جمعہ‬‮ ، 28 اگست‬‮ 2026 

’’کیا ہم صرف تذلیل کیلئے ہی ہیں ؟ ‘‘

datetime 19  جنوری‬‮  2017 |

اسلام آباد(آئی این پی)سپریم کورٹ میں سانحہ کوئٹہ ازخودنوٹس کی سماعت میں آئی جی بلوچستان کمرہ عدالت میں جذباتی ہوکر آبدیدہ ہو گئے ۔آئی جی بلوچستان نے کہا کہ ہمیں کمیشن میں سنا نہیں گیا،آٹھ گھنٹے تک کٹہرے میں کھڑا کیا گیا،ہمیں کہا گیا کہ تم پرخداکی لعنت ہو۔جمعرات کو سپریم کورٹ میں سانحہ کوئٹہ ازخود نوٹس کی سماعت جسٹس امیر مسلم ہانی کی سربراہی میں دورکنی بینچ نے کی

۔آئی جی بلوچستان احسن محبوب نے عدالت میں کہا کہ بلوچستان کو ہم نے بہت بہتر کیا ہے،ہمیں کمیشن میں سنا نہیں گیا اور 8گھنٹے کٹہرے میں کھڑا کیا گیا،ہمیں کہا گیا کہ تم پرخدا کی لعنت ہو،جج نے مجھے کہا کہ شرم سے ڈوب مرو،کیا یہ ٹھیک ہے؟۔آئی جی بلوچستان نے کہا کہ کیا صرف ججز کی عزت ہے؟،ہم ذلیل ہونے کیلئے رہ گئے ہیں،خدا کی قسم کھا کر کہتا ہوں کہ کمیشن میں مجھے گالیاں دی گئیں،کیا انصاف اداروں کیلئے اور پولیس والے صرف ذلیل ہونے کیلئے ہیں۔انہوں نے کہا کہ مجھ سے غیر متعلقہ سوالات پوچھے گئے۔جسٹس امیر ہانی مسلم نے کہاکہٓپ جذباتی نہ ہوں۔ ہم نے آپ کے ساتھ ایسا سلوک نہیں کیا،جس پر آئی جی نے کہا کہ آپ نے ایسا سلوک نہیں کیا لیکن کمیشن نے ہمیں ذلیل کیا۔جسٹس امیر ہانی مسلم نے کہا کہ ہم آپ جیسے افسروں سے زیادہ توقعات رکھتے ہیں،جب بھی ایسا واقعہ ہوتا ہے۔ سوالات بھی سخت ہوتے ہیں،کمیشن سفارشات پر سیکیورٹی صورتحال میں بہتری لائی جاسکتی ہے۔سوال یہ ہے کہ ایسے واقعات سے کیوں بچ نہیں سکتے،کوئٹہ میں ایک سریاب روڈ ہے وہ بھی غیرمحفوظ ہے،آئی جی صاحب بتائیں،کوئٹہ پولیس سینٹر پرحملہ کا ذمہ دار کون ہے؟

،دیوار بنانا حکومت کی ذمہ داری تھی لیکن نہیں بنائی گئی،آئی جی نے جواب دیا کہ حکومت کو دیوار کے بارے میں بتایا اور اس پر عمل کا بھی کہہ دیاتھا۔جسٹس امیر ہانی مسلم نے کہا کہ آپ نے ایک دیوار کھڑی کرنے میں دوسال لگادیئے،روز دس اینٹیں لگاتے تودیوار مکمل ہوجاتی،سریاب روڈ پر ہردوسرے دن کوئی نہ کوئی واقعہ ہوجاتاہے،اگر سریاب روڈ محفوظ نہیں تو ڈی آئی جی وردی میں کیوں؟،سپریم کورٹ نے 6فروری تک سماعت ملتوی کرتے ہوئے اٹارنی جنرل کو نوٹس جاری کرکے وزارت داخلہ اور صوبائی وزارت داخلہ سے کمیشن کی رپورٹ پر سفارشات اور موقف طلب کرلیا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



سنت یہ بھی ہے


ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…