جمعرات‬‮ ، 27 اگست‬‮ 2026 

دریاؤں میں طغیانی ،تین شہروں سمیت 1084دیہات زیر آب آنے کا امکان،ایمرجنسی نافذ

datetime 2  جولائی  2017 |

سیالکوٹ (آئی این پی )دریاؤں اور ندی نالوں میں طغیانی ،سیالکوٹ ،سمبڑیال ،پسرور شہر سمیت 1084دیہات زیر آب آنے کا امکان ،سیلاب کی پیشگی اطلاع کیلئے جدید ریڈار سسٹم نصب کرنے کا فیصلہ، شہریوں کو بچانے کیلئے آبی ذخیرروں کے اطراف کے رہائشےؤں کا گھر گھر سروے مکمل ،ہنگامی اطلاعات کیلئے موبائل نمبر ،بیمار اور مزدور افراد کا ڈیٹا بھی حاصل کرلیا گیا۔ گہرے پانی اور تھوڑے پانی میں

تیرنے والی 35کشتیاں سیالکوٹ پہنچا دی گئیں ۔تفصیلات کے مطابق صوبائی ڈیزاسٹر مینجمنٹ نے خبردار کیا ہے کہ جولائی سے 15اکتوبر سال 2017 ء تک سیالکوٹ کے دریائے چناب میں 8لاکھ 90ہزار کیوسک ،دریائے جموں توی میں 1لاکھ 50ہزار کیوسک ،دریائے مناور توی میں 25ہزار کیوسک ،نالہ ایک میں 42ہزار کیوسک، نالہ ڈیک میں 48ہزار کیوسک ،نالہ پلکھو میں 7ہزار کیوسک ،نالہ بھیڈ میں 800کیوسک تک سیلابی ریلے کے گزرنے کا امکان ہے۔ دریائے چناب ،جموں توی اور مناورتوی تحصیل سیالکوٹ کے علاقہ بجوات کے 85 ،سمبڑیال کے 25،نالہ پلکھو تحصیل سیالکوٹ کے 50جبکہ سمبڑیال کے 70،نالہ ایک سیالکوٹ شہر اور تحصیل سیالکوٹ ،ڈسکہ، سمبڑیال کے 100کے قریب جبکہ نالہ ڈیک تحصیل پسرور کے شہر سمیت 250دیہات ،سیالکوٹ نارووال ریلوے ٹریک ،سیالکوٹ نارووال روڈ، پسرور ڈسکہ روڈ کو شدید متاثر کریگا۔ نالہ ایک ،نالہ پلکھو اور دریائے چناب میں بیک وقت طغیانی کے باعث سیالکوٹ انٹرنیشنل ائیر پورٹ میں بھی سیلابی پانی داخل ہوسکتا ہے۔ جبکہ نالہ ایک کا پانی حاجی پورہ کے مقام پر سیالکو ٹ شہر کو بہاری کالونی ،ایمن آباد روڈ، پسرور روڈ او ر سیالکوٹ وزیر آباد روڈ کو متاثر کرسکتا ہے۔ دریائے جموں توی سید پور پھوکلیان روڈ کو متاثر کریگا۔ نالہ حسری پسرور چونڈہ روڈ کو متاثر کرسکتا ہے۔

اس دوران سیالکوٹ کا نارووال سے زمینی رابطہ منقطع جبکہ پسرور کا سیالکوٹ ،ڈسکہ اور نارووال سے رابطہ منقطع ہو سکتا ہے۔ جس کی بناء پر سیالکوٹ میں تمام حفاظتی انتظامات بروقت مکمل کرنے کی پلاننگ کرلی گی ہے۔ اور آبی زخیرروں کے اطراف میں رہائشیوں کو پیشگی اطلاع کیلئے ان کے موبائل نمبرز حاصل کرلئے گئے ہیں۔ جدید ریڈار سرحد پار اطلاعات کی فراہمی تین روز قبل فراہم کریگا۔

جس پر انتظامیہ شہریوں کو محفوظ مقامات پر منتقل کرنے کیلئے ہنگامی بنیادوں پر اقدامات کریگی۔ اس سلسلہ میں 35کشتیاں جدید گہرے اور کم پانی میں گر ے ہوئے شہریوں کو نکالنے کیلئے سیالکوٹ میں پہنچا دی گئی ہیں۔ضلعی انتظامیہ کے ذرائع کے مطابق سیلاب کی تباہ کاریوں سے شہریوں اور ان کے مال ومویشی کو بھی محفوظ بنانے کیلئے فلڈ ریلیف سینٹر ،فلڈ ہیلتھ سینٹر اور عارضی کیمپوں کی نشاندہی مکمل کرلی گئی ہے ۔

سرکاری ہسپتالوں ،ڈی ایچ کیو، آر ایچ سی میں وافرمقدار میں سانپ کے کانٹے ، ڈائریا ،ٹائیفائیڈ اور الرجی سمیت موذی امراض کی ادویات سٹاک کر لی گئی ہیں۔امدادی کاررائیوں کیلئے ریسکیو 1122، سول ڈیفنس ،800سول رضا کار اور تمام اداروں کو حفاظتی انتظامات بروقت اور ہنگامی بنیادوں پر مکمل کرنے کی ہدایت کی گی ہے تاکہ کسی قسم کا کوئی ناخوشگوار واقعہ پیش نہ آسکے۔ یاد رہے کہ ڈسٹرکٹ سیالکوٹ میں 1597دیہات ہیں جن میں سے 1084دیہات کے متاثر ہونے کا امکان ظاہر کیا گیا ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



سنت یہ بھی ہے


ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…