جمعرات‬‮ ، 24 ستمبر‬‮ 2026 

امریکی صدر ٹرمپ نے بھی تاریخ کا بہت بڑا پنگا شروع کر دیا،سابق امریکی صدر بش نے کیاپیش گوئی کی تھی جوپوری ہونے کا وقت آگیا،شریف برادران کیخلاف آخری کوششیں شروع،حکومت سینٹ الیکشن تک پہنچ پائے گی یا نہیں؟ جاوید چودھری کاتجزیہ‎

datetime 7  دسمبر‬‮  2017 |

پنجابی کا ایک لفظ ہے پنگا۔ اس کا مطلب ایک ایسا کام ہوتا ہے جس کا فائدہ کوئی نہیں لیکن نقصان بے شمار ہوں گے‘ دنیا نے آج تک قدرتی آفتوں سے اتنا نقصان نہیں اٹھایا جتنا نقصان اسے پنگوں کی وجہ سے اٹھانا پڑا‘ پہلی عالمی جنگ ہو‘ دوسری عالمی جنگ ہو‘ امریکا کی طرف سے ویتنام کی جنگ ہو‘ سوویت یونین کا افغانستان پر حملہ ہو‘ ایران عراق جنگ ہو‘ عراق کا کویت پر قبضہ ہو‘ صدام حسین اور کرنل قذافی کی پالیسیاں ہوں‘ حسنی مبارک کا تحریر سکوائر میں لاٹھی چارج ہو‘

رابرٹ موگابے کا اپنی بیگم کو نائب صدر بنانے کی کوشش ہو‘ میاں نواز شریف کی طرف سے ’’یہ ہیں وہ ذرائع‘‘ جیسی تقریریں ہوں‘ سعودی عرب کی یمن اور شام میں مداخلت ہو یا پھر طیب اردگان کی فوج سے چھیڑ چھاڑ ہو آپ کو دنیا کے ہر چھوٹے بڑے بحران کے پیچھے کوئی نہ کوئی پنگا نظر آئے گا‘ ہم انسان جب طاقتور ہو جاتے ہیں تو ہم غرور میں آ جاتے ہیں‘ یہ غرور ہمیں کسی نہ کسی پنگے بازی کی طرف لے جاتا ہے‘ یہ پنگا بازی ہماری ساری طاقت کو نگل جاتی ہے اور آخر میں اس کا وہی نتیجہ نکلتا ہے جو پہلی جنگ عظیم کے بعد آسٹریا اور عثمانی سلطنت‘ دوسری جنگ عظیم کے بعد جرمنی اور جاپان‘ افغان وار کے بعد سوویت یونین اور موجودہ تاریخ میں صدام حسین‘ کرنل قذافی‘ حسنی مبارک اور میاں نواز شریف کا نکلا‘ کل امریکی صدر ٹرمپ نے بھی تاریخ کا بہت بڑا پنگا شروع کر دیا، یہ دوسری جنگ عظیم کے بعد دنیا کا سب سے بڑا پنگا ہے‘ پوری دنیا میں ٹرمپ کے اعلان کے خلاف احتجاج ہو رہا ہے‘ ٹرمپ نے اگر اپنا یہ فیصلہ واپس نہ لیا تو مجھے خطرہ ہے وہ صلیبی جنگیں جن کا خدشہ صدر بش نے نائین الیون کے بعد ظاہر کیا تھا وہ اب شروع ہو جائیں گی اور دنیا واقعی جہنم بن جائے گی‘ اللہ تعالیٰ دنیا کو دوزخ کی اس آگ سے محفوظ رکھے۔ ہم آج کے موضوع کی طرف آتے ہیں حکومت کے خلاف سہ فریقی اتحاد سے یوں محسوس ہوتا ہے شریف برادران کے خلاف آخری کوشش شروع ہو چکی ہے‘ شیخ رشید نے بھی اپنے خدشات کا اظہار کیا۔ اسی قسم کے خدشے کا اظہار آصف علی زرداری نے 5 دسمبر کو جلسے میں بھی کیا تھا، کیا حکومت ان حالات میں سینٹ کے الیکشنوں تک پہنچ پائے گی‘ یہ ہمارا آج کا ایشو ہو گا‘ ہمارے ساتھ رہیے گا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…