منگل‬‮ ، 03 مارچ‬‮ 2026 

گستاخانہ مواد ،فیس بک کی بندش کامعاملہ،اہم فیصلے کرلئے گئے 

datetime 15  مارچ‬‮  2017 |

اسلام آباد(آئی این پی) وفاقی وزیرِ داخلہ چوہدری نثار علی خان نے کہا ہے کہ حکومت فیس بک اور دیگر سوشل میڈیا ویب سائٹس سے گستاخانہ مواد کے ہٹائے جانے کو یقینی بنانے کے لئے ہر آپشن استعمال کرنے کے لئے پرعزم ہے ، امید ہے کہ فیس بک انتظامیہ پاکستان کے بیس کروڑ سے زائد عوام اور کروڑوں صارفین کے مذہبی جذبات کا احترام کرتے ہوئے اس سلسلے میں مکمل تعاون فراہم کرے گی۔ ایف آئی اے سوشل میڈیا پر

گستاخانہ مواد کی تشہیر میں ملوث عناصر کی نشاندہی کے لئے دیگر حساس اداروں کی مدد بھی حاصل کی جائے۔ وہ بدھ کو گستاخانہ مواد کے خلاف جاری ایف آئی اے کی تحقیقات میں پیش رفت اور اس سلسلے میں وزیرِ اعظم پاکستان کی جانب سے کی جانے والے ہدایات کے حوالے سے اعلیٰ سطح کے اجلاس کی صدرات کر رہے تھے ۔ اجلاس میں سیکرٹری داخلہ، این سی نیکٹا، نادرا، پی ٹی اے اور ایف آئی کے سینئر افسران شریک تھے۔ ایف آئی اے حکام نے بتایا کہ اعلیٰ عدالت کے حالیہ فیصلے اور احکامات کی روشنی میں فیس بک انتظامیہ سے معلومات کے لئے باقاعدہ طور پردرخواست کی جا چکی ہے تاہم انکی طرف سے جواب کا انتظار ہے۔ اجلاس میں بتایا گیا کہ وزیرِ داخلہ کی ہدایت کے مطابق واشنگٹن میں پاکستانی سفارت خانے کے ایک سینئر افسر کو یہ ذمہ داری سونپی گئی ہے کہ وہ رائٹ ٹو انفارمیشن کے تحت فیس بک انتظامیہ سے مطلوبہ معلومات کے لئے کوششیں تیز کرے۔ وزیرِ داخلہ کی ہدایت پر ایف آئی اے کی جانب سے انٹرپول کو بھی ہدایت کی گئی ہے کہ وہ ایسے نفرت انگیز اور مذہبی منافرت پر مبنی فیس بک پیجز کی نشاندہی کرے جن کا شمار انٹرپول کے اپنے قوانین کے تحت سنگین جرائم میں ہوتا ہے۔ اس کے علاوہ بین الاقوامی عدالتوں میں اس کیس کی پیروی کے لئے معروف قانون دان فرخ کریم کی خدمات بھی حاصل کی جا رہی ہیں تاکہ قانونی طور پر فیس بک

کو اس بات کا پابند بنایا جائے کہ آزادی اظہار کے نام پر مسلمانوں کی دل آزاری کا آلہ کار نہ بنے اور ایسے مواد کی موثر طریقے سے روک تھام کو یقینی بنایا جائے۔ ایف آئی اے حکام نے بتایا کہ گستاخانہ مواد کی تشہیر اور اپ لوڈ کے حوالے سے اب تک گیارہ افراد کی نشاندہی کی جا چکی ہے اور ان سے تفتیش کا عمل شروع کیا جا رہا ہے۔ ایف آئی اے حکام نے بتایا کہ بعض افراد سے تفتیش کے حوالے سے انٹرپول کی مدد بھی لی جا رہی ہے۔



کالم



اختتام کا آغاز


’’ہمارے پاس صرف 35 سال ہیں‘ ہم ان میں جتنا جی…

امانت خان شیرازی

بادشاہ اس وقت برہان پور میں تھا‘ مغل دور میں…

ہائوس آف شریف

جنرل غلام جیلانی نے جنرل ضیاء الحق کو آرمی چیف…

نواز شریف کی سیاست میں انٹری

لارنس گارڈن کے کرکٹ گرائونڈ میں میچ چل رہا تھا‘…

چوہے کھانا بند کریں

ہندوستان کا کوئی شہزادہ مہاتما بودھ کے پاس گیا…

رعونت پر بکھری ہوئی خاک

کراچی میں وسیم انصاری نام کا ایک چھوٹا سا سٹیج…

وہ واقعہ جو کتاب میں نہیں

1999ء میں دو وزیراعظم ہانگ کانگ میں ایک ہی ہوٹل…

بخاریؒ کو امام بنانے والے لوگ

نویں صدی کا شہر بخاراتھا اور اس شہر میں ایک سادہ…

شوگر کے مریضوں کے لیے

گرو زاہد سے میرا رابطہ ایک ویڈیو کلپ سے ہوا تھا‘…

بسنت کے معاملے میں

یہ آج سے پندرہ برس پرانی بات ہے‘ میں اپنے بچوں…

بٹرفلائی افیکٹ

وہ دکان کے سامنے پریشان کھڑی تھی‘ اس کے بال الجھے…