جمعرات‬‮ ، 27 اگست‬‮ 2026 

بڑی تعداد میں افغان فوجیوں کی ہلاکت ،کتنے فوجی ہلاک ہوئے اوراس کاکون ذمہ دارہے؟آئی جی ایف سی نے وضاحت کردی

datetime 7  مئی‬‮  2017 |

چمن (مانیٹرنگ ڈیسک)انسپکٹرجنرل ایف سی میجرجنرل ندیم انجم نے افغانستان کووارننگ دی ہے کہ اگردوبارہ پاکستانی علاقے میں دراندازی کی کوشش کی تواس سے بھی زیادہ طاقت کے ساتھ جواب دیاجائے گا۔میجر جنرل ندیم انجم نے تصدیق کرتے ہوئے کہا ہے کہ چمن بارڈر پر افغانستان کے حملے کے بعد پاک فوج کی جوابی کارروائی میں 50 سے زائد افغان فوجی ہلاک، جب کہ 100 سے زائد زخمی ہوئے ہیں،

انہوں نے کہاکہ پاکستان کی جانب سے کارروائی میں افغان فوج کی 4 سے 5 چیک پوسٹیں بھی تباہ ہوگئی ہیں آئی جی ایف سی میجر جنرل ندیم انجم نے چمن میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہاکہ پہلے ہی افغان حکام کوبتادیاتھاکہ ہم مردم شماری کررہے ہیں اورپاکستان کے سرحدی علاقوں میں بھی مردم شماری کرینگ ے۔میجر جنرل ندیم انجم اگرہم چاہتے تو زیادہ فورس کا استعمال کرسکتے تھے، زیادہ طاقت سے جلد علاقہ خالی کراسکتے تھےاس لئے طاقت کااستعمال نہیں کیاگیاکہ سرحد کے دونوں طرف سول آبادی موجود ہے۔میجرجنرل ندیم انجم نے کہا کہ افغانستان کی5سےزیادہ پوسٹیں مکمل تباہ کیں، افغان فورسز نے بلااشتعال شہری آبادی کو نشانہ بنایا، افغان فورسز کی فائرنگ کا پاکستان نے بھرپور جواب دیا، اس موقع پر آئی جی ایف سی نے دو ٹوک لہجے میں کہا کہ کسی نے بھی خلاف ورزی کی تو بھرپور جواب دیں گے، افغان فورسز کی اتنی حیثیت نہیں کہ وہ وہ اکیلے یہ قدم اٹھاتی۔ میجر جنرل ندیم انجم اس میں کوئی شک نہیں نہ افغانستان بھارتی ایما پر بھی ایسی شر انگیزی کرسکتا ہے۔اس موقع پر آئی جی ایف سی نے تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان کے جوابے حملے میں افغان فورسز کے 50سے زائد اہلکار مارے گئے، جب کہ جوابی کارروائی میں100سے زائد اہلکار بھی زخمی ہوئے۔اس موقع پر انہوں نے اس بات کی بھی وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ افغان فورسز ہمارے مسلمان بھائی ہیں،

افغان فورسز کے نقصان پر خوشی نہیں، انتظامیہ نے متاثرین کیلئے اچھےانتظامات کیے، چمن میں ٹریفک معمول کے مطابق چل رہی ہے،تاہم دونوں ملکوں کے درمیان آمدو رفت افغانستان کے رویے سے مشروط ہے، افغان رویے میں بہتری کے بغیر یہ ممکن نہیں۔انہوں نے کہا کہ جنگ دونوں ملکوں کے مفاد میں نہیں، امید ہے کہ افغان قیادت اس مسئلے کو دیکھے گی۔آئی ایف سی نے اس موقع پرچمن کے لوگوںکا شکر یہ اداکیاکہ انہوں نے ہماری مکمل سپورٹ کی جس کےلئے چمن کے عوام کے شکرگزارہیں ۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



سنت یہ بھی ہے


ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…