جمعرات‬‮ ، 27 اگست‬‮ 2026 

’’پاک فوج نے کسے پھانسی پر لٹکا دیا‘‘

datetime 17  مئی‬‮  2017 |

راولپنڈی (این این آئی)فوجی عدالتوں سے سزا یافتہ چار مزید خطرناک دہشتگردوں کو بدھ کو پھانسی دیدی گئی ۔چاروں دہشتگرد بے گناہ شہریوں کے قتل ٗ تعلیمی اداروں کی تباہی ٗ مسلح افواج اور قانون نافذ کر نے والے اداروں پر حملوں میں ملوث تھے ۔دہشتگردوں کو خیبر پختون خوا کی ایک جیل میں پھانسی دی گئی تمام دہشتگردوں کے خلاف فوجی عدالتوں میں مقدمات چلائے گئے تھے ۔آئی ایس پی آر کی جانب سے پھانسی پانے والے دہشتگردوں کی جاری کی گئی

تفصیلات کے مطابق احمد علی ولد بخت کرم کالعدم تحریک طالبان پاکستان کا فعال رکن تھا وہ پاکستان کی مسلح افواج اور قانون نافذ کر نے والے داروں پر حملوں اور ایک تعلیمی ادارے کو تباہ کر نے میں ملوث تھا جس کے نتیجے میں فوجیوں اور شہریوں کی جانیں ضائع ہوئیں اور زخمی بھی ہوئے اس کے قبضے سے آتشین اسلحہ اور دھماکہ خیز مواد برآمد ہوا اس نے مجسٹریٹ اور ٹرائل کورٹ کے روبرو اپنے جرائم کا اعتراف کیا اور اسے موت کی سزا سنائی گئی ۔دوسرا دہشتگرد اصغر خان ولد عزیز الرحمن بھی  کالعدم تحریک طالبان پاکستان کا فعال رکن تھا وہ پاکستان کی مسلح افواج اور قانون نافذ کر نے والے داروں اور ایک تعلیمی ادار ہ کو تباہ کر نے میںملوث تھا جس کے نتیجے میں فوجیوں کی جانیں ضائع ہوئیں اور زخمی بھی ہوئے اس کے قبضے سے آتشین اسلحہ اور دھماکہ خیز مواد برآمد ہوا اس نے مجسٹریٹ اور ٹرائل کورٹ کے روبرو اپنے جرائم کا اعتراف کیا اور اسے موت کی سزا سنائی گئی۔تیسرا دہشتگرد ہارون الرشید ولد میاں سید عثمان بھی  کالعدم تحریک طالبان پاکستان کا فعال رکن تھا وہ پاکستان کی مسلح افواج اور قانون نافذ کر نے والے داروں پر حملوں اور ایک تعلیمی ادارے کو تباہ کر نے میں ملوث تھا جس کے نتیجے میں فوجیوں اور شہریوں کی جانیں ضائع ہوئیں اور زخمی بھی ہوئے اس کے قبضے سے آتشین اسلحہ اور دھماکہ خیز مواد برآمد ہوا اس نے مجسٹریٹ اور ٹرائل کورٹ کے روبرو اپنے جرائم کا اعتراف کیا اور اسے موت کی سزا سنائی گئی۔

چوتھا دہشتگرد گل رحمن ولد زرین بھی  کالعدم تحریک طالبان پاکستان کا فعال رکن تھا وہ پاکستان کی مسلح افواج پر حملے  میں ملوث تھا جس کے نتیجے میں ایک شہری اور ایک فوجی کی جان ضائع ہوئی اس کے قبضے سے  دھماکہ خیز مواد برآمد ہوا اس نے مجسٹریٹ اور ٹرائل کورٹ کے روبرو اپنے جرائم کا اعتراف کیا اور اسے موت کی سزا سنائی گئی۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



سنت یہ بھی ہے


ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…