جمعہ‬‮ ، 28 اگست‬‮ 2026 

لوڈشیڈنگ کا خاتمہ،حتمی تاریخ کا اعلان کردیاگیا

datetime 10  اپریل‬‮  2017 |

اسلام آباد (آئی این پی ) وزیراعظم محمد نوازشریف نے کہا ہے کہ جون 2018سے پہلے 8ہزار میگاواٹ بجلی نظام میں شامل ہوگی،لوڈشیڈنگ سے آزاد پاکستان کیلئے درست سمت میں گامزن ہیں،کم سے کم وقت میں بجلی کی قلت کا خاتمہ اولین ترجیح ہے،حکومت بجلی کی طلب اور رسد میں فرق کے خاتمے پر توجہ دے رہی ہے،صارفین کی سہولت کیلئے مختلف اداروں میں رابطوں کو مربوط بنایا جائے،گذشتہ تین سال میں بجلی کی

قلت کے خاتمے کیلئے تیزی سے کام کیا،بجلی کے جاری منصوبوں کی تکمیل میں تاخیر قطعی برداشت نہیں کی جائے گی۔وہ پیر کو توانائی سے متعلق کابینہ کمیٹی کے اجلاس سے خطاب کر رہے تھے۔اجلاس میں سیکرٹری پانی و بجلی نے اجلاس کو توانائی کی طلب میں اضافے پر بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ درجہ حرارت میں اضافہ اور پانی کی سطح میں کمی ہوئی،درجہ حرارت میں اضافے کے باعث بجلی کی طلب میں اضافہ ہوا ہے۔اجلاس کو بجلی کی طلب اور رسد کی موجودہ صورتحال سے آگاہ کیا گیا۔اجلاس میں لوڈمینجمنٹ پلان اور مختلف منصوبوں کی تکمیل پر بھی بریفنگ دی گئی۔بریفنگ میں بتایا گیا کہ 2017 کے آخر تک 5710 میگاواٹ بجلی نظام میں شامل ہوگی۔اجلاس میں گردشی قرضے،وصولیوں اور لائن لاسز سے متعلق امور بھی زیربحث آئے۔سیکرٹری پٹرولیم نے بجلی کی پیداوار کیلئے گیس اور ایندھن کی سپلائی پر بریفنگ دی،نئے گھریلو،صنعتی اور کمرشل گیس کنکشنز کے حوالے سے بھی اجلاس کو آگاہ کیا گیا۔اس موقع پر وزیراعظم محمد نوازشریف نے کہا کہ کم سے کم وقت میں بجلی کی قلت کا مکمل خاتمہ اولین ترجیح ہے،بجلی کے پیداواری منصوبے جلد سے جلد مکمل کئے جائیں،گذشتہ تین سال میں بجلی کی قلت کے خاتمے کیلئے تیزی سے کام کیا۔انہوں نے کہا کہ بجلی کے پیداواری اہداف کے حصول کے بنیادی کام مکمل ہوچکا ہے،جون 2018سے پہلے 8ہزار میگاواٹ بجلی

نظام میں شامل ہوگی،لوڈشیڈنگ سے آزادپاکستان کیلئے درست سمت میں گامزن ہیں۔وزیراعظم نے کہا کہ حکومت بجلی کی طلب اور رسد میں فرق کے خاتمے پر توجہ دے رہی ہے،حکومت مستقبل میں بجلی کی بڑھتی ہوئی ضروریات پر بھی توجہ مرکوز کئے ہوئے ہے،منصوبوں کے معیار اور کارکردگی پر سمجھوتہ نہیں ہونا چاہیے،صارفین کی سہولیات کیلئے مختلف اداروں میں رابطوں کو مربوط بنایا جائے،بجلی کے جاری منصوبوں کی تکمیل میں تاخیر قطعی برداشت نہیں کی جائے گی۔

کابینہ نے توانائی کمیٹی کی آر ایل این جی کے گھریلو گیس کنکشن دینے کی منظوری دی،صنعتی اور کمرشل صارفین کو بھی آر ایل این جی کے گیس کنکش دینے کی منطوری دی گئی۔کابینہ کمیٹی کی سفارشات وفاقی کابینہ کے اجلاس میں منظوری کیلئے پیش کی جائیں گی۔اجلاس میں وزیرخزانہ اسحاق ڈار،وزیرپانی و بجلی خواجہ محمد آصف،وزیرمنصوبہ بندی احسن اقبال،وزیراعلیٰ پنجاب شہبازشریف اور دیگر حکام نے شرکت کی۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



سنت یہ بھی ہے


ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…