جمعرات‬‮ ، 27 اگست‬‮ 2026 

حسین نواز بالاخر پھنس ہی گئے،جے آئی ٹی میں وزیراعظم کے بیٹے کے ساتھ کیا ہوا؟حیرت انگیزانکشاف

datetime 28  مئی‬‮  2017 |

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک) سپریم کورٹ کے حکم پرپاناماکیس کی تحقیقات کرنے والی جے آئی ٹی نے وزیراعظم نوازشریف کے صاحبزادے حسین نوازکو30مئی کودوبارہ طلب کرلیاہے جبکہ وزیراعظم نوازشریف کی صاحبزاد ی کوبھی سوالنامہ فراہم کردیاگیاہے ۔نجی ٹی وی کے مطابق وزیراعظم نوازشریف کے صاحبزادے جب جے آئی ٹی کے سامنے پیش ہونے کےلئے آئے تواس وقت جے آئی ٹی کے ممبران نہیں آئے تھے

جس پرحسین نوازکوانتظارکرناپڑاجبکہ جے آئی ٹی ممبران کاحسین نوازکی پیشی کے 45منٹ بعدتک ممبرزکی آمدکاسلسلہ جاری رہا۔پیشی پرحسین نوازنے پوچھے گئے سوالوں کے تفصیلی جوابات طلب کئے گئے ہیں جبکہ حسین نواز جب جے آئی ٹی کے سامنے پیش ہوئے توانہوں نے اپنے اعتراضات دہرائے اورجے آئی ٹی کے سامنے گلہ کیاکہ مجھے کوئی سوالنامہ نہیں دیاگیا۔جس کےبعدجے آئی ٹی نے سپریم کورٹ کی جانب سے بھیجاگیاسوالنامہ ان کو فراہم کردیا۔ ۔پانامہ کیس کی تحقیقات کرنے والی جے آئی ٹی کے سامنے پیش ہونے سے قبل میـڈیا کے نمائندوں سے گفتگو کرتے ہوئے حسین نواز کا کہنا تھا کہ جے آئی ٹی نے ان کے کسی بھی کاروبار میں شمولیت ، ملکیت اور عہدوں سے متعلق تفصیلات سمیت انہیں پیش ہونے کا نوٹس دیا۔جس کیلئے 24گھنـٹے کا وقت دیا گیا ہے۔ میں اپنے وکیل کے ہمراہ پانامہ جے آئی ٹی کے سامنے پیش ہونے کیلئے آیا ہوں اور اگر وکیل کے ہمراہ مجھے پانامہ جے آئی ٹی کے سامنے بیان ریکارڈ نہ کروانے دیا گیا تو میں باہر آکر میـڈیا میں اپنا موقف دوں گا۔ اس موقع پر حسین نواز کا کہنا تھا کہ انہیں پانامہ جے آئی ٹی کی جانب سے کوئی سوالنامہ موصول نہیں ہوا۔ حسین نواز کا کہنا تھا کہ تمام ریکارڈ کے ہمراہ پانامہ جے آئی ٹی کے سامنے پیش ہونے کیلئے صرف 24گھنـٹے کا وقت دیا گیا ہے۔

حسین نواز کے جوڈیشل اکیڈمی پہنچنے پر سکیورٹی کے انتہائی سخت انتظامات کئے گئے تھے۔ واضح رہے کہ حسین نواز کی جانب سے دو دن قبل پانامہ جے آئی ٹی کے دو ممبران پر سیاسی وابستگیوں کا الزام لگایا گیا ہے اور دعویٰ کیا گیا تھا کہ پانامہ جے آئی ٹی کے ایک ممبر نے حدیبیہ پیپرملز کیس میں دوران تفتیش انہیں دھمکایا تھا۔ حسین نواز نے اس حوالے سے جے آئی ٹی کے دو ممبران کے خلاف ایک درخواست سپریم کورٹ میں بھی جمع کروا رکھی ہے جس کی سماعت 29مئی کو سپریم کورٹ کا 3رکنی بنچ کرے گا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



سنت یہ بھی ہے


ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…