منگل‬‮ ، 25 اگست‬‮ 2026 

کلثوم نواز کا علاج لندن کے جس ہسپتال میں ہوا اس ہسپتال کے بارے میں ایسی بات منظر عام پر آگئی کہ کوئی سوچ بھی نہیں سکتاتھا‎

datetime 1  ستمبر‬‮  2017 |

اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک) معروف کالم نگار مسعود خان نے دعویٰ کیا ہے سابق وزیراعظم کی اہلیہ کلثوم نواز کا علاج جس سینٹرل لندن ہسپتال میں علاج جاری ہے وہ لندن میں ہے ہی نہیں۔ تفصیلات کے مطابق معروف کالم نگار مسعود خان نے قومی اخبار میں اپنے لکھے گئے کالم میں سابق وزیراعظم نواز شریف کی اہلیہ کلثوم نواز کی بیماری کے حوالے سے تہلکہ خیز انکشاف کیا گیا ہے۔ مسعود خان نے اپنے کالم میں کلثوم نواز کی جلد صحت یابی کے لیے دعا بھی کی ہے۔

دوسری طرف ان کے ایک دوست جو لندن آتے جاتے رہتے ہیں، انہوں نے بتایا ہے کہ لندن میں سینٹرل لندن نامی کوئی ہسپتال سرے سے موجود ہی نہیں ہے۔ واضح رہے کہ شریف خاندان کی طرف سے یہ بتایا گیا ہے کہ کلثوم نواز کے کینسر کا علاج سینٹرل لندن نامی ہسپتال میں ہو رہا ہے۔ کالم نگار مسعود خان نے کہا کہ لندن میں اس نام سے کوئی ہسپتال موجود ہی نہیں ہے۔ لندن میں سینٹر مڈل سیکس نامی ہسپتال ضرور موجود ہے لیکن کینسر کے مرض کے علاج کی سہولت اس ہسپتال میں بھی نہیں ہے۔ کالم نگار مسعود خان نے کہا کہ شریف خاندان کے ترجمان کی طرف سے اس تمام معاملے کو لے کر کیے جانے والے ہوم ورک میں کچھ کمی رہ گئی ہے۔ انہوں نے اپنے کالم میں دعویٰ کیا ہے کہ سینٹرل لندن نامی ہسپتال لندن میں موجود ہی نہیں ہے۔ دریں اثناء سابق وزیراعظم میاں نوازشریف کی اہلیہ کلثوم نواز ہسپتال سے گھر منتقل ہوگئیں۔کلثوم نواز کو برطانوی ڈاکٹروں نے بلڈ کینسر تشخیص کیا ہے جس کے علاج کیلئے وہ ان دنوں لندن میں موجود ہیں جہاں گزشتہ روز ان کی سرجری بھی ہوئی تھی ٗ اپنی اہلیہ کی تیمارداری کیلئے نوازشریف بھی ان کے پاس ہیں۔ حسین نواز کے صاحبزادے زیر حسین نواز نے کلثوم نواز کے گھر پہنچنے کی تصدیق سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر کی۔اپنی ٹوئٹ میں انہوں نے لکھا کہ الحمداللہ ہم گھر واپس پہنچ گئے ہیں انہوں نے کہا کہ دادی کے لیے دعاؤں پر سب کا شکریہ ادا کرتا ہوں جب کہ انہوں نے سب کو عید کی بھی مبارکباد دی۔واضح رہے کہ لاہور کے حلقہ این اے 120 کے ضمنی انتخاب میں کلثوم نواز مسلم لیگ (ن) کی امیدوار ہیں اور ان کی انتخابی مہم مریم نواز چلارہی ہیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں
آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)


ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…