جمعہ‬‮ ، 28 اگست‬‮ 2026 

پشاورزلمی نے کوئٹہ گلیڈی ایٹرزکوشکست دیکرپی ایل ایس ٹرافی جیت لی

datetime 5  مارچ‬‮  2017 |

لاہور(مانیٹرنگ ڈیسک) پاکستان سپر لیگ کے فائنل میچ پشاورزلمی نے کوئٹہ گلیڈی ایٹرز کو 58رنز سے ہراکرپی ایس ایل ٹرافی جیت لی ۔پشاورزلمی نے کوئٹہ گلیڈی ایٹرزکی طرف سے پہلے بیٹنگ کی دعوت پر148رنزبنائے تھے اورجیت کےلئے 149رنزکاہدف دیاتھاجوکہ کوئٹہ گلیڈی ایٹرزحاصل نہ کرسکی اورصرف 90رنزبناکرہی ڈھیرہوگئی ۔پشاورزلمی کی طرف سے دیئے گئے ٹارگٹ کوحاصل کرنے کےلئے کوئٹہ گلیڈی

ایٹرزکی طرف سے اوپنراحمد شہزاد ا ورمورنی نے اوپننگ کی لیکن ابتدامیں ہی مورنی رنزبنانے کی کوشش میں رن آئوٹ ہوگئے ۔اس کے بعد بھی کوئٹہ گلیڈی ایٹرزکاکوئی بھی کھلاڑی وکٹ پرجم کرنہ کھیل سکااورکوئٹہ گلیڈی ایٹرزکی وکٹیں یکے بعد دیگرے گرتی رہیں۔کوئٹہ گلیڈی ایٹرزکی طرف سے احمد شہزاد نے صرف ایک رن بنایا۔ کپتان سرفرازنے 22 رنز بنائے۔ سعد نسیم نے صرف4 رنز بنائے ۔10ویں اوورمیں ہی کوئٹہ گلیڈی ایٹرزکی 5وکٹیں گرگئیں لیکن ان کاسکورصرف 58رنزتھے۔جبکہ کوئٹہ گیڈی ایٹرزکی ٹیم 149رنزکاہدف حاصل نہ کرسکی اورصرف 90رنزبناکرہی ڈھیرہوگئی ۔جبکہ اس سے قبل پشاور زلمی کی طرف سے اوپننگ کامران اکمل اور ڈیوڈ ملان نے کی۔ دونوں کھلاڑیوں نے پراعتماد طریقے سے بیٹنگ کی اورزلمی کا سکور 42 رنز پر پہنچا دیا تو اس وقت ڈیوڈ ملان 17 رنز بناکرآئوٹ ہوگئے۔ اس کے بعدکامران اکمل اور مارلن سیموئلز نے جارحانہ کھیل پیش کیا .لیکن10ویں اوور کی آخری گیند پر کامران اکمل ایل بی ڈبلیو ہو گئے۔انہوں نے 40رنزسکورکئے ۔اس وقت پشاور زلمی کا سکور82رنز تھاجبکہ سیموئلز 19 رنزبناکرآئوٹ ہوگئے ۔اس کے بعد حسان خان بھی آئوٹ ہوگئے ۔ پشاور زلمی کی ٹیم نے 14ویں اوور کے اختتام پر100رنزسکورکئے ۔ اس کے بعد سکور ابھی 112 رنز پر پہنچا توپشاو رزلمی کی دووکٹیں یکےبعد دیگرگرگئیں ۔

محمد حفیظ صرف 12جبکہ افتخاراحمد صرف 14رنزبناکرآئوٹ ہوگئے ۔آخری اوورمیں ڈیرن سیمی نے جارحانہ کھیل پیش کیا۔ ۔پشاو رزلمی نے 20اووزمیں 6وکٹ پر148رنزبنائے ۔۔کوئٹہ گلیڈی ایٹرز کی طر ف سے ریاض امرت نے3 وکٹیں حاصل کیں جبکہ حسن خان نے 2اورمحمدنواز نے1 وکٹ حاصل کی۔کوئٹہ کے انور علی سب سے مہنگے بالر ثابت ہو ئے انہوں نے4اوورز میں43رنز دیکربھی کوئی وکٹ حاصل نہیں کی ۔
score(2)

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



سنت یہ بھی ہے


ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…