جمعہ‬‮ ، 06 فروری‬‮ 2026 

آرمی چیف جنرل قمر باجوہ بھی راحیل شریف کے نقش قدم پر آتے ساتھ ہی کن لوگوں کی سزائے موت کا حکم جاری کر دیا؟

datetime 5  دسمبر‬‮  2016 |

راولپنڈی(آئی این پی)آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے 4خطرناک دہشت گردوں کی سزائے موت کی توثیق کر دی ، یہ تما م دہشتگرد بے گناہ شہریوں کے قتل عام ،قانون نافذ کرنے والے اداروں کے اہلکاروں اور ایئرپورٹ سیکیورٹی فورسز پر حملوں میں ملوث تھے ۔پیر کو پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے مطابق آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے 4خطرناک دہشت گردوں کی سزائے موت میں توثیق کر دی ۔

سزائے موت پانے والے دہشت گرد معصوم شہریوں کے قتل ، دہشت گردی ، قانون نافذ کرنے والے اداروں اور ایئرپورٹ سیکیورٹی فورسز پر حملوں میں ملوث تھے ۔دہشت گردوں نے جناح انٹرنیشنل ایئرپورٹ کراچی، سی

آئی ڈی بلڈنگ کراچی ، سکھر میں آئی ایس آئی کے دفتر اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے قافلوں پر حملوں کی منصوبہ بندی کرکے دہشت گردی کی کاروائیاں کیں ۔ دہشت گرد ایس ایس پی چوہدری محمد اسلم سمیت

58افراد کے قتل میں ملوث تھے اس کے علاوہ انہوں نے ایس ایس پی فاروق اعوان سمیت 226دیگر افراد کو زخمی کیا ۔دہشت گردوں سے اسلحہ اور بارودی مواد بھی برآمد کیا گیا ۔ان مجرموں کو فوجی عدالتوں میں پیش

کیا گیا ۔دہشت گردوں کو جرائم ثابت ہونے پر ملٹری کورٹس کی طرف سے سزائیں سنائی گئیں ۔سزایافتہ دہشت گردوں میں عطا الرحمان ولد فقیر محمد ،محمد صابر ولد الف گل اور محمد فاروق بھٹی ولد محمد اسحاق شامل

ہیں جن کا تعلق کالعدم تنظیموں سے ہے اور وہ معصوم شہریوں ،قانون نافذ کرنے والے اداروں ، آئی ایس آئی کے حکام اور جناح انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر حملوں میں ملوث تھے ۔ان حملوں میں ایس ایس پی چوہدری محمد

اسلم سمیت 58افراد جاں بحق ہوئے ۔دہشت گردوں کے حملوں کے نتیجے میں ایس ایس پی فاروق اعوان سمیت 226دیگر افراد زخمی ہوئے ۔ان مجرموں نے مجسٹریٹ اور کورٹ میں پیش ہونے سے قبل اپنے جرم کا

اعتراف کیا جس پر انہیں موت کی سزا سنائی گئی ۔گل زرین ولد گل شریف کا تعلق ایک کالعدم تنظیم سے تھا جو پولیس حکام پر حملوں میں ملوث تھا ان حملوں میں پولیس کانسٹیبل سرتاج ، پولیس کانسٹیبل احمد خان جاں بحق

جبکہ ایس ایس پی فاروق اعوان 10دیگر افراد زخمی ہوئے ۔ ملزم کے قبضے سے آتشیں اسلحہ اور دھماکہ خیز مواد برآمد کیا گیا ۔ مجرم مجسٹریٹ عدالت سے پیشی سے قبل اپنے جرائم کا اعتراف کیا جس پر اسے سزائے موت سنائی گئی ۔

موضوعات:



کالم



آئل اینڈ سپیس وار


مجھے ایران میں مظاہروں کی پہلی اطلاع 31دسمبر 2025ء…

محبت تا ابد

وہ بے چارہ 1627ء تک غیر معروف اور نامعلوم تھا‘…

اصفہان میں دو دن

کاشان سے اصفہان کے لیے دو راستے ہیں‘ پہلا راستہ…

کاشان میں ایک دن

کاشان قم سے ڈیڑھ گھنٹے کی ڈرائیو پر واقع ہے‘…

قم میں آدھا دن

ہم تیسرے دن قم روانہ ہو گئے‘ قم تہران سے ڈیڑھ…

تہران میں کیا دیکھا (سوم)

مجھے امام خمینی کے تین مرلے کے گھر کے بعد شاہ…

تہران میں کیا دیکھا(دوم)

مجھے2024ء میں تہران میں امام خمینی کا گھر اور ایران…

تہران میں کیا دیکھا

ہمارا گروپ 25 دسمبر 2025ء کو تہران پہنچا‘ اسلام…

چھوٹی چھوٹی نیکیاں اور بڑے معجزے

اسلام آباد کا بائیس سالہ طالب علم طلحہ ظہور…

ونڈر بوائے

یہ بنیادی طور پر تین پاشائوں کی کہانی ہے‘ طلعت…

سہیل آفریدی کا آخری جلسہ

وہ جنرل کے سامنے بیٹھا‘ تھوڑی دیر دائیں بائیں…