منگل‬‮ ، 03 مارچ‬‮ 2026 

’’کیا ہم صرف تذلیل کیلئے ہی ہیں ؟ ‘‘

datetime 19  جنوری‬‮  2017 |

اسلام آباد(آئی این پی)سپریم کورٹ میں سانحہ کوئٹہ ازخودنوٹس کی سماعت میں آئی جی بلوچستان کمرہ عدالت میں جذباتی ہوکر آبدیدہ ہو گئے ۔آئی جی بلوچستان نے کہا کہ ہمیں کمیشن میں سنا نہیں گیا،آٹھ گھنٹے تک کٹہرے میں کھڑا کیا گیا،ہمیں کہا گیا کہ تم پرخداکی لعنت ہو۔جمعرات کو سپریم کورٹ میں سانحہ کوئٹہ ازخود نوٹس کی سماعت جسٹس امیر مسلم ہانی کی سربراہی میں دورکنی بینچ نے کی

۔آئی جی بلوچستان احسن محبوب نے عدالت میں کہا کہ بلوچستان کو ہم نے بہت بہتر کیا ہے،ہمیں کمیشن میں سنا نہیں گیا اور 8گھنٹے کٹہرے میں کھڑا کیا گیا،ہمیں کہا گیا کہ تم پرخدا کی لعنت ہو،جج نے مجھے کہا کہ شرم سے ڈوب مرو،کیا یہ ٹھیک ہے؟۔آئی جی بلوچستان نے کہا کہ کیا صرف ججز کی عزت ہے؟،ہم ذلیل ہونے کیلئے رہ گئے ہیں،خدا کی قسم کھا کر کہتا ہوں کہ کمیشن میں مجھے گالیاں دی گئیں،کیا انصاف اداروں کیلئے اور پولیس والے صرف ذلیل ہونے کیلئے ہیں۔انہوں نے کہا کہ مجھ سے غیر متعلقہ سوالات پوچھے گئے۔جسٹس امیر ہانی مسلم نے کہاکہٓپ جذباتی نہ ہوں۔ ہم نے آپ کے ساتھ ایسا سلوک نہیں کیا،جس پر آئی جی نے کہا کہ آپ نے ایسا سلوک نہیں کیا لیکن کمیشن نے ہمیں ذلیل کیا۔جسٹس امیر ہانی مسلم نے کہا کہ ہم آپ جیسے افسروں سے زیادہ توقعات رکھتے ہیں،جب بھی ایسا واقعہ ہوتا ہے۔ سوالات بھی سخت ہوتے ہیں،کمیشن سفارشات پر سیکیورٹی صورتحال میں بہتری لائی جاسکتی ہے۔سوال یہ ہے کہ ایسے واقعات سے کیوں بچ نہیں سکتے،کوئٹہ میں ایک سریاب روڈ ہے وہ بھی غیرمحفوظ ہے،آئی جی صاحب بتائیں،کوئٹہ پولیس سینٹر پرحملہ کا ذمہ دار کون ہے؟

،دیوار بنانا حکومت کی ذمہ داری تھی لیکن نہیں بنائی گئی،آئی جی نے جواب دیا کہ حکومت کو دیوار کے بارے میں بتایا اور اس پر عمل کا بھی کہہ دیاتھا۔جسٹس امیر ہانی مسلم نے کہا کہ آپ نے ایک دیوار کھڑی کرنے میں دوسال لگادیئے،روز دس اینٹیں لگاتے تودیوار مکمل ہوجاتی،سریاب روڈ پر ہردوسرے دن کوئی نہ کوئی واقعہ ہوجاتاہے،اگر سریاب روڈ محفوظ نہیں تو ڈی آئی جی وردی میں کیوں؟،سپریم کورٹ نے 6فروری تک سماعت ملتوی کرتے ہوئے اٹارنی جنرل کو نوٹس جاری کرکے وزارت داخلہ اور صوبائی وزارت داخلہ سے کمیشن کی رپورٹ پر سفارشات اور موقف طلب کرلیا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



اختتام کا آغاز


’’ہمارے پاس صرف 35 سال ہیں‘ ہم ان میں جتنا جی…

امانت خان شیرازی

بادشاہ اس وقت برہان پور میں تھا‘ مغل دور میں…

ہائوس آف شریف

جنرل غلام جیلانی نے جنرل ضیاء الحق کو آرمی چیف…

نواز شریف کی سیاست میں انٹری

لارنس گارڈن کے کرکٹ گرائونڈ میں میچ چل رہا تھا‘…

چوہے کھانا بند کریں

ہندوستان کا کوئی شہزادہ مہاتما بودھ کے پاس گیا…

رعونت پر بکھری ہوئی خاک

کراچی میں وسیم انصاری نام کا ایک چھوٹا سا سٹیج…

وہ واقعہ جو کتاب میں نہیں

1999ء میں دو وزیراعظم ہانگ کانگ میں ایک ہی ہوٹل…

بخاریؒ کو امام بنانے والے لوگ

نویں صدی کا شہر بخاراتھا اور اس شہر میں ایک سادہ…

شوگر کے مریضوں کے لیے

گرو زاہد سے میرا رابطہ ایک ویڈیو کلپ سے ہوا تھا‘…

بسنت کے معاملے میں

یہ آج سے پندرہ برس پرانی بات ہے‘ میں اپنے بچوں…

بٹرفلائی افیکٹ

وہ دکان کے سامنے پریشان کھڑی تھی‘ اس کے بال الجھے…