جمعرات‬‮ ، 27 اگست‬‮ 2026 

مستونگ آپریشن میں2خودکش حملہ آوروں سمیت 12 دہشت گرد ہلاک ہوئے،پاک فوج

datetime 8  جون‬‮  2017 |

راولپنڈی(آن لائن)پاک فوج نے مستونگ میں یکم سے 3 جون کے دوران دہشت گردوں کیخلاف کارروائیوں کی تفصیلات جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس آپریشن کے دوران 2 خودکش حملہ آوروں سمیت 12 دہشت گرد ہلاک ہوئے،آپریشن میں غاروں سے آئی ای ڈی بنانے کی سہولت، اسلحہ و گولہ بارود کا ذخیرہ برآمد ہوا ہے،کامیاب آپریشن کے باعث داعش کا بلوچستان میں انفرااسٹرکچر قائم کرنے سے پہلے تباہ کردیا جبکہ آرمی چیف قمر جاوید باجوہ نے

کامیاب آپریشن پر سدرن کمانڈ، خفیہ اداروں اور سیکیورٹی اداروں کو مبارکباد دی ہے۔پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ(آئی ایس پی آر)کے مطابق آپریشن کے دوران دو خود کش حملہ آوروں سمیت 12 انتہائی خطرناک دہشت گرد ہلاک ہوئے ہیں جبکہ فائرنگ کے تبادلے میں دو افسران سمیت فورسز کے 5 اہلکار زخمی ہوئے۔بیان میں کہا گیا کہ 10 سے 15 کالعدم تنظیم کے دہشت گردوں کی موجودگی کی اطلاعات پر یکم جون سے 3 جون تک مستونگ میں دہشت گردوں کے خلاف آپریشن کیا گیا تھا۔دہشت گردوں کی موجودگی کی اطلاعات اسپلنجئی، کوہ سیاہ، کوہ مروان میں تھیں اور ان دہشت گردوں کا تعلق کالعدم بی ایل اے اور لشکر جھنگوی سے تھا جبکہ یہ تنظیمیں داعش کے ساتھ مواصلاتی رابطے میں تھیں۔آئی ایس پی آر کے بیان میں بتایا گیا کہ کالعدم تنظیمیں داعش کو بلوچستان میں قدم جمانے کے لیے سہولت فراہم کررہی تھیں۔ان کا کہنا تھا کہ مولانا عبدالغفور حیدری پر حملہ کرنے والا دہشتگرد بھی اسی پناہ گاہ سے بھجوایا گیا تھا۔آئی ایس پی آر نے بتایا کہ آپریشن میں غاروں سے آئی ای ڈی بنانے کی سہولت، اسلحہ و گولہ بارود کا ذخیرہ برآمد ہوا ہے، جس میں 50 کلوگرام بارودی مواد،3 خودکش جیکٹس،18 گرنیڈ اور 6 راکٹ لانچر شامل ہیں۔پاک فوج نے بتایا کہ کامیاب آپریشن کے باعث داعش کا بلوچستان میں انفرااسٹرکچر قائم کرنے سے پہلے تباہ کردیا گیا ہے۔دوسری جانب آرمی چیف قمر جاوید

باجوہ نے کامیاب آپریشن پر سدرن کمانڈ، خفیہ اداروں اور سیکیورٹی اداروں کو مبارکباد دی ہے۔واضح رہے کہ اس سے قبل 3 جون کو سیکیورٹی حکام کے حوالے سے میڈیا میں یہ رپورٹس آئیں تھی کہ صوبہ بلوچستان کے ضلع مستونگ میں ایک اہم انسداد دہشت گردی آپریشن کے دوران داعش کے اہم کمانڈرز کو ہلاک کردیا گیا۔یہ آپریشن کوئٹہ سے اغوا کیے جانے والے دو چینی باشندوں کی بازیابی کیلئے انتہائی خفیہ معلومات کے تحت کیا گیا تھا، سیکیورٹی حکام کی جانب سے یہ دعوی بھی سامنے آیا تھا کہ آپریشن کے دوران چینی باشندوں کے اغوا میں استعمال ہونے والی گاڑی برآمد کرلی گئی۔گذشتہ ماہ مستونگ میں ہی سینیٹ کے ڈپٹی چیئرمین مولانا عبدالغفور حیدری کے قافلے پر ہونے والے خود کش دھماکے میں 28 افراد ہلاک ہوگئے تھے تاہم ڈپٹی اسپیکر اس حملے میں محفوظ رہے تھے۔سیکیورٹی ذرائع کا کہنا تھا کہ گذشتہ ہفتے کو مستونگ میں آغاز کیا جانے والا آپریشن انتہائی خفیہ رکھا گیا تھا تاکہ آپریشن کے حوالے سے کسی قسم کی اطلاعات لیک نہ ہوں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



سنت یہ بھی ہے


ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…