بدھ‬‮ ، 07 جنوری‬‮ 2026 

پاناما کیس کافیصلہ،ڈان لیکس کاڈراپ سین،چوہدری نثار کے صبر کاک پیمانہ لبریز،کھری کھری سنادیں

datetime 21  اپریل‬‮  2017 |

ٹیکسلا(نیوزڈیسک) وفاقی وزیر داخلہ چودھری نثار علی خان نے کہا ہے کہ کہ کوئی بھی عدالتی فیصلہ کسی کی خواہش کے مطابق نہیں بلکہ آئین اور قانون کے مطابق ہوتا ہے۔ پاناما کیس کے فیصلے کے بعد لوگ عجیب وغریب منطق بیان کر رہے ہیں۔ اس کو دو تین کا فیصلہ قرار دینا درست نہیں ہے۔ معاملہ اب بھی عدالت میں ہے اسے سپریم کورٹ پر چھوڑ دیں۔ کسی بھی حل کے لیے سپریم کورٹ سے بڑا ادارہ کون سا ہے؟ عدالت عالیہ کو

سب کیلئے قابل قبول ہونا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ پاناما کیس کا فیصلہ متفقہ ہے۔ لیکن اسے فیصلے کو الگ الگ معنی دیے جا رہے ہیں۔ کوئی دو ججوں کی تعریف اور باقی 3 سے متعلق منفی باتیں کر رہا ہے۔ دو ججز نے فیصلے پر اختلافی نوٹ لکھا۔ جے آئی ٹی بنانے کے لیے پانچوں ججوں کے دستخط موجود ہیں۔ فیصلے میں یہ بھی کہا گیا کہ الزام لگانے والوں کے پاس شواہد نہیں ہیں۔ انہوں نے کہا کہ خدارا قانون اور آئین پر رحم کیا جائے۔ عدالتی فیصلے کو سیاست کی بھینٹ نہیں چڑھنا چاہیے۔چودھری نثار علی خان کا کہنا تھا کہ وزیراعظم نے خود کو احتساب کیلئے پیش کرنے کی روایت قائم کی حالانکہ ان پر کوئی پریشر نہیں تھا۔ تمام سیاسی جماعتیں جے آئی ٹی کے حق میں تھیں مگر اب عدالتی فیصلے پر عدالتیں لگائی جا رہی ہیں اور احتجاج کی باتیں کی جا رہی ہیں۔ عدالتی فیصلے پر تبصرے پر گریز کرنا چاہیے۔ وزیر داخلہ نے بتایا کہ ڈان لیکس کی رپورٹ پیر یا منگل کو پیش کر دی جائے گی۔انہوں نے بتایا کہ حکومت نے فیصلہ کیا ہے کہ ہم سپریم کورٹ کے فیصلے کو سپورٹ کریں گے اور وزیر اعظم میاں محمد نواز شریف نے پارٹی رہنماؤں کو سخت ہدایات دی ہیں کہ فیصلے کو تقسیم کریں۔ جو سپریم کورٹ کا فیصلہ ہے وہ سب کو قبول ہونا چاہیے۔ ان کا کہنا تھا کہ ہماری پرفارمنس پر تجزیہ نہیں بلکہ ناکردہ گناہوں پر ہوتا ہے۔ ہمارا موازنہ گزشتہ ادوار کی حکومتوں، معیشت

اور امن و امان کی صورتحال سے کیا جائے۔ الیکشن کو گزرے چند دن ہوئے تھے کہ دھرنے شروع ہوگئے اور کہا کہ یہ دھاندلی کر کے آئے ہیں۔ اب بھی یہ لوگ فیصلہ نہیں بلکہ شور شرابہ اور دھرنا چاہتے ہیں۔

موضوعات:



کالم



سائرس یا ذوالقرنین


میرے سامنے پتھروں کی مستطیل عمارت تھی‘ فرش کے…

ایک دن ذوالقرنین کے مقبرے پر

میدان کی پچھلی جانب پہاڑ تھے‘ ان پر تازہ برف…

کام یابی کے دو فارمولے

کمرہ صحافیوں سے بھرا ہوا تھا‘ دنیا جہاں کا میڈیا…

وزیراعظم بھینسیں بھی رکھ لیں

جمشید رتن ٹاٹا بھارت کے سب سے بڑے کاروباری گروپ…

جہانگیری کی جعلی ڈگری

میرے پاس چند دن قبل ایک نوجوان آیا‘ وہ الیکٹریکل…

تاحیات

قیدی کی حالت خراب تھی‘ کپڑے گندے‘ بدبودار اور…

جو نہیں آتا اس کی قدر

’’آپ فائز کو نہیں لے کر آئے‘ میں نے کہا تھا آپ…

ویل ڈن شہباز شریف

بارہ دسمبر جمعہ کے دن ترکمانستان کے دارالحکومت…

اسے بھی اٹھا لیں

یہ 18 اکتوبر2020ء کی بات ہے‘ مریم نواز اور کیپٹن…

جج کا بیٹا

اسلام آباد میں یکم دسمبر کی رات ایک انتہائی دل…

عمران خان اور گاماں پہلوان

گاماں پہلوان پنجاب کا ایک لیجنڈری کردار تھا‘…