منگل‬‮ ، 25 اگست‬‮ 2026 

بینظیر قتل کیس کا فیصلہ ،پورے پاکستان کو جس خبر کا انتظار تھا وہ آگئی

datetime 27  اگست‬‮  2017 |

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک)سابق وزیراعظم بینظیر بھٹوکے قتل کیس میں ایف آئی اے کےپراسیکیوٹرز نے اپنے حتمی دلائل مکمل کر لئے جس کےساتھ یہ اہم ترین مقدمہ9سال7ماہ 27روز بعد حتمی مرحلہ میں داخل ہوگیا ہے اور عید قربان سے دو روز قبل جمعرات31اگست کو اس کا فیصلہ سنائے جانیکا امکان ہے، کل پیر28اگست سے ملزمان کے وکلائ حتمی دلائل کا آغاز کریں گے جو منگل کے روز مکمل ہو جائینگے، انسداد دہشتگردی کی خصوصی عدالت کے جج محمد اصغر خان اس مقدمہ کی سماعت کررہےہیں،

پراسیکیوٹرز چوہدری اظہر اور خواجہ امتیاز نے سرکار کی طرف سے حتمی دلائل پیش کرتے ہوئے کہا کہ تمام ملزمان نے گھاونا جرم کرتے ہوئے بےنظیر بھٹو سمیت23 افراد کو شہید اور72کو زخمی کیا، انہیں سخت ترین سزائیں دی جائیں، بےنظیر بھٹو کا قتل ایک منظم سازش تھی، گرفتار ملزمان نے بھی اقبالی بیانات میں سازش کی تصدیق کی ہے، بےنظیر بھٹو کی باکس سیکورٹی سی پی او سعود عزیز نے دانستہ ختم کر کے حملہ آوروں کو آسان ٹارگٹ فراہم کیا، کرائم سیندانستہ طور پر فوری دھوکر شاہد مٹائے گئے، باکس سیکورٹی کے ذمہ دار ایس پی اشفاق انور تھے جو بےنظیر بھٹو کو صرف تیزہ منٹ میں فیض آباد سے لیاقت باغ تک لائے مگر جلسہ کے دوران اسلام آباد کی حدود میں نواز شریف کے جلوس پر مسلم لیگ ن اور مسلم لیگ ق کے کارکنوں میں  تصادم کے بعد باکس سیکورٹی توڑتے ہوئے سی پی او نے ایس پی اشفاق انور کو نفری کےساتھ کورال اسلام آباد بھیج دیا،‎ وہاں اسلام آباد پولیس پہلے سے ہی موجود تھی جس پر اشفاق انور کو وہاں سے صادق آباد بھیج دیا گیا جہاں ایس پی ایوب طاہر اور ایس پی جاوید موجود تھے اگر سی پی او باکس سیکورٹی نہ توڑتے تو یہ حادثہ نہ ہوتا، باکس سیکورٹی توڑنے کی تصدیق اپنے بیانات اور جرح میں3ایس پی افسران اشفاق انور، طاہر ایوب اور جاوید خان نے کی ہے، ڈاکٹر مصدق نے بیان میں تصدیق کی ہے کہ سی پی او سعود عزیز نے جبری طور پر بےنظیر بھٹو کی لاش کا پوسٹ مارٹم نہیں ہونے دیا

جبکہ جے آئی ٹی کے سربراہ واجد ضیا(سربراہ جے آئی ٹی پانامہ کیس) نے بھی اپنے بیان میں کہا ہے کہ بےنظیر بھٹو کی لاش کا پوسٹ مارٹم پولیس کی آئینی و قانونی ذمہ داری تھی جو پوری نہیں کی گئی، ڈاکٹروں کی ٹیم کے سربراہ ڈاکٹر مصدق نے اپنے بیان میں تصدیق کی ہے کہ سی پی او سے انہوں نے تین بار پوسٹ مارٹم کرنے کی اجازت مانگی، تیسری بار انہوں نے سخت ترین جملے کہتے ہوئے روک دیا جبکہ گواہان نے کرائم سین بھی جبری دھونے کے بیانات دیئے ہیں، کرائم سین دھونے کے تیسرے دن جے آئی ٹی نے وہاں سے پستول کا خول برآمد کیا،فرانزک رپورٹ میں اس کی تصدیق ہوگئی کہ یہ وہی خول ہے جس پستول سے بےنظیر بھٹو پر فائرنگ کی گئی تھی، سرکاری دلائل میں کہا گیا ہے کہ استغاثہ نے جرم شاہد کےساتھ ثابت کر دیا ہے اور ملزمان اس وقت کے سی پی او سعود عزیز ، ایس پی خرم شہزاد، اعتزاز شاہ، شیر زمان، رفاقت، حسنین، عبدالرشید کو سخت ترین سزائیں دینے کی سفارش کی ہے۔‎

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں
آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)


ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…