سپریم کورٹ میں آج تک اتنا بڑا کام نہیں ہوا! ایک ہفتے میں کیا ہونے والا ہے؟ شیخ رشید کا دھماکے دار اعلان

  بدھ‬‮ 2 ‬‮نومبر‬‮ 2016  |  14:08

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک)عوامی مسلم لیگ کے سربراہ شیخ رشید نے کہاہے کہ سیاسی زندگی میں سپریم کورٹ نے پاناما لیکس سے بڑا کیس کبھی نہیں سنا ۔ نواز شریف پھنس گئے ہیں ان کا کیس بہت واضح ہے۔عمران خان ہمارا دوست اور بھائی ہے رہے گا۔الیکشن کمیشن کے باہر میڈیا سے بات کرتے ہوئے عوامی مسلم لیگ کے سربراہ شیخ رشید نے کہاکہ الیکشن کمیشن نے ایسے ارکان کو بھی نااہل قرار دیا جنھوں نے غیرقانونی اراضیوں پر قبضہ کیا ۔ ایک رکن اسمبلی ایسے تھے جنہوں نے اپنے بیٹوں کو فنڈنگ کی ۔ ایک ایسے رکن کو بھی نااہل


قرار دیا گیا جس کا ایک مسجد کے ساتھ مشترکہ بینک اکاؤنٹ تھا تاہم اس نے وہ اکاؤنٹ ظاہر نہیں کیا تھا۔ ایسی صورت حال میں نواز شریف کا کیس تو بہت واضح ہے، وہ پھنس گئے ہیں۔شیخ رشید احمد نے کہاکہ میری زندگی میں سپریم کورٹ نے پاناما لیکس سے بڑا کیس کبھی نہیں سنا، پاکستان کے عوام سپریم کورٹ کی طرف دیکھ رہے ہیں اور ایسا محسوس ہوتا ہے کہ الیکشن کمیشن بھی سپریم کورٹ کی طرف دیکھ رہا ہے ، اب قوم کی نظریں سپریم کورٹ پر ہوں گی اور امید ہے کہ سپریم کورٹ کیس کی سماعت روزانہ کی بنیاد پر کریگی تو فیصلہ ایک ہفتے مین ہی ہو جائے گاکیونکہ سپریم کورٹ کو چوروں کو سزا دینی ہے ۔ اگر بات کمیشن تک گئی تو ہم اپنے ٹی او آر دیں گے ۔ عوامی مسلم لیگ اوپن کورٹ کی حامی ہے اور اسی لیے اوپن کورٹ میں جانیکامشورہ دیا۔دھرنے اور جلسے میں شرکت کے حوالے سے شیخ رشید نے کہا کہ عمران خان میرے جلسے میں نہیں آئے تو کوئی بات نہیں، عمران خان ہمارا دوست اور بھائی ہے، ہم عمران خان کے اتحادی ہیں اور اتحادی رہیں گے، ہم تولڑائی کے حق میں تھے تاہم لوگوں نے شدید تکلیف اٹھائی ہے۔انہوں نے کہا کہ اب الیکشن کمیشن بھی سپریم کورٹ کی طرف دیکھ رہا ہے۔


موضوعات:

زیرو پوائنٹ

بڑے چودھری صاحب

انیس سو ساٹھ کی دہائی میں سیالکوٹ میں ایک نوجوان وکیل تھا‘ امریکا سے پڑھ کر آیا تھا‘ ذہنی اور جسمانی لحاظ سے مضبوط تھا‘ آواز میں گھن گرج بھی تھی اور حس مزاح بھی آسمان کو چھوتی تھی‘ یہ بہت جلد کچہری میں چھا گیا‘ وکیلوں کے ساتھ ساتھ جج بھی اس کے گرویدا ہو گئے‘ اس ....مزید پڑھئے‎

انیس سو ساٹھ کی دہائی میں سیالکوٹ میں ایک نوجوان وکیل تھا‘ امریکا سے پڑھ کر آیا تھا‘ ذہنی اور جسمانی لحاظ سے مضبوط تھا‘ آواز میں گھن گرج بھی تھی اور حس مزاح بھی آسمان کو چھوتی تھی‘ یہ بہت جلد کچہری میں چھا گیا‘ وکیلوں کے ساتھ ساتھ جج بھی اس کے گرویدا ہو گئے‘ اس ....مزید پڑھئے‎