منگل‬‮ ، 25 اگست‬‮ 2026 

چینی ریگولیٹرزنے کبھی ملتان میٹرو کی تحقیقات نہیں کیں یہ تاثرغلط ہے، ایس ای سی پی

datetime 31  اگست‬‮  2017 |

اسلام آباد ( آن لائن ) سیکیورٹی ایکسچینج کمیشن آف پاکستان ( ایس ای سی پی ) نے کہا ہے کہ چین کے ریگولیٹرزنے کبھی ملتان میٹرو کی تحقیقات نہیں کیں، چین کی ریگولیٹری باڈی کاملتان کے میٹرو بس منصوبے کی تحقیقات کرنیکا تاثرغلط ہے، چین کی سیکیورٹیزریگولیٹرنے ملتان میٹرو بس منصوبے سے منسلک کسی فردکابیان رکارڈ نہیں کیا،چین کے ریگولیٹری کمیشن کوچینی کمپنی یابیت کیخلاف تحقیقات میں معاونت دی گئی، چین کے سیکیورٹیز ریگولیٹر کی کوئی بھی ٹیم کبھی پاکستان نہیں آئی ۔

ایس ای سی پی نے ملتان میٹرو بس اسیکنڈل کے حوالے سے اپنے اعلامیے میں کہا کہ چین کی سیکیورٹیزریگولیٹرنے ملتان میٹرو بس منصوبے سے منسلک کسی فردکابیان رکارڈ نہیں کیا، چین کی ریگولیٹری باڈی کاملتان کے میٹرو بس منصوبے کی تحقیقات کرنیکا تاثرغلط ہے،چین کے ریگولیٹری کمیشن کوچینی کمپنی یابیت کیخلاف تحقیقات میں معاونت دی گئی، ایس ای سی پی کے افسران تحقیقات میں رکاوٹوں کاباعث نہیں بنے،چین کے سیکیورٹیز ریگولیٹر کی کوئی بھی ٹیم کبھی پاکستان نہیں آئی۔ ایس ای سی پی کا کہنا ہے کہ ملتان میٹر و منصوبے کے حوالے سے چینی ریگولیٹر کیطرف سے کسی کو ذمے دار قرار دینے تک تحقیقات نہیں کرسکتے، چینی ریگولیٹر تحقیقات سے آگاہ کریگا،حکومت پنجاب،ایف آئی اے کومعلومات دینگے، چینی ریگولیٹر ابھی تک اس سلسلے میں تحقیقات جاری رکھے ہوئے ہیں، چینی ادارے کو متعدد مرتبہ درخواست کی ہے وہ تحقیقات کی تفصیلات سے آگاہ کرے، چینی ریگولیٹر کو ملتان میٹرو کے ٹھِیکے کے حوالے سے رکارڈ بھی دے دیا ہے۔ ایس ای سی پی نے اپنے اعلامیے میں مزید کہا ہے کہ چین کے ریگولیٹرزنے کبھی ملتان میٹرو کی تحقیقات نہیں کیں،دسمبر2016میں چین کی سی ایس آر سی نے اسی ایس سی پی سے کچھ کاغذات مانگے تھے، جو ہم نے فراہم کر دیے ہیں، کاغذات چینی کمپنی یاوات کیطرف سے ان کے سیکیورٹیزقوانین کی خلاف ورزی کے بارے میں تھے ،

چین کے ریگولیٹرزکے ساتھ بین الاقوامی ضابطوں کے مطابق تعاون کیاگیا، چین کی ریگولیٹرزنے تعاون کرنے پر متعدد مرتبہ ایس ای سی پی کاشکریہ ادا کیا ہے ۔ ایس ای سی پی کا کہنا ہے کہ چینی ریگولیٹر نے جولائی 2017ء میں دو خطوط ایس ای سی پی کو لکھے ، خطوط میں یامیت کمپنی کی تعریف کی گئی تھی، خطوط پر وزیراعلیٰ پنجاب شہباز شریف ، سینیٹر مشاہد اللہ اور کلثوم پروین کے دستخط تھے۔ خطوط پر دفتر خارجہ کی تصدیقی مہر ثبت تھی۔ کمپنی یامیت نے دونوں خطوط چینی ریگولیٹرز کو بطور ثبوت پیش کئے تھے۔ خطوط تصدیق کے لئے متعلقہ افراد اور وزارت خارجہ کو بھجوئاے ، چیف سیکرٹری پنجاب نے بتایا کہ خط پر وزیراعلیٰ کے جعلی دستخط ہیں۔ مشاہد اللہ اورکلثوم پروین نے بھی خطوط کو جعلی قرار دیا اور کہا کہ ہمارے دستخط جعلی ہیں۔ خطوط سے متعلق چینی ریگولیٹرز کو آگاہ کر دیا ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں
آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)


ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…