منگل‬‮ ، 25 اگست‬‮ 2026 

سابق وزیر اعظم بینظیر بھٹو قتل کیس کا فیصلہ ہوگیا

datetime 30  اگست‬‮  2017 |

راولپنڈی (این این آئی)راولپنڈی کی انسداد دہشت گردی عدالت نے سابق وزیر اعظم بینظیر بھٹو قتل کیس کا محفوظ کرلیا ٗ ملک کی دو بار وزیر اعظم بننے والی بے نظیر بھٹو قتل کیس کی سماعت مکمل ہونے میں دس سال لگ گئے۔راولپنڈی کی انسداد دہشت گردی عدالت کے جج محمد اصغر خان نے وکلاء اور پراسیکیوٹر کے دلائل مکمل ہونے پر کیس کا فیصلہ محفوظ کرلیا جو 31 اگست کو راولپنڈی کی اڈیالہ جیل میں سنائے جانے کا امکان ہے۔

مقدمے میں سابق صدر جنرل ریٹائرڈ پرویز مشرف کے علاوہ ملزم عماد گل، اکرام اللہ، عبد اللہ، فیض اللہ اور بیت اللہ محسود کو اشتہاری قرار دیا جاچکا ہے جبکہ سابق سی پی او سعود عزیز اور سابق ایس پی خرم شہزاد ضمانت پر ہیں۔اس کے علاوہ پانچ ملزمان اعتزاز شاہ، حسنین گل، شیر زمان، رفاقت اور رشید احمد گرفتاری کے بعد سلاخوں کے پیچھے ہیں۔ایف آئی اے کے پراسیکیوٹر چوہدری اظہر نے دوران سماعت انکشاف کیا تھا کہ پرویز مشرف کو عالمی دہشت گرد تنظیم القاعدہ سے خطرہ ہے جس وجہ سے وہ عدالت میں پیش نہیں ہو رہے، جس کے باعث ان کا کیس باقی ملزمان سے الگ کیا جاچکا ہے۔دہشت گردی عدالت میں ہونے والی سماعت کے دوران مقدمے میں نامزد آخری ملزم اعتزاز شاہ کے وکیل نصیر تنولی نے اپنے دلائل میں کہا کہ ایف آئی اے کی تفتیش نقائص سے بھرپور ہے اس تفتیش میں کسی ملزم سے نہیں پوچھا گیا کہ اسے کب گرفتار کیا گیا جبکہ اسماعیل نامی شخص جسے چالان میں آپریٹر ظاہر کیا گیا عدالت سے ہی بھاگ گیا تھا۔پولیس نے بتایا کہ اسمٰعیل آپریٹر نے بیت اللہ محسود کی فون کال ٹیپ کی تھی، ملزم اعتزاز شاہ کو فدائی حملہ آور بنا دیا گیا جبکہ جس مدرسے سے اس کی ٹریننگ بتائی گئی اس مدرسے کے افراد کو شامل تفتیش ہی نہیں کیا گیا۔ایف آئی اے کے پراسیکیوٹر چوہدری اظہر نے اپنے دلائل میں کہا کہ ملزمان کی گرفتاری کی تاریخوں میں تضاد ہے تو یہ غلطی پولیس کی ہے ایف آئی اے کی نہیں،

حملہ گاڑی کے باہر سے ہوا تو ہم گاڑی میں بیٹھے افراد سے تفتیش کیوں کرتے؟پراسیکیوٹر کے دلائل پر ملزمان کے وکلاء نے اعتراض کرتے ہوئے کہا کہ اگر پراسیکیوٹر تمام گواہان کے بیانات پڑھیں گے تو ہم بھی تیاری کر لیں۔فاضل جج نے ریمارکس دیئے کہ آپ جلدی سے اپنے دلائل مکمل کریں۔مقدمہ کی سماعت کے دوران استغاثہ کی جانب سے 68 گواہان کے بیانات ریکارڈ کیے گئے،

جبکہ پولیس نے 3 اور ایف آئی اے نے 5 چالان عدالت پیش کیے۔کیس کی سماعت کے دوران 8 ججز تبدیل کیے گئے جبکہ مقدمہ کی سماعت کے دوران پراسیکیوٹر چوہدری ذوالفقار کا اسلام آباد میں قتل بھی ہوچکا ہے۔یاد رہے کہ پیپلز پارٹی کی سربراہ اور سابق وزیر اعظم بینظیر بھٹو کو 27 دسمبر 2007 کی شام لیاقت باغ راولپنڈی سے جلسہ ختم کرنے کے بعد زرداری ہاؤس واپس جاتے ہوئے راستے میں فائرنگ کرکے قتل کردیا گیا تھا اسی رات تھانہ سٹی میں واقعے کا مقدمہ درج کیا گیا تھا۔

فروری 2008 میں راولپنڈی پولیس نے ابتدائی طور پر 5 ملزمان کو قاتلوں سے رابطوں کے الزام میں گرفتار کیا تھا تاہم جب پی پی پی نے 2008 میں اپنی حکومت بنائی تو اس کی تفتیش ایف آئی اے کو دے دی گئی تھی۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں
آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)


ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…