منگل‬‮ ، 25 اگست‬‮ 2026 

وزیر اعظم کی زیر صدارت اعلیٰ سطحی اجلاس ،آرمی چیف سمیت عسکری حکام کی شرکت،فاٹا کے بارے میں اہم فیصلہ

datetime 8  ستمبر‬‮  2017 |

اسلام آباد (این این آئی)وزیر اعظم کی زیر صدارت قومی کمیٹی کے اعلیٰ سطح اجلاس میں وفاق کے زیر انتظام قبائلی علاقہ جات (فاٹا) کو مرکزی دھارے میں لانے کیلئے قانون سازی اور انتظامی اقدامات تیز کر نے کا فیصلہ کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ فاٹا کو قومی دھارے میں لانے کیلئے مکمل پر عزم ہیں ٗ جامع ریفارمز کا مقصد فاٹا کے عوام کا معیار زندگی بہتر بنانا ہے۔ جمعہ کو فاٹا اصلاحات پر عملدرآمد بارے قومی کمیٹی کا اعلیٰ سطحی اجلاس وزیر شاہد خاقان عباسی کی زیر صدارت ہوا

جس میں کمیٹی کے دیگر ارکان میں چیف آف آرمی سٹاف جنرل قمر جاوید باجوہ، گورنر خیبرپختونخوا اقبال ظفر جھگڑا، وزیر اعلیٰ خیبرپختونخوا پرویز خٹک، وزیر سیفران لیفٹیننٹ جنرل (ر) عبدالقادر بلوچ، وزیر قانون و انصاف زاہد حامد، ڈپٹی چیئرمین پلاننگ کمیشن سرتاج عزیز اور سینئر سول و عسکری حکام شریک ہوئے ۔اجلاس کے دور ان کمیٹی نے فاٹا اصلاحات پر پارلیمنٹ اور قبائلی علاقوں کے مثبت ردعمل پر اطمینان کا اظہار کیا جن کی منظوری کابینہ نے 2 مارچ کو دی تھی۔ کمیٹی نے اصلاحات پر عملدرآمد کے عمل کو تیز کرنے کے لئے کئی فیصلے بھی کئے۔ کمیٹی نے پولیس کی تیزی سے بھرتی اور تربیت کے بعد پولیس امور کار کی انجام دہی کے لئے کچھ تعداد میں فرنٹیئر کانسٹیبلری کی ازسرنو تعیناتی کی منظوری دی۔ عبوری مدت کے لئے مناسب انتظامی نظام قائم کرنے کا بھی فیصلہ کیا گیا جبکہ عبوری عرصے کے لئے چیف آپریٹنگ آفیسر کے عہدے کی تخلیق کا بھی فیصلہ کیا گیا۔ چیف آف آرمی سٹاف جنرل قمر جاوید باجوہ نے کمیٹی کو گزشتہ چند برسوں کے دوران پورے فاٹا میں ریاستی عملداری قائم ہونے کے حوالے سے حاصل ہونے والی کامیابیوں اور سیکورٹی اور بارڈر انفراسٹرکچر کو تقویت دینے کے لئے اٹھائے جانے والے اقدامات اور ترقیاتی کاوشوں کے بارے میں آگاہ کیا۔ وزیراعظم نے اس امر کا اعادہ کیا کہ ان اصلاحات کا بنیادی مقصد فاٹا کے عوام کی زندگیوں کو بہتر بنانا ہے

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں
آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)


ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…