اسلام آباد (آئی این پی) تین سال بعد چین پاکستان اقتصادی راہداری (سی پیک ) جسے وزیر اعظم پاکستان نواز شریف نے پورے خطے کیلئے ’’گیم چینجر ‘‘ قرار دیا ہے ،2016ء میں مکمل عملدرآمد میں داخل ہو گیا اور نمایاں پیشرفت حاصل کر لی گئی ہے۔
چینی سفیر متعینہ پاکستان سن وی ڈونگ نے کئی موقعوں پر اس امر کو دہرایا ہے کہ متعدد بجلی گھروں ، شاہرات اور گوادر بندرگاہ سے متعلق کئی منصوبوں سمیت سولہ جلد فائدے والے منصوبے زیر تعمیر ہیں اور ہزاروں کی تعداد میں مقامی لوگوں کیلئے روز گار کے نئے مواقع پیدا ہوئے ہیں۔چینی تجزیہ کار لایو ٹیان کے مطابق 17دسمبر کو کراچی میں موسس پاکستان حضرت محمد علی جناح ؒ کے مزار یا مزار قائد پر نئے فانوس کی تنصیب کی تقریب کے دوران چینی سفیر نے کہا کہ چین پاکستان اقتصادی راہداری ہمارے دونوں برادر ممالک کے درمیان زیادہ قابل عمل تعلق قائم کررہا ہے ، ہمار دوستانہ اشتراک عمل وسیع تر ترقی کے سنہری دور میں داخل ہورہا ہے ، جہاں تک توانائی کے شعبے کا تعلق ہے چین پاکستان میں بجلی کی قلت کے خاتمے کیلئے گرین کم کاربن والی اور پائیدار توانائی کی ترقی کو فروغ دینے میں مدددے رہا ہے ، متعد د پن بجلی گھر اور آبی بجلی گھر زیر تعمیر ہیں ، کراچی میں کوئلے سے چلنے والا پورٹ قاسم پاور پراجیکٹ کے بارے میں توقع ہے کہ وہ شیڈول سے قبل مکمل کر لیا جائے گا اور پاکستان کی بجلی کی قلت پر قابو پانے میں اہم کردار ادا کرے گا ،
چین کی پاور کنسٹرکشن کارپوریشن جس کے ذمہ کوئلے سے چلنے والے پورٹ قاسم پاور پراجیکٹ کی تعمیر بھی ہے کے چیئر مین یان جی یونگ نے چینی خبررساں ایجنسی کو بتایا کہ ہم صرف بڑے منصوبے لے کر نہیں آرہے ہیں ہم مستقبل کے توانائی کی ترقی بلیو پرنٹوں کے منصوبے ڈیزائن بنانے میں پاکستان جیسے ممالک کی مدد کررہے ہیں تا کہ ان کو درپیش مسائل کا ازالہ ہو سکے اور منصوبوں کو حقیقت کا روپ دیا جا سکے ۔



















































