جمعرات‬‮ ، 27 اگست‬‮ 2026 

29مارچ کو پاکستان نے عالمی عدالت کے ساتھ کس اقرار نامے پر دستخط کئے؟اس کا کلبھوشن کے معاملے پر کیا فرق پڑے گا؟ حیرت انگیزانکشافات

datetime 20  مئی‬‮  2017 |

اسلام آباد(این این آئی) اٹارنی جنرل اشتر اوصاف نے کہا ہے کہ پاکستان نے 29 مارچ کو عالمی عدالت انصاف (آئی سی جے) کے ساتھ جس اقرار نامے پر دستخط کیے اس کا مقصد حفاظتی دیواریں قائم کرنا تھا۔ نجی ٹی وی کے مطابق انہوں نے کہا کہ پاکستان نے پہلی بار آئی سی جے کے سامنے اپنے تحفظات رکھے ہیں اور بھارتی جاسوس کلبھوشن یادیو کے معاملے میں آئی سی جے کے دائرہ اختیار پر جو تحفظات اٹھائے گئے ہیں

ان میں پاکستان کی قومی سلامتی کو بھی جواز بنایا گیا ہے۔اشتر اوصاف نے اس تاثر کو رد کیا کہ پاکستان نے رواں برس مارچ میں اس طرح کے کیسز میں آئی سی جے کے دائرہ اختیار کو تسلیم کرنے سے متعلق اقرار نامے پر دستخط کیے اور کہا کہ پاکستان نے ستمبر 1960 میں ہی آئی سی جے کے دائرہ اختیار سے متعلق غیر مشروط اقرار نامہ کرلیا تھا۔اٹارنی جنرل 1960 میں ہونے والے اقرار نامے کی وضاحت کرتے ہوئے بتایا کہ اس اقرار نامے میں پاکستان نے کوئی تحفظات ظاہر نہیں کیے اور نہ ہی کوئی استثنیٰ مانگا۔انہوں نے بتایا کہ اس ڈکلیریشن کے ذریعے آئی سی جے کے لازمی دائرہ اختیار کو از خود ہی پاکستان نے تسلیم کرلیا تھا۔اشتر اوصاف نے کہا کہ سادہ لفظوں میں یہ کہا جاسکتا ہے کہ 1960 میں جو اقرار نامہ کیا گیا اس میں ہم نے کوئی استثنیٰ یا تحفظات ظاہر نہیں کیے۔اٹارنی جنرل اشتر اوصاف نے کہا کہ یہ تاثر دینے کی کوشش کی جارہی ہے کہ حکومت نے آئی سی جے کے لازمی دائرہ اختیار کو مارچ میں تسلیم کیا اور اس کے پیچھے کوئی بدنیتی ہے لیکن یہ درست نہیں۔انہوں نے کہا کہ مارچ میں کیے جانے والے اقرار نامے میں تو پاکستان نے پہلی بار فائروالز قائم کیں جس میں قومی سلامتی کے معاملے کو بھی شامل کیا گیا۔اشتر اوصاف نے کہا کہ کلبھوشن کے معاملے پر آئی سی جے کا فوکس ویانا کنونشن اور آپشنل پروٹوکول تھا جس کے بھارت اور پاکستان دونوں دستخطی ہیں۔

انہوں نے بتایا کہ آپشنل پروٹوکول آئی سی جے کو اس بات کا اختیار دیتا ہے کہ وہ رکن ممالک کے درمیان تنازع کا تصفیہ کرسکے۔اٹارنی جنرل نے ایک بار پھر واضح کیا کہ رواں برس مارچ میں کیے جانے والے مشروط ڈیکلریشن کے پیچھے کوئی بدنیتی نہیں ٗاگر ہمیں اس سے دستبردار ہونا ہے تو پھر 1960 کے ڈیکلریشن سے بھی دستبردار ہونا ہوگا جو بغیر کسی استثنیٰ کے آئی سی جے کو دائرہ اختیار دیتا ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



سنت یہ بھی ہے


ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…