جمعرات‬‮ ، 27 اگست‬‮ 2026 

ایٹمی دھماکے کا بٹن کس نے دبایا؟نوازشریف کا حیرت انگیزانکشاف

datetime 6  جولائی  2017 |

وزیر اعظم کے طیارے سے (این این آئی) وزیر اعظم محمد نواز شریف نے کہاہے کہ مجھ سے جمہوریت کو کوئی خطرہ نہیں ہے ٗ پانا ما کیس پر سپریم کورٹ کے فیصلے کا انتظار ہے ٗ اچھے فیصلے کی توقع ہے ٗ جس نے ایٹمی دھماکے کا بٹن دبایا اسی کا جعلی احتساب ہورہاہے ٗ 2014میں دھرنوں کو دیکھ لیا ٗ لاک ڈاؤن بھی ناکام رہا ٗ دھرنے والے سازشیں کرتے رہے ہیں ان سے نمٹ لینگے ٗ ہم پر کوئی الزام نہیں ٗ نیت ٹھیک ہے ٗ

کوئی خورد برد نہیں کی ۔ جمعرات کو تاجکستان سے وطن واپسی پر طیارے میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ جس نے ایٹمی دھماکے کا بٹن دبایا اسی کا احتساب ہورہا ہے وہ بھی جعلی۔انہوں نے کہا کہ 2014 میں ان کے دھرنوں کو دیکھ لیا ٗلاک ڈاؤن بھی ناکام رہا، یہ ہر سازش میں شریک رہے اور سازشیں کرتے رہے، ان سے نمٹ لیں گے۔وزیر اعظم نے کہاکہ ہم پر کوئی الزام نہیں ٗبات صرف اللہ سے ہی کریں گے، ہماری نیت ٹھیک ہے، کوئی خوردبرد نہیں کی، تحقیقاتی عمل سے گزرنا چاہتے ہیں، مظلوم بھی ہم ہیں ٗاحتساب اورحساب بھی ہمارا ہورہا ہے ٗاحتساب کس چیز کا ہورہا ہے؟اور حالات کا تقاضا بھی یہی ہے میں نے کبھی بھڑک نہیں ماریوزیراعظم نے صحافیوں سے سوال کیا کہ قومی خزانے میں کوئی لوٹ کھسوٹ ہوئی؟ کوئی الزام ہی بتا دیں ٗ جے آئی ٹی سے پوچھا ہم پر الزام کیا ہے؟ کوئی جواب نہیں ملا ٗ ہم نے دھرنے والوں سے مذاکرات کی بڑی کوشش کی ٗ ٹی او آر مل کر بنانے پر اتفاق کی کوششیں بھی کیں لیکن ان کے مقاصد کچھ اور ہیں۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہاکہ گزشتہ سال فیصلے کرسکتے تھے کہ عوام سے دوبارہ مینڈیٹ لیں پھر طے کیا کہ جو مینڈیٹ ملا ہے اس سے فائدہ اٹھاتے ہوئے قوم کی خدمت جاری رکھیں آگے دیکھیں گے کہ کیا راستہ اختیار کر نا ہے ۔وزیر اعظم نے کہاکہ دورہ تاجکستان کامیاب رہا ٗ

افغان صدر نے تجارتی راہداری کیلئے بھارت کو راستہ دینے کی تجویز دی جس پر ہم نے کہا پہلے پاکستان، تاجکستان اور افغانستان اپنے معاملات بہتربنالیں، بھارت سے متعلق معاملہ بعد میں دیکھیں گے۔ انہوں نے کہا کہ مقبوضہ کشمیر میں بھارت کی جانب سے مظالم کا سلسلہ جاری ہے اورکچھ ہی دنوں میں 100 سیزائد کشمیری شہید کردیئے گئے، ایسے حالات میں بھارت سے کاروبار کی بات کیسے ہوسکتی ہے۔وزیراعظم نے افغانستان کے الزامات کا جوبا دیتے ہوئے کہاکہ ہماری طرف سے کوئی مداخلت نہیں ہورہی جبکہ مقبوضہ کشمیر میں مظالم سے پاک بھارت تعلقات خراب ہوئے لہذا بھارت کو مقبوضہ کشمیر میں مظالم بند اور مسئلہ کشمیر کے حل کی طرف آنا چاہیے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



سنت یہ بھی ہے


ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…