جمعرات‬‮ ، 12 فروری‬‮ 2026 

امریکی صدر ٹرمپ نے بھی تاریخ کا بہت بڑا پنگا شروع کر دیا،سابق امریکی صدر بش نے کیاپیش گوئی کی تھی جوپوری ہونے کا وقت آگیا،شریف برادران کیخلاف آخری کوششیں شروع،حکومت سینٹ الیکشن تک پہنچ پائے گی یا نہیں؟ جاوید چودھری کاتجزیہ‎

datetime 7  دسمبر‬‮  2017 |

پنجابی کا ایک لفظ ہے پنگا۔ اس کا مطلب ایک ایسا کام ہوتا ہے جس کا فائدہ کوئی نہیں لیکن نقصان بے شمار ہوں گے‘ دنیا نے آج تک قدرتی آفتوں سے اتنا نقصان نہیں اٹھایا جتنا نقصان اسے پنگوں کی وجہ سے اٹھانا پڑا‘ پہلی عالمی جنگ ہو‘ دوسری عالمی جنگ ہو‘ امریکا کی طرف سے ویتنام کی جنگ ہو‘ سوویت یونین کا افغانستان پر حملہ ہو‘ ایران عراق جنگ ہو‘ عراق کا کویت پر قبضہ ہو‘ صدام حسین اور کرنل قذافی کی پالیسیاں ہوں‘ حسنی مبارک کا تحریر سکوائر میں لاٹھی چارج ہو‘

رابرٹ موگابے کا اپنی بیگم کو نائب صدر بنانے کی کوشش ہو‘ میاں نواز شریف کی طرف سے ’’یہ ہیں وہ ذرائع‘‘ جیسی تقریریں ہوں‘ سعودی عرب کی یمن اور شام میں مداخلت ہو یا پھر طیب اردگان کی فوج سے چھیڑ چھاڑ ہو آپ کو دنیا کے ہر چھوٹے بڑے بحران کے پیچھے کوئی نہ کوئی پنگا نظر آئے گا‘ ہم انسان جب طاقتور ہو جاتے ہیں تو ہم غرور میں آ جاتے ہیں‘ یہ غرور ہمیں کسی نہ کسی پنگے بازی کی طرف لے جاتا ہے‘ یہ پنگا بازی ہماری ساری طاقت کو نگل جاتی ہے اور آخر میں اس کا وہی نتیجہ نکلتا ہے جو پہلی جنگ عظیم کے بعد آسٹریا اور عثمانی سلطنت‘ دوسری جنگ عظیم کے بعد جرمنی اور جاپان‘ افغان وار کے بعد سوویت یونین اور موجودہ تاریخ میں صدام حسین‘ کرنل قذافی‘ حسنی مبارک اور میاں نواز شریف کا نکلا‘ کل امریکی صدر ٹرمپ نے بھی تاریخ کا بہت بڑا پنگا شروع کر دیا، یہ دوسری جنگ عظیم کے بعد دنیا کا سب سے بڑا پنگا ہے‘ پوری دنیا میں ٹرمپ کے اعلان کے خلاف احتجاج ہو رہا ہے‘ ٹرمپ نے اگر اپنا یہ فیصلہ واپس نہ لیا تو مجھے خطرہ ہے وہ صلیبی جنگیں جن کا خدشہ صدر بش نے نائین الیون کے بعد ظاہر کیا تھا وہ اب شروع ہو جائیں گی اور دنیا واقعی جہنم بن جائے گی‘ اللہ تعالیٰ دنیا کو دوزخ کی اس آگ سے محفوظ رکھے۔ ہم آج کے موضوع کی طرف آتے ہیں حکومت کے خلاف سہ فریقی اتحاد سے یوں محسوس ہوتا ہے شریف برادران کے خلاف آخری کوشش شروع ہو چکی ہے‘ شیخ رشید نے بھی اپنے خدشات کا اظہار کیا۔ اسی قسم کے خدشے کا اظہار آصف علی زرداری نے 5 دسمبر کو جلسے میں بھی کیا تھا، کیا حکومت ان حالات میں سینٹ کے الیکشنوں تک پہنچ پائے گی‘ یہ ہمارا آج کا ایشو ہو گا‘ ہمارے ساتھ رہیے گا۔



کالم



شوگر کے مریضوں کے لیے


گرو زاہد سے میرا رابطہ ایک ویڈیو کلپ سے ہوا تھا‘…

بسنت کے معاملے میں

یہ آج سے پندرہ برس پرانی بات ہے‘ میں اپنے بچوں…

بٹرفلائی افیکٹ

وہ دکان کے سامنے پریشان کھڑی تھی‘ اس کے بال الجھے…

آئل اینڈ سپیس وار

مجھے ایران میں مظاہروں کی پہلی اطلاع 31دسمبر 2025ء…

محبت تا ابد

وہ بے چارہ 1627ء تک غیر معروف اور نامعلوم تھا‘…

اصفہان میں دو دن

کاشان سے اصفہان کے لیے دو راستے ہیں‘ پہلا راستہ…

کاشان میں ایک دن

کاشان قم سے ڈیڑھ گھنٹے کی ڈرائیو پر واقع ہے‘…

قم میں آدھا دن

ہم تیسرے دن قم روانہ ہو گئے‘ قم تہران سے ڈیڑھ…

تہران میں کیا دیکھا (سوم)

مجھے امام خمینی کے تین مرلے کے گھر کے بعد شاہ…

تہران میں کیا دیکھا(دوم)

مجھے2024ء میں تہران میں امام خمینی کا گھر اور ایران…

تہران میں کیا دیکھا

ہمارا گروپ 25 دسمبر 2025ء کو تہران پہنچا‘ اسلام…