرار دیا کہ نواز شریف کی جانب سے تنخواہ چھپانا بددیانتی ہے۔ کوئی بھی اس وجہ سے نہیں بچ سکتا کہ اس نے مالک سے تنخواہ نہیں لی ۔ جسٹس فیصل عرب نے کہا کہ جان بوجھ کر بھی تنخواہ نہ لی جائے تو ٹیکس دینا ضروری ہوتا ہے۔ کچھ حصہ یا پوری تنخواہ وصول کرنے یا نہ کرنے سے فرق نہیں پڑتا ۔اضافی نوٹ میں کہا گیا ہے کہ عمران خان کا لندن فلیٹ این ایس ایل کے تحت حاصل کیا گیا ۔ عمران خان کا فلیٹ ٹیکس ادائیگی کیساتھ صاف ستھری رقم سے خریدا گیا۔ اضافی نوٹ میں کہا گیا ہے کہ عمران خان کیس میں لندن فلیٹ کی ملکیت 2002ء کے الیکشن میں ظاہر کی گئی۔ جسٹس فیصل عرب نے کہا کہ پانامہ کیس میں نہ خرچ کرنے والی تنخواہ کو ظاہر نہ کرنے پر نا اہل قرار دیا گیا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



مذہبی جنگ(دوسرا حصہ)


بنی اسرائیل نے فلسطین واپسی کے بعد یہودا قبیلے…

مذہبی جنگ

رچرڈ نکسن امریکا کے 37ویں صدر تھے‘ یہ بھی ڈونلڈ…

اینڈ آف مسلم ورلڈ

ہمیں ایران امریکا جنگ کے نتیجے کو سمجھنے کے لیے…

عربوں کا کیا قصورہے؟

ایف 35 دنیا کا مضبوط اور مہلک ترین فائٹر جیٹ ہے‘…

اختتام کا آغاز

’’ہمارے پاس صرف 35 سال ہیں‘ ہم ان میں جتنا جی…

امانت خان شیرازی

بادشاہ اس وقت برہان پور میں تھا‘ مغل دور میں…

ہائوس آف شریف

جنرل غلام جیلانی نے جنرل ضیاء الحق کو آرمی چیف…

نواز شریف کی سیاست میں انٹری

لارنس گارڈن کے کرکٹ گرائونڈ میں میچ چل رہا تھا‘…

چوہے کھانا بند کریں

ہندوستان کا کوئی شہزادہ مہاتما بودھ کے پاس گیا…

رعونت پر بکھری ہوئی خاک

کراچی میں وسیم انصاری نام کا ایک چھوٹا سا سٹیج…

وہ واقعہ جو کتاب میں نہیں

1999ء میں دو وزیراعظم ہانگ کانگ میں ایک ہی ہوٹل…