پیر‬‮ ، 12 جنوری‬‮ 2026 

وزیر اعظم کی زیر صدارت اعلیٰ سطحی اجلاس ،آرمی چیف سمیت عسکری حکام کی شرکت،فاٹا کے بارے میں اہم فیصلہ

datetime 8  ستمبر‬‮  2017 |

اسلام آباد (این این آئی)وزیر اعظم کی زیر صدارت قومی کمیٹی کے اعلیٰ سطح اجلاس میں وفاق کے زیر انتظام قبائلی علاقہ جات (فاٹا) کو مرکزی دھارے میں لانے کیلئے قانون سازی اور انتظامی اقدامات تیز کر نے کا فیصلہ کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ فاٹا کو قومی دھارے میں لانے کیلئے مکمل پر عزم ہیں ٗ جامع ریفارمز کا مقصد فاٹا کے عوام کا معیار زندگی بہتر بنانا ہے۔ جمعہ کو فاٹا اصلاحات پر عملدرآمد بارے قومی کمیٹی کا اعلیٰ سطحی اجلاس وزیر شاہد خاقان عباسی کی زیر صدارت ہوا

جس میں کمیٹی کے دیگر ارکان میں چیف آف آرمی سٹاف جنرل قمر جاوید باجوہ، گورنر خیبرپختونخوا اقبال ظفر جھگڑا، وزیر اعلیٰ خیبرپختونخوا پرویز خٹک، وزیر سیفران لیفٹیننٹ جنرل (ر) عبدالقادر بلوچ، وزیر قانون و انصاف زاہد حامد، ڈپٹی چیئرمین پلاننگ کمیشن سرتاج عزیز اور سینئر سول و عسکری حکام شریک ہوئے ۔اجلاس کے دور ان کمیٹی نے فاٹا اصلاحات پر پارلیمنٹ اور قبائلی علاقوں کے مثبت ردعمل پر اطمینان کا اظہار کیا جن کی منظوری کابینہ نے 2 مارچ کو دی تھی۔ کمیٹی نے اصلاحات پر عملدرآمد کے عمل کو تیز کرنے کے لئے کئی فیصلے بھی کئے۔ کمیٹی نے پولیس کی تیزی سے بھرتی اور تربیت کے بعد پولیس امور کار کی انجام دہی کے لئے کچھ تعداد میں فرنٹیئر کانسٹیبلری کی ازسرنو تعیناتی کی منظوری دی۔ عبوری مدت کے لئے مناسب انتظامی نظام قائم کرنے کا بھی فیصلہ کیا گیا جبکہ عبوری عرصے کے لئے چیف آپریٹنگ آفیسر کے عہدے کی تخلیق کا بھی فیصلہ کیا گیا۔ چیف آف آرمی سٹاف جنرل قمر جاوید باجوہ نے کمیٹی کو گزشتہ چند برسوں کے دوران پورے فاٹا میں ریاستی عملداری قائم ہونے کے حوالے سے حاصل ہونے والی کامیابیوں اور سیکورٹی اور بارڈر انفراسٹرکچر کو تقویت دینے کے لئے اٹھائے جانے والے اقدامات اور ترقیاتی کاوشوں کے بارے میں آگاہ کیا۔ وزیراعظم نے اس امر کا اعادہ کیا کہ ان اصلاحات کا بنیادی مقصد فاٹا کے عوام کی زندگیوں کو بہتر بنانا ہے

موضوعات:

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



ذورین نظامانی غلط نہیں کہہ رہا


والد صاحب نے مجھے پکڑ لیا‘ ان کے ہاتھ میں جوتا…

پرسی پولس

شیراز ریجن کا اصل کمال پرسی پولس (Persepolis) ہے‘ یہ…

سائرس یا ذوالقرنین

میرے سامنے پتھروں کی مستطیل عمارت تھی‘ فرش کے…

ایک دن ذوالقرنین کے مقبرے پر

میدان کی پچھلی جانب پہاڑ تھے‘ ان پر تازہ برف…

کام یابی کے دو فارمولے

کمرہ صحافیوں سے بھرا ہوا تھا‘ دنیا جہاں کا میڈیا…

وزیراعظم بھینسیں بھی رکھ لیں

جمشید رتن ٹاٹا بھارت کے سب سے بڑے کاروباری گروپ…

جہانگیری کی جعلی ڈگری

میرے پاس چند دن قبل ایک نوجوان آیا‘ وہ الیکٹریکل…

تاحیات

قیدی کی حالت خراب تھی‘ کپڑے گندے‘ بدبودار اور…

جو نہیں آتا اس کی قدر

’’آپ فائز کو نہیں لے کر آئے‘ میں نے کہا تھا آپ…

ویل ڈن شہباز شریف

بارہ دسمبر جمعہ کے دن ترکمانستان کے دارالحکومت…

اسے بھی اٹھا لیں

یہ 18 اکتوبر2020ء کی بات ہے‘ مریم نواز اور کیپٹن…