ہفتہ‬‮ ، 29 اگست‬‮ 2026 

کوئٹہ کوبڑی تباہی سے بچالیاگیا،ن لیگی وزیراعلی کی نرالی منطق پرعوام حیران رہ گئے

datetime 25  اکتوبر‬‮  2016 |

اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک)کوئٹہ کے علاقے سریاب میں پولیس ٹریننگ سینٹر پر دہشت گرد وں کا حملہ ،سینٹر کے ہاسٹل پر قبضہ ، فائرنگ سے59 زیر تربیت اہلکار شہید ،جبکہ 116 اہلکار زخمی ہوگئے۔ تین دہشت گردوں کو مار دیا گیا ، 250 سے زائد زیر تربیت اہلکاروں کو بازیاب کرالیا گیا ۔علاقہ 4گھنٹے بعد کلیئر قرار دے دیا گیا ۔پولیس حکام نے بتایا کہ سریاب روڈ پر واقع پولیس ٹریننگ سینٹر میں تین مسلح افراد داخل ہوئے جنہوں نے پولیس ٹریننگ سینٹر کے ہوسٹل میں مورچہ سنبھال کر فائرنگ کردی جس کے نتیجے میں اب تک 59 اہلکار شہید جبکہ 116 اہلکار زخمی ہوئے ہیں جنہیں طبی امداد کیلئے سول ہسپتال کوئٹہ اور بولان میڈیکل کمپلیکس منتقل کر دیا گیا ہے جہاں ان کی حالت خطرے سے باہر بتائی جاتی ہے۔زخمیوں میں ایف سی اور پاک فوج کے بھی اہلکار شامل ہیں ،جن میں سے 8 کی حالت نازک بتائی جاتی ہے۔ دہشت گردوں کے حملے کی اطلاع ملنے ہی پولیس اور ایف سی کی بھاری نفری موقع پر پہنچ گئی اور سینٹر میں داخل ہوکر ہاسٹل اور حملہ آوروں کو گھیرے میں لے لیا۔بولان میڈیکل اسپتال میں 100 سے زائد زخمی لائے گئے ہیں جبکہ 16 ذخمیوں کو سول اسپتال کوئٹہ لایا گیا ہے۔وزیراعلیٰ بلوچستان ثنا اللہ زہری نے نجی ٹی وی چینل سے بات چیت کرتے ہوئے بتایا ہے کہ کوئٹہ میں دہشت گردوں کے حملے کی انٹیلی جینس اطلاع موجود تھی، تین چار دن پہلے ہائی الرٹ بھی کیا گیا تھا۔ انھوں نےمزید بتایا کہ دہشت گردوں کو شہر میں موقع نہیں ملا تو انھوں نے مضافات میں کارروائی کی۔ جبکہ وزیر اعلیٰ بلوچستان ثنا اللہ زہری نے انوکھی منطق پیش کی کہ کوئٹہ کو بچالیا گیا ہے۔

واضح رہےکے کل شب کوئٹہ کے علاقے سریاب میں نامعلوم مسلح دہشتگردوں نے پولیس ٹریننگ سینٹر پر حملہ کردیا ،سیکورٹی فورسز نے فوری طور پر علاقے کو گھیرے میں لے لیا ،سیکورٹی فورسز اور مسلح افراد کے درمیان فائرنگ کا تبادلہ ہوا،تمام ہسپتالوں میں ایمرجنسی نافذ کردی گئی ۔پیر کی شب کوئٹہ کے علاقے سریاب میں نامعلوم مسلح دہشتگردوں نے پولیس ٹریننگ سینٹر پردھاوا بول دیا اور فائرنگ شروع کردی جس سے چار اہلکار زخمی ہوگئے ۔واقعے کی اطلاع ملتے ہی ایف سی اور دیگر سیکورٹی فورسز کے اہلکار موقع پر پہنچ گئے اور علاقے کو گھیرے میں لے لیا۔حملہ آواروں کی تعداد پانچ سے چھ بتائی جاتی گئی،ٹریننگ سینٹر میں500زیر تربیت اہلکار موجود تھے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



سنت یہ بھی ہے


ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…