منگل‬‮ ، 25 اگست‬‮ 2026 

ایم کیو ایم نے اس 14 اگست کو یوم سیاہ منانے کا آڈیو پیغام دیا،مصطفیٰ کمال

datetime 17  اگست‬‮  2017 |

کراچی(آن لائن)پاک سرزمین پارٹی کے چیئرمین مصطفی کمال نے کہا ہے کہ ایم کیو ایم پاکستان سے پاکستان کو نقصان ہو رہا ہے،الطاف جو ایم کیو ایم لندن کا بابائے قوم اور ایم کیو ایم پاکستان کا بانی پاکستان ہیں،الطاف حسین نے مودی کو مخاطب کیا کہ ایک الگ صوبہ بنایئں تا کہ مہاجر وہاں چلے جائیں،ایم کیو ایم نے اس 14 اگست کو یوم سیاء منانے کا آڈیو پیغام دیا ،الطاف حسین نے کارکنان کو حکم دیا کہ پاکستانی پرچم کو نظر آتش کیا جائے،ان تمام کاموں کی ویڈیوز بالخصوص انڈین چینلز کو بھیجی گئیں،

جشن ازادی کے دن یہ تمام ویڈیو انڈین چینلز نے نشر کی ،ان خیالات کا اظہار انہوں نے کراچی میں پی ایس پی کے مرکز پاکستان ہاؤس میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا،مصطفی کمال نے کہا کہ مجھے آج پاکستان کے لوگوں سے دل کی بات کرنی ہے ،جس طرح سے اس دفعہ پاکستان کے لوگوں نے بالخصوص کراچی کے لوگوں نے جشن ازادی منائی ہے اس پر انہیں خراج تحسین پیش کرتا ہوں، 70 سالوں میں اس طرح کا جشن ازادی کبھی کراچی میں نہیں منایا گیا،13 اگست کو ہماری ریلی میں ہزاروں لوگوں نے شرکت کر کر ملک دشمنوں کے فلسفہ کونستْ نابود کردیا ،انہوں نے کہا کہ ہم ریلی کے روٹ میں لاکھوں لوگوں کے درمیان سے گزرے، سب نے ہمارا استقبال کیا ،ایم کیو ایم پاکستان کے لیئے ایک ملک دشمن آج بھی بانی و قائد ہے، یہ سارا کام الطاف نے مہاجروں کا نام لیکر کر رہا ہے تاکہ باقی قومیتوں سے لڑائے مگر جن کے آباؤ اجداد نے اس ملک کی بنیادیں اپنے خون سے رکھی ہوں وہ کیسے اس شخص کا ساتھ دیے سکتے تھے،30 سال سے جو لوگ الطاف حسین کے ساتھ موجود تھے انہوں نے 14 اکست کو یوم سیاہ نہیں منایا، میں مہاجروں کو الطاف حسین کے حکم پر پرچم نظر آتش نہ کرنے پر خراج تحسین پیش کرتا ہوں، مہاجروں نے 30 سال بعد خود کو الطاف حسین سے الگ کردیا،3 مارچ 2016 کو ہم نے جو بھی بات کی تھی وہ سب سچ ثابت ہو رہی ہیں ،یہ شخص مہاجروں کا نام لے کر گالی بک رہا ہے،

آج جس مقصد کے لیے میں اور انیس قائم خانی پاکستان ائے تھے وہ پورا ہو گیا،مہاجروں کو الطاف حیسن کے نام سے جوڑ دیا گیا تھا،اس شخص نے مہاجروں کو گہری کھائی میں دکھیل دیا تھا ،الطاف حسین کو مہاجروں سے جوڑنا غلط ہے ،انہوں نے مزید کہا کہ الطاف حسین کو کراچی کے لوگوں نے خود سے الگ کر دیا ہے،تم کو مہاجروں نے اپنا نگہبان بنایا تھا،14 ساکوں تک تمھارا پاور فل گورنر رہا ،تم نے گورنر کو اس لیے نکالا کہ تمہاری بہن کے لیے بیان نہیں دیا،اس شہر کی اس حالت کے

زمہ دار ایم کیو ایم پاکستان اور ایم کیو ایم لندن ہیں،میں اج الطاف حسین کے بہن بھائیوں اور رشتہ داروں کو مشوارہ دے رہا ہوں،یہ الطاف حسین آپکو مروا دے گا ،اپ تمام بھائی بہن لندن جائیں اور اطلاف حسین کو پاگل خانے میں جمع کروائیں ،یہ آدمی پاگل ہو گیا ہے ،طارق میر اور انور صاحب نے پوری تیاری کر لی تھی کہ ان کو پاگل خانے جمع کروا رہے تھے اس وقت عشرت العباد خان نے بچا لیا تھا،انہوں نے کہا کہ ایم کیو ایم پاکستان کی وجہ سے ایم کیو ایم لندن اور الطاف حسین پھر سے مضبوط ہوئے ہے ،

،ان کا میئر پیسے پہنچا رہا ہے ،الطاف را کا ایجنڈ ہے ویڈیو بنا کر را سے پیسے لینا چاہتا ہے ،حکومت سے جو بھی اس شخص سے رابطہ کرے گا یہ شخص اسکے کہنے پر پرچم جلانے والوں کا نام د ے گا،میں پاکستان کی اسٹیبلیشمنٹ سے کہتا ہوں کہ جس طرح سے بلوچستان کے لوگوں کو معاف کیا گیا ہے ایسا ہی پیکج کراچی والوں کو بھی دیا جائے ،ایم۔کیو ایم پاکستان برائے فروخت ہے اور ضمیر فروشوں کا مسکن ہے، نون لیگ ہو یہ پیپلز پارٹیجو بھی ان کو پیسے دے گا یہ ان کیلیئے کام کریں گے ۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)


ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…