منگل‬‮ ، 25 اگست‬‮ 2026 

بے نظیر قتل کیس :پولیس افسران کی عدالتی فیصلہ کیخلاف اپیلیں سماعت کیلئے منظور ،فریقین کو نوٹس جاری

datetime 11  ستمبر‬‮  2017 |

راولپنڈی (آن لائن)عدالت عالیہ راولپنڈی بنچ کے جسٹس محمد طارق عباسی اور جسٹس حبیب اللہ عامرپر مشتمل ڈویژن بنچ نے سابق وزیراعظم بے نظیر بھٹو قتل کیس میں قید اورجرمانے کی سزا پانے والے دونوں پولیس افسران کی اپیلوں میں فریقین کو نوٹس جاری کرتے ہوئے جواب طلب کر لیا ہے جسٹس محمد طارق عباسی اور جسٹس حبیب اللہ عامرپر مشتمل ڈویژن بنچ نے اپیلیں سماعت کے لئے منظور کرتے ہوئے سٹیٹ اور ایس ایچ او تھانہ سٹی کاشف ریاض کو نوٹس جاری کر دیئے ہیں

پیر کے روز سماعت کے موقع پرسابق سٹی پولیس افسر (سی پی او)راولپنڈی سعود عزیز اور سابق سپرنٹنڈنٹ پولیس (ایس پی)راول ڈویژن خرم شہزادحیدرکی جانب سے غنیم عبیر ایڈووکیٹ پیش ہوئے دونوں پولیس افسران نے انسداد دہشت گردی راولپنڈی کی خصوصی عدالت نمبر1کے فیصلے کوچیلنج کرتے ہوئے عدالت عالیہ راولپنڈی بنچ میں سزا کے خلاف 7ستمبرکواپیلیں دائر کی تھیں سابق سٹی پولیس افسر (سی پی او)راولپنڈی سعود عزیز اور سابق سپرنٹنڈنٹ پولیس (ایس پی)راول ڈویژن خرم شہزادحیدر نے اپنے وکلااعظم نذیر تارڑ،ایس ایم فرہاد ترمذی اور راجہ غنیم عبیر خان کے ذریعے دائر اپیل میں سٹیٹ اور ایس ایچ او تھانہ سٹی کاشف ریاض کو فریق بناتے ہوئے موقف اختیار کیا کہ ان کی سزائیں کالعدم قرار دے کرانہیں رہا کیا جائے پٹیشن میں موقف اختیار کیا گیاکہ درخواست گزاروں نے بے نظیر بھٹو کے جلسہ گاہ کو سکیورٹی فراہم کی تھی، جو سروسز مہیا کر رہا تھا اسی کو نشانہ بنا دیا گیاحالانکہ استغاثہ کے پاس درخواست گزار کے خلاف کوئی ٹھوس شہادت بھی موجود نہیں جبکہ گواہان کے بیانات بھی تضادات سے بھرپور ہیں اس طرح قانون شہادت کے تحت فوجداری قوانین کی رو سے مقدمے کا ٹرائل کیا گیا اور نہ ہی عدالتی فیصلے میں انکوائری رپورٹس کو مدنظر رکھا گیافیصلے کے مطابق گرفتار 5 ملزمان اعتزاز شاہ، حسنین گل، شیر زمان، رفاقت اور رشید ترابی کو بری کردیا گیا

جبکہ درخواست گزار کو مجرم قرار دے کرمحض شبے اور گمان کی بنیاد پر17، 17 سال قید اور10لاکھ روپے فی کس جرمانے کی سزاسنائی اور سابق صدر پرویز مشرف کو اشتہاری قرار دے کر ان کے دائمی وارنٹ گرفتاری جاری کرنے کے علاوہ جائیداد قرق کرنے کا حکم بھی دے دیااپیل میں استدعا کی گئی ہے کہ عجلت میں سنائے گئے فیصلے کو کالعدم قرار دے کر انہیں رہا کیا جائے یاد رہے کہ انسداد دہشت گردی راولپنڈی کی خصوصی عدالت نمبر1کے جج اصغر خان نے بے نظیر قتل کیس کا ٹرائل مکمل ہونے پر 31اگست2017کوسابق سی پی او سعود عزیز اور سابق ایس پی راول ڈویژن خرم شہزاد حیدرکو تعزیرات پاکستان کی دفعہ 119اور201کے تحت مجموعی طور پر 17,17سال قید اور10لاکھ روپے فی کس جرمانے کی سزا سنائی تھی سانحہ لیاقت باغ میں سابق وزیر اعظم بے نظیر بھٹو سمیت 23افراد جاں بحق اور70سے زائد زخمی ہو گئے تھے جس پر تھانہ سٹی کے ایس ایچ او کاشف ریاض کی مدعیت میں مقدمہ نمبر471/07درج کیا گیا تھا ۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں
آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)


ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…