جمعرات‬‮ ، 03 اپریل‬‮ 2025 

نیب کرپشن کو فروغ دینے لگا؟مشتاق رئیسانی سے کتنے ارب روپے پلی بارگین لے کر اسے چھوڑ دیا؟ سینئر سیاستدان نیب پر برس پڑے

datetime 22  دسمبر‬‮  2016
ہمارا واٹس ایپ چینل جوائن کریں

اسلام آباد ( آن لائن ) پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان نے کہا ہے کہ مشتاق رئیسانی نے 40 ارب کرپشن کی اور 2ارب واپس کر دیے، مشتاق رئیسانی کی پلی بارگین سے ثابت ہوگیانیب کرپشن کو فروغ دے رہاہے۔ جمعرات کے روز سوشل ویب سائٹ ٹویٹر پر اپنے پیغام میں چیئرمین تحریک انصاف عمران خان نے نیب پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ مشتاق رئیسانی کی پلی بارگین سے ثابت ہوگیانیب کرپشن کو فروغ دے رہاہے، مشتاق رئیسانی نے 40 ارب کرپشن کی اور صرف 2ارب واپس کیے،ایک اور پیغام میں چیئرمین تحریک انصاف عمران خان نے کہا کہ پرویز مشرف کا یہ کہنا کہ سابق آرمی چیف راحیل شریف نے بیرون ملک جانے اورمیرا نام ای سی ایل سے نکالنے کے لیے عدالت پر دباؤ ڈالا ، یہ ظاہر کرتا ہے کہ طاقتور طبقہ اگر قانون کی خلاف ورزی کرے تو اس کے لیے کوئی سزا نہیں ہے۔
دوسری جانب انسداد بدعنوانی کے قومی ادارے قومی احتساب بیورو(نیب)نے اپنے اس فیصلے کا دفاع کیا ہے جس کے تحت بلوچستان کے سابق سیکرٹری خزانہ مشتاق احمد ریئسانی کو دو ارب روپے کی رقم جمع کروانے پر چھوڑ دیا جائے گا۔ترجمان نیب کے مطابق مشتاق رئیسانی کی 2 ارب روپے کی پلی بارگین کی درخواست منظور کی گئی ہے۔وہ آئندہ دس سال تک کسی سرکاری ملازمت کے لیے نااہل ہوں گے اور کسی بینک سے قرضہ بھی نہیں لے سکیں گے۔تاہم مختلف حلقوں کی جانب سے اسے مجرم کے ساتھ رعایت کے طور پر دیکھا جا رہا تھا۔ اس فیصلے کے مخالفین کا کہنا تھا کہ جب مجرم پر میبنہ چالیس ارب کی خوردبرد کا الزام ہے تو محض دو ارب روپے ادا کر کے رہائی حاصل کرنا مناسب نہیں۔انٹیلیجنس بیورو کے سابق سربراہ مسعود شریف خٹک نے ایک ٹویٹ میں نیب کے فیصلے پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ اس کا مطلب ہے کرپشن کو ہاں کہنا۔ پلی بارگین کا مطلب ہے کہ نیب کرپٹ شخص کو کہہ رہا ہے چلو مل کر پنپیں۔مشتاق رئیسانی کے گھر پر چھاپے کے دوران 60 کر وڑ روپے کی مالیت سے زائد کی ملکی اور غیر ملکی کر نسی برآمد کی گئی۔نیب کے ترجمان نوازش علی نے فیصلے کا دفاع کرتے ہوئے کہا کہ اس سے خزانے کو آج تک پلی بارگین کی تاریخ میں سب سے بڑی رقم یعنی دو ارب روپے حاصل ہوں گے۔ تاہم انہوں نے اس فیصلے پر تنقید کو بے جا قرار دیا۔انھوں نے البتہ 40 ارب روپے کی بدعنوانی کے الزام پر کچھ نہیں کہا ہے۔ ان کا اصرار تھا کہ نیب متحرک ہے اور بدعنوانی کے خاتمے کے لیے کوششیں کر رہی ہے۔سیکرٹری خزانہ بلوچستان مشتاق رئیسانی پر ڈیڑھ ارب روپے کرپشن کا الزام تھا جس کے بعد نیب نے ان کے گھر پر چھاپہ مارکر 75 کروڑ روپے سے زائد نقد رقم برآمد کی تھی۔اس کے علاوہ ان کی کراچی میں بھی کروڑوں روپے مالیت کی جائیداد کا انکشاف ہوا تھا۔ نیب نے مشتاق رئیسانی کی گرفتاری کے بعد مشیر خزانہ بلوچستان خالد لانگو کو بھی گرفتار کیا تھا۔

موضوعات:



کالم



چانس


آپ مورگن فری مین کی کہانی بھی سنیے‘ یہ ہالی ووڈ…

جنرل عاصم منیر کی ہارڈ سٹیٹ

میں جوں ہی سڑک کی دوسری سائیڈ پر پہنچا‘ مجھے…

فنگر پرنٹس کی کہانی۔۔ محسن نقوی کے لیے

میرے والد انتقال سے قبل اپنے گائوں میں 17 کنال…

نارمل معاشرے کا متلاشی پاکستان

’’اوئے پنڈی وال‘ کدھر جل سیں‘‘ میں نے گھبرا…

آپ کی امداد کے مستحق دو مزید ادارے

یہ2006ء کی انگلینڈ کی ایک سرد شام تھی‘پارک میںایک…

بلوچستان میں کیا ہو رہا ہے (دوسرا حصہ)

بلوچستان کے موجودہ حالات سمجھنے کے لیے ہمیں 1971ء…

بلوچستان میں کیا ہو رہا ہے؟ (پہلا حصہ)

قیام پاکستان کے وقت بلوچستان پانچ آزاد ریاستوں…

اچھی زندگی

’’چلیں آپ بیڈ پر لیٹ جائیں‘ انجیکشن کا وقت ہو…

سنبھلنے کے علاوہ

’’میں خانہ کعبہ کے سامنے کھڑا تھا اور وہ مجھے…

ہم سیاحت کیسے بڑھا سکتے ہیں؟

میرے پاس چند دن قبل ازبکستان کے سفیر اپنے سٹاف…

تیسری عالمی جنگ تیار(دوسرا حصہ)

ولادی میر زیلنسکی کی بدتمیزی کی دوسری وجہ اس…