پیر‬‮ ، 29 جون‬‮ 2026 

اغواء کار ہمیں پٹرول چھڑ ک کر آگ لگانا چاہتے تھے ،جان کیسے بچی ،بازیاب پولیس اہلکاروں کا سنسنی خیز انکشاف

datetime 29  ‬‮نومبر‬‮  2017 |

اسلام آباد (آن لائن)اسلام آباد میں فیض آباد انٹر چینج کے مقام پر مذہبی جماعتوں کے دھرنے کے دوران مبینہ طور پر اغوا کیے گئے 2 پولیس اہلکاروں کا کہنا ہے اغوا کار ان پر پیٹرول چھڑک کر آگ لگانا چاہتے تھے۔خیال رہے کہ مظاہرین نے سب انسپکٹر اسلم حیات اور سب انسپکٹر امانت علی کو فیض آباد دھرنے کے خلاف پولیس کریک ڈاؤن کے دوران راولپنڈی کے ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹر ہسپتال سے اغوا کر لیا تھا بعدازاں ان پر شدید تشدد

کرنے کے بعد زخمی حالت میں انہیں سوہن روڈ پر جھاڑیوں میں پھینک دیا گیا تھا۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق ان کا کہنا تھا کہ دھرنے میں شریک مشتعل افراد جب انہیں زندہ جلانا کا ارادہ رکھتے تھے تو انہوں نے مظاہرین سے اپنی زندگی کی بھیک مانگی اور عین اسی وقت حکومت اور مظاہرین کے درمیان معاہدہ طے پاگیا جس کے بعد انہیں رہا کر دیا گیا۔سب انسپکٹر امانت علی نے بتایا کہ مشتعل افراد ہمیں رات گئے زندہ جلانا چاہتے تھے لیکن ہم نے اپنی زندگی کی بھیک مانگی اور انہیں یقین دلایا کہ ہم قصور وار نہیں ہیں۔امانت علی کو ڈنڈوں اور بجلی کی تاروں سے تشدد کا نشانہ بنایا گیا تھا اور وہ اس وقت ہسپتال میں زیرِ علاج ہیں جنہیں جلد گھر بھیج دیا جائے گا۔سب انسپکٹر اسلم حیات کو بھی تشدد کا نشانہ بنایا گیا جس کے باعث ان کے بائیں ہاتھ میں فریکچر آیا تھا تاہم انہیں ہسپتال سے ڈسچارج کردیا گیا جبکہ ڈاکٹرز نے انہیں مزید ایک ماہ تک آرام کرنے کا مشورہ دیا۔امانت علی نے مزید بتایا کہ فیض آباد میں عارضی خیموں میں سے ایک خیمے میں موجود پولیس اہلکاروں کو 10 سے زائد مشتعل افراد نے تشدد کا نشانہ بنایا تھا۔امانت علی کے صاحبزادے سخاوت علی نے بتایا کہ مظاہرین نے ان کے والد سے موبائل فون اور ان کی جیب میں موجود نقدی بھی چھین لی تھی جبکہ انہوں نے ان کا یونیفارم بھی

پھاڑ دیا تھا۔ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ اغوا کاروں نے اہلکاروں کی درخواست کے باوجود انہیں کھانا اور پانی فراہم نہیں کیا جبکہ انہیں حکومت اور مظاہرین کے درمیان ہونے والے معاہدے کے بعد رہا کیا گیا۔راولپنڈی پولیس کے سینئر اہلکار کا کہنا ہے کہ اس واقعے کا مقدمہ نا معلوم افراد کے خلاف درج کیا جاچکا ہے تاہم حکومت اور مظاہرین کے درمیان ہونے والے معاہدے کی وجہ سے اس مقدمے کی کارروائی عمل میں نہیں لائی جاسکی۔ان کا یہ بھی

کہنا تھا کہ یہ کیس اب دبا دیا گیا ہے جو پہلے سے ہی اپنی تنخواہوں، مراعات اور اپنے سینئر کے رویے کی وجہ سے مایوس پولیس اہلکاروں کو مزید مایوس کرے گا۔ایک اور سینئر پولیس اہلکار کا کہنا ہے کہ وہ ابھی مزید کسی اہلکار کی گمشدگی کے حوالے سے تصدیق یا تردید نہیں کر سکتے تاہم پولیس اہلکاروں اور ان کے ہتھیاروں اور دیگر سامان کی گنتی کے بعد ہی حتمی طور پر کچھ بتایا جائے گا۔ان کا مزید کہنا تھا کہ پولیس اہلکاروں کے گمشدہ وائر لیس سیٹ بھی تشویش کی وجہ ہیں کیونکہ کوئی بھی شخص وائر لیس سیٹ کی مدد سے پولیس اہلکاروں کے درمیان ہونے والی گفتگو کو با آسانی سن سکتا ہے جبکہ اس سے ملکی سیکیورٹی کو بھی شدید خطرات لاحق ہو سکتے ہیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



دنیا کا سب سے بڑا غار


چانگ چاچے کے مضافات میں ایک اور حیران کن سیاحتی…

اواتار مائونٹین

اواتار فلم 2009 ء میں آئی‘ پوری دنیا میں دیکھی…

فورنگ میں ایک رات

ہماری لینڈ لیڈی کے والدین غریب تھے‘ وہ ٹائون…

محمد بوٹا انجم

محمد بوٹا میاں چنوں کے گائوں چک 15 میں پیدا ہوا‘…

فلم میں بھی ہارنے سے انکار

یہ تبلیسی شہر تھا‘ اکتوبر کی 8 تاریخ تھی اور سن…

Pale Blue Dot

کارل ایڈورڈ سیگن (Carl Edward Sagan) خلانورد اور پلانٹری…

نصیب کی مکھی

ٹومی فلیٹ ووڈ (Tommy Fleetwood) دنیا کا مشہور گالفر ہے‘…

8 بجے تک

میرا جم میرے گھر سے پانچ منٹ کی دوری پر ہے‘ میں…

ریو سیکریٹو

دریا کا پانی صاف اور شفاف تھا‘ مایا لوگ یہ پانی…

تلوم اور تلوم سے آگے

ہم کوبا سے واپسی پر تلوم (Talum) رکے‘ یہ مایا تہذیب…

کوبا مایان

کوبا مایان (Coba Mayan) ہماری پہلی منزل تھا‘ کین کون…