منگل‬‮ ، 25 اگست‬‮ 2026 

شریف فیملی کے لیے ایک اور بری خبر، سپریم کورٹ نے جے آئی ٹی کے سربراہ واجد ضیاء کو ایسے کام کی اجازت دیدی کہ سوچا بھی نہ ہوگا

datetime 26  اگست‬‮  2017 |

اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک) نیب کی طرف سے سپریم کورٹ کو جے آئی ٹی ممبران کے بیانات قلمبند کرنے کی درخواست کی گئی تھی جو کہ سپریم کورٹ نے منظور کر لی ہے، نیب نے شریف خاندان کے خلاف ریفرنسز دائر کرنے کے لیے مشترکہ تحقیقاتی ٹیم کے بیانات ریکارڈ کرنے کے لیے سپریم کورٹ میں دائر درخواست کو نگران جسٹس اعجاز الحسن نے منظور کر لیا۔ نیب نے گزشتہ ہفتے نگران جج کو درخواست دی تھی،

نگران جج جسٹس اعجاز الحسن نے مشترکہ تحقیقاتی ٹیم کے ارکان کے بیان قلمبند کرنے کی اجازت دے دی ہے، نیب جے آئی ٹی کے بطور استغاثہ گواہ بیانات قلمبند کرے گا۔ اگلے ہفتے مشترکہ تحقیقاتی ٹیم کے بیانات ریکارڈ کیے جائیں گے، واضح رہے کہ جے آئی ٹی کے سربراہ واجد ضیاء نے سپریم کورٹ کی اجازت کے بغیر بیان دینے سے انکار کر دیا تھا۔ دریں اثناء پاناما کیس کی تحقیقات کرنے والی مشترکہ تحقیقاتی ٹیم نے اپنی رپورٹ سپریم کورٹ میں جمع کروائی تھی، اور اسی رپورٹ پر سپریم کورٹ نے سابق وزیراعظم نواز شریف کو نااہل قرار دیا، ان کی نااہلی کے بعد نیب کو ریفرنس دائر کرنے کا کہا گیا اور سپریم کورٹ کے اس فیصلے پر عملدرآمد کی نگرانی کے لیے جج جسٹس اعجاز الحسن کو مقرر کیا گیا، واضح رہے کہ مشترکہ تحقیقاتی ٹیم نے والیم 10 عام نہ کرنے کی استدعا کی تھی۔ اس فیصلے کے بعد نیب نے ریفرنس دائر کرنے کی تیاری شروع کرنے کے لیے عدالت سے والیم 10 تک رسائی کی درخواست کی گئی جس عدالت نے قبول کرتے ہوئے والیم 10 کی کاپی نیب کو دے دی تھی ، جسٹس اعجاز الحسن بیرون ملک چھٹیوں پر تھے، اب وہ پاکستان واپس آ چکے ہیں مگر نیب کی اس درخواست پر اب تک کوئی فیصلہ نہیں ہوا کہ مشترکہ تحقیقاتی ٹیم کے ارکان کو ہدایت کی جائے کہ وہ نیب کی انویسٹی گیشن ٹیم کے روبرو پیش ہو کر اپنا بیان ریکارڈ کروائیں۔ نیب کا کہنا ہے کہ وہ غیر تصدیق شدہ دستاویزات پر ریفرنس دائر نہیں کر سکتی۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں
آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)


ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…