ہفتہ‬‮ ، 10 اکتوبر‬‮ 2026 

کلثوم نواز کا علاج لندن کے جس ہسپتال میں ہوا اس ہسپتال کے بارے میں ایسی بات منظر عام پر آگئی کہ کوئی سوچ بھی نہیں سکتاتھا‎

datetime 1  ستمبر‬‮  2017 |

اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک) معروف کالم نگار مسعود خان نے دعویٰ کیا ہے سابق وزیراعظم کی اہلیہ کلثوم نواز کا علاج جس سینٹرل لندن ہسپتال میں علاج جاری ہے وہ لندن میں ہے ہی نہیں۔ تفصیلات کے مطابق معروف کالم نگار مسعود خان نے قومی اخبار میں اپنے لکھے گئے کالم میں سابق وزیراعظم نواز شریف کی اہلیہ کلثوم نواز کی بیماری کے حوالے سے تہلکہ خیز انکشاف کیا گیا ہے۔ مسعود خان نے اپنے کالم میں کلثوم نواز کی جلد صحت یابی کے لیے دعا بھی کی ہے۔

دوسری طرف ان کے ایک دوست جو لندن آتے جاتے رہتے ہیں، انہوں نے بتایا ہے کہ لندن میں سینٹرل لندن نامی کوئی ہسپتال سرے سے موجود ہی نہیں ہے۔ واضح رہے کہ شریف خاندان کی طرف سے یہ بتایا گیا ہے کہ کلثوم نواز کے کینسر کا علاج سینٹرل لندن نامی ہسپتال میں ہو رہا ہے۔ کالم نگار مسعود خان نے کہا کہ لندن میں اس نام سے کوئی ہسپتال موجود ہی نہیں ہے۔ لندن میں سینٹر مڈل سیکس نامی ہسپتال ضرور موجود ہے لیکن کینسر کے مرض کے علاج کی سہولت اس ہسپتال میں بھی نہیں ہے۔ کالم نگار مسعود خان نے کہا کہ شریف خاندان کے ترجمان کی طرف سے اس تمام معاملے کو لے کر کیے جانے والے ہوم ورک میں کچھ کمی رہ گئی ہے۔ انہوں نے اپنے کالم میں دعویٰ کیا ہے کہ سینٹرل لندن نامی ہسپتال لندن میں موجود ہی نہیں ہے۔ دریں اثناء سابق وزیراعظم میاں نوازشریف کی اہلیہ کلثوم نواز ہسپتال سے گھر منتقل ہوگئیں۔کلثوم نواز کو برطانوی ڈاکٹروں نے بلڈ کینسر تشخیص کیا ہے جس کے علاج کیلئے وہ ان دنوں لندن میں موجود ہیں جہاں گزشتہ روز ان کی سرجری بھی ہوئی تھی ٗ اپنی اہلیہ کی تیمارداری کیلئے نوازشریف بھی ان کے پاس ہیں۔ حسین نواز کے صاحبزادے زیر حسین نواز نے کلثوم نواز کے گھر پہنچنے کی تصدیق سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر کی۔اپنی ٹوئٹ میں انہوں نے لکھا کہ الحمداللہ ہم گھر واپس پہنچ گئے ہیں انہوں نے کہا کہ دادی کے لیے دعاؤں پر سب کا شکریہ ادا کرتا ہوں جب کہ انہوں نے سب کو عید کی بھی مبارکباد دی۔واضح رہے کہ لاہور کے حلقہ این اے 120 کے ضمنی انتخاب میں کلثوم نواز مسلم لیگ (ن) کی امیدوار ہیں اور ان کی انتخابی مہم مریم نواز چلارہی ہیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں
آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(دسواں حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(نواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(آٹھواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(ساتواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چھٹا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(پانچواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…